جے آئی سی کے منتظمین اور اس سے متعلق دیگر افسران تمام افراد کی موت کی وجہ کورونا بتانے سے انکار کرتے ہیں۔ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ جے آئی سی میں پولیس اہلکار اور قیدی سبھی ساتھ رہتے ہیں اور کورونا ہونے کے صورت حال میں اس کی زد میں سبھی آتے۔

اس حراستی مرکز کا جائزہ لینے کی بی بی سی کی درخواست کو اہلکاروں نے یہ کہتے ہوئے خارج کر دیا کہ وہاں کسی کو جانے کی اجازت نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہاں تک کہ وہاں کسی اہلکار کے ریٹائرمنٹ کے لیے منعقد تقریب میں بھی فوٹو لینا غیر ممنوع ہے۔

ایک مختصر عرصے میں پانچ اموات کئی سوال پیدا کرتی ہیں، لیکن اہلکار دعویٰ کرتے ہیں کہ ان قیدیوں کے ساتھ نرم دل برتاو کیا جاتا تھا۔ جے آئی سی کے سابق اور موجودہ افسران کا کہنا ہے کہ وہ اکثر قیدیوں کے ساتھ کرکٹ، والی بال اور کیرم جیسے کھیل کھیلتے ہیں۔

گلاب جڈیجا نے بتایا کہ وہ کبھی کبھار ذہنی معذور قیدیوں سمیت سبھی زیر حراست افراد کو موسیقی کے لیے بٹھاتے تھے، ‘مجھے میوزک کا شوق تھا اور سب کو نچاتا تھا۔ وہ سب ڈانس کرتے تھے اپنے طریقے سے۔ وہ بول نہیں پاتے تھے، لیکن سنگیت کی زبان سمجھتے تھے۔‘

انھوں نے قیدی خالد کو اپنی دھنوں پر ناچتے ہوئے یاد کرتے ہوئے کہا کہ ‘خوش ہو جاتا تھا، پھر مجھ سے بسکٹ کا پیکٹ مانگتا تھا تو میں اسے پارلے جی دیا کرتا تھا۔‘

ان ہلاک افراد میں سے خالد، جو کہ جولائی 2009 سے حراست میں تھے، سب سے طویل عرصے تک جے آی سی میں قید تھے۔

گلاب جڈیجہ نے دعویٰ کیا کہ انڈین حکومت نے خالد کی فیملی کے افراد کا پتا لگانے کے لیے پاکستانی ٹی وی چینلوں پر بھی اشتہار دیا تھا۔ یہ افراد علاج کے لیے ڈاکٹر تلوانی سے اکثر ملتے تھے اور وہ ان سبھی افراد کو اچھی طرح سے جانتے تھے۔ ‘جن لوگوں کو آپ ہر مہینے دیکھتے ہوں، ان سے آپ کا ایک طرح کا لگاؤ ہو جاتا ہے۔‘

‘خالد کو تو میں ذاتی طور پر اچھی طرح جانتا تھا۔ ہم سبھی نے اس کے لیے بہت محنت کی تھی۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ ‘وہ بولتا نہیں تھا۔ پھر ہم نے اسے احمد آباد کے ہسپتال میں بھیجا تھا۔ وہاں تھوڑا ٹھیک ہوا۔‘

لیکن انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ خالد کی موت کی خبر سن کر بہت حیران ہیں۔ ‘وہ جوان تھا۔ مجھے نہیں معلوم کہ آخرکار اس کے ساتھ کیا ہوا۔‘