انڈین بچے بہت زیادہ موٹے کیوں ہو رہے ہیں؟

745

گیتا پانڈے بی بی سی نیوز، دلی

 انڈیا جو کہ دنیا میں ایسے ممالک کی فہرست میں اوّل درجے پر ہے جہاں بچوں کا قد عمر کے لحاظ سے مناسب طور پر بڑھ نہیں پاتا اور اب وہاں خطرناک حد تک موٹاپے کا شکار بچوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس صورتحال کو کنٹرول نہ کیا گیا تو یہ وبا کی مانند پھیل جائے گا۔جب 14 سالہ میہر جین پہلیبار سنہ 2017 میں دلی کے میکس ہسپتال میں ویل چیئر پر آئے تو ڈاکٹر پرادیپ چوبے نے جو کہ موٹاپے کے شکار افراد کا علاج کرتے ہیں کہا کہ مجھے `اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آ رہا تھا۔‘میہر بہت زیادہ موٹاپے کا شکار تھے۔ وہ ٹھیک طریقے سے کھڑے بھی نہیں ہو سکتے تھے اور اپنے پھولے ہوئے منھ کی وجہ سے اپنی آنکھیں پوری طرح سے نہیں کھول سکتے تھے۔ان کا وزن 237 کلو اور باڈی ماس انڈیکس 92 تھا۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق اگر کسی کا بی ایم آئی 25 یا اس سے زیادہ ہے تو وہ نارمل وزن کا حامل نہیں یعنی اسے اوور ویٹ تصور کیا جاتا ہے۔کئی ہفتے تک علاج اور گیسٹرک بائی پاس سرجی کے بعد میہر کا وزن 237 کلو سے 165 پر آ گیا۔اس وقت میہر لڑکپن میں دنیا کے سب سے زیادہ وزن کے حامل فرد قرار دیے گئے۔

یہ لیبل مبالغہ آرائی ہو سکتا ہے۔ مگر انڈیا موٹاپے کے شکار افراد کا گھر تصور کیا جاتا ہے جہاں ایک اندازے کے مطابق ایک کروڑ اسّی لاکھ بچے اس کا شکار ہیں اور یہ تعداد بڑھتی چلی جا رہی ہے۔سنہ 2019 سے 2021 کے دوران نیشنل فیملی ہیلتھ سروے، این ایف ایچ ایس فائیو جسے گھر گھر جا کر کیے جانے والا سب سے جامع سروے تصور کیا جاتا ہے میں یہ سامنے آیا کہ تین اعشاریہ چار فیصد بچے جن کی عمر پانچ برس سے کم تھی اب اوور ویٹ ہیں یہ شرح سنہ 2015-16 میں دو اعشاریہ ایک فیصد تھی۔بظاہر دیکھنے میں تو یہ تعداد کم لگتی ہے مگر ڈاکٹر ارجن ڈی واگٹ جو کہ یونیسیف انڈیا میں نیوٹریشن کے شعبے میں سربراہ ہیں کا کہنا ہے کہ انڈین آبادی کے حجم کی وجہ سے `یہ بہت کم تناسب بھی بہت بڑی تعداد ہو سکتا ہے۔‘یونیسیف کے سنہ 2022 میں موٹاپے کے حوالے سے جاری ہونے والے نقشے کے مطابق انڈیا کے بارے میں یہ پیش گوئی ہے کہ وہاں سنہ 2030 تک موٹاپے کے شکار بچوں کی تعداد دو کروڑ ستر لاکھ سے بڑھ سکتی ہے اور دنیا میں موٹاپے کے شکار دس بچوں میں ایک یہاں ہے۔انڈیا 183 ممالک کے انڈیکس میں 99 نمبر پر ہے۔ اگر اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیاری اور اس کے معیشت پر اثرات کے لحاظ سے دیکھا جائے تو خرچ 2019 میں لگائے گئے 23 بلین امریکی ڈالر سے بڑھ کر 2060 تک 479 امریکی ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔

ڈاکر ڈی واگٹ کہتے ہیں کہ ہم انڈیا میں بچوں میں موٹاپے کے برے مسئلے پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔`اور کیونکہ رویہ جو موٹاپے کا سبب بنتا ہے وہ بچپن میں سے ہی شروع ہوتا ہے، فربہ بچے بڑے ہو کر بھی موٹاپے کا شکار رہتے ہیں۔‘اور صحت کے حوالے سے ماہرین کی یہی سب سے بڑی پریشانی ہے۔اقوام متحدہ کے ادارہ برائے صحت کے مطابق جسم پر بہت زیادہ چربی ایسے امراض کا خطرہ بڑھاتے ہیں جو دوسروں کو منتقل نہیں ہوتا جس میں کینسر کی مختلف اقسام، ذیابیطس ٹائپ ٹو، دل کے اور پھیپھڑوں کے امراض شامل ہیں اس سے وقت سے پہلے موت ہو سکتی ہے۔گذشتہ برس دنیا بھر میں موٹاپے کی وجہ سے 28 لاکھ افراد موت کے منھ میں چلے گئے۔انڈیا سب سے زیادہ موٹاپے کے شکار ہونے والے بالغ افراد کے ممالک کی فہرست میں پہلے ہی پانچویں نمبر پر آ چکا ہے۔ایک اندازے کے مطابق سنہ 2016 میں انڈیا میں تیرہ کروڑ پچاس لاکھ افراد کا یا تو وزن زیادہ تھا یا پھر وہ موٹاپے کا شکار تھے اور ان کی تعداد بڑھ رہی تھی۔ڈاکٹر ڈی واگٹ کے مطابق انڈیا میں پانچ سال سے کم عمر 36 فیصد بچوں کا قد اپنی عمر کے مطابق نہیں بڑھ پاتا۔ غذائی قلت سے نمٹنے کے لیے ہم جو کچھ حاصل کر رہے ہیں وہ ضرورت سے زیادہ غذائیت سے پورا ہوتا ہے۔ڈاکٹر ڈی واگٹ کہتے ہیں کہ لوگ ایک ہی وقت میں کم اور زیادہ غذائیت کا شکار ہو سکتے ہیں۔ زیادہ وزن اور موٹاپا بہت زیادہ کھانے کی وجہ سے ہوتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ کوئی شخص وہ سب غذا لے رہا ہے جس کی اس کے جسم کو ضرورت ہے۔وہ کہتے ہیں کہ غدائیت سے متعلق لاعلمی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ان کا کہنا ہے کہ `اگر بچے کو متوازن غذا دی جائے جس میں کاربو ہائیڈریٹس، پروٹینز، وٹامنز، فروٹس اور ویجیٹیبل شامل ہیں، اس سے بچہ کم غذائیت اور حد سے زیادہ غدائیت سے بچا رہے گا۔ مگر لوگ نہیں جانتے اچھی خوراک کیا ہے، وہ اپنے شکم کو بھرنے کے لیے کھاتے ہیں، وہ زیادہ حرارے لے لیتے ہیں، زیادہ آسانی سے ملنے والی خوراک لے لیتے ہیںڈاکٹر ڈی واگٹ کا کہنا ہے کہ ڈیٹا سے پتہ چلتا ہے کہ اگرچہ بچپن میں موٹاپا ہو جانا سماجی طور پر ہر کلاس یا طبچے کے افراد کے لیے ایک مسئلہ ہے، یہ شہروں اور امیر خاندانوں میں زیادہ ہے جہاں بچوں کو ایسی خوراک اور ڈرنکس دی جاتی ہیں جن میں زیادہ چربی اور شوگر اور نمک ہوتا ہے۔سنہ 2019 میں میکس ہیلتھ کیئر نے دلی اور اپنے گرد و نواح میں سروے کیا۔

اس سروے میں پانچ سے سترہ برس کے درمیان کی عمر کے بچوں کو شامل کیا گیا تھا۔ ان بچوں میں سے کم ازکم 40 فیصد ایسے تھے جن کا وزن نارمل سے زیادہ تھا یا وہ موٹاپے کا شکار تھے۔ڈاکٹر کوبے کا کہنا ہے کہ نوجوان رات کو دیر سے سوتے ہیں اور اکثر رات دیر گئے کھاتے پیتے ہیں جن میں زیادہ تر غیر صحت مند سنیکس ہوتے ہیںرات دیر سے کھانے کے بعد وہ اپنی کیلوریز کو جلا نہیں پاتے اور سو جاتے ہیں اور دن میں بھی سوتے ہیں، وہ کاہل ہو جاتے ہیں مطلب یہ کہ وہ کیلوریز یا حرارے ضائع نہیں کرتے۔‘اس کے علاوہ بچے اپنا زیادہ تر وقت بھاگنے دوڑنے اور کھیلنے کے بجائے کمپیوٹر اور فونز پر لگاتے ہیں۔انھوں نے خبردار بھی کیا موٹاپا، اس کے اثرات صرف طبّی طور پر نہیں ہوتے ہیں بلکہ یہ زندگی کے ہر پہلو کو متاثر کرتا ہے جس میں نفسیاتی اور سماجی پہلو بھی شامل ہیں۔ اس طرح کے بچے اکثر تعصب کا سامنا کرتے ہیں اور سماجی طور پر تنہائی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ڈاکٹر راوندر کومیران ایک سرجن ہیں جو کہ انڈیا کے جنوبی شہر چنئی میں کام کرتے ہیں۔ وہ انڈیا میں موٹاپے کی روک تھام کے لیےقائم فاؤنڈیشن میں کام کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک ہم بچوں سے بات نہیں کریں گے ہم ملک میں موٹاپے کے مسئلے پر کنٹرول نہیں کر پائیں گے۔ان کا کہنا ہے کہ اگر آپ ابھی آدھے گھنٹے کے لیے ٹی وی دیکھیں آپ اس پر بہت سے اشتہارات جنک فوڈ کے بارے میں دیکھیں گے جو سافٹ ڈرنکس کی خوشنما بنا کر دکھا رہے ہوں گے۔ یہ ضروری ہے کہ غیر صحت مند جنک فوڈ کے بارے میں مسلسل طور پر دیے جانے والے غلط پیغامات کو بند کیا جائے۔ اور یہ صرف حکومت کی جانب سے ہی کیا جا سکتا ہے۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہمیں زیادہ بچوں کو گھر سے باہر لانے کی ضرورت ہے۔ان کا کہنا ہے کہ `بطور ملک ہم فزیکل فٹنس یعنی جسمانی فٹنس پر کچھ نہیں لگاتے۔ ہمارے شہروں میں فٹ پاتھ نہیں، سائیکل کے لیے محفوظ ٹریک نہیں اور بچوں کے لیے چند ہی کھیل کے میدان ہیں۔سپورٹس ویلیج، نوجوانوں کے کھیل کے کے لیے بنائی جانے والی ایک تنظیم ہے اور یہ تبدیلی کے لیے کوشاں ہیں، اس کے شریک بانی اور چیف ایگزیکٹیو آفیسر سومل ماجومدار نے بی بی سی سے بات کی۔

ان کا کہنا ہے کہ ہمارے ہاں زیادہ تر سکول ہی ہیں جو بچوں کو کھیل کے لیے سب سے زیادہ محفوظ جگہ مہیا کرتے ہیں، اس لیے سکولوں کو موٹاپے سے نمٹنے کے لیے اپنا کردار ضرور ادا کرنا چاہیے۔ڈھائی لاکھ سے زیادہ بچوں پر کیے جانے والے سروے میں یہ سامنے آیا کہ دو میں سے ایک بچے کا باڈی ماس انڈیکس صحت کے درجے پر نہیں تھا۔ بہت سے بچوں میں تبدیلی کو قبول کرنے کی اہلیت نہیں تھی، ان کا پیٹ بری حالت میں تھا یا پھر وہ جسمانی طاقت میں اچھے نہیں تھے اور سر اور دھڑ تک ایسا ہی صورتحال ہے۔ماجومدار کا کہنا ہے کہ یہ پالیسی کا مسئلہ نہیں ہے۔ تمام سکولوں میں فزیکل ایجوکشین کی کلاسز ہوتی ہیں، مگر جو بچے اس میں اچھے ہوتے ہیں عام طور پر انھیں ہی توجہ ملتی ہے۔ تو پھر اس سے وہ بچے لطف اندوز نہیں ہوتے جو کھیل میں انجوائے نہیں کرتے۔جیسے ہم یہ یقین رکھتے ہیں کہ فقط سکول میں بچے کو کسی بھی مضمون کی بنیادی تعلیم لینی ہوتی ہے بالکل اسی طرح انھیں فٹنس کے بنیادی لیولز کو بھی سکھایا جایا جانا چاہیے۔وہ کہتے ہیں کہ جس سکول کے ساتھ انھوں نے کام کیا میں اگلے برسوں میں بہتری دکھائی دی۔وہ مزید کہتے ہیں کہ کچھ کیسز میں ہم نے دیکھا کہ فٹ نس لیول کے کچھ پیمانوں میں پانچ سے سترہ فیصد تک بہتری آئی اور ہم نے مزید لڑکیوں کو کھیل کے لیے رضامند لیا، میرا خیال ہے کہ کھیل دنیا کے مسائل کا حل نکال سکتا ہے۔