• رجنیش کمار بی بی سی ہندی، نئی دہلی

دس فروری سنہ 1949 کو دہلی کے لال قلعے کے آس پاس عوام کی نقل و حرکت بند کر دی گئی تھی۔ لال قلعے کے اطراف سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات تھی۔ مہاتما گاندھی کے قتل سے متعلق عدالت کا فیصلہ آنے والا تھا۔

اس مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت لال قلعے کے اندر ہی قائم کی گئی تھی۔

تقریباً 11:20 کے لگ بھگ ناتھورام گوڈسے (مرکزی ملزم) کے ساتھ دیگر آٹھ ملزمان کو کمرہ عدالت میں لایا گیا۔ ملزمان میں سے صرف ایک یعنی ساورکر کے چہرے پر سنجیدگی تھی جبکہ نتھورام گوڈسے، نارائن آپٹے اور وشنو کرکرے مسکراتے ہوئے کمرہ عدالت میں داخل ہوئے۔

سیاہ سوٹ زیب تن کیے جج آتما چرن گیارہ بج کر تیس منٹ پر کمرہ عدالت میں پہنچے۔ جج نے بیٹھتے ہی ناتھورام گوڈسے کا نام پکارا جس پر گوڈسے اپنی جگہ پر کھڑے ہو گئے۔ پھر باری باری سب ملزمان کا نام پکارا گيا۔

جج آتماچرن نے گاندھی کے قتل میں ناتھورام گوڈسے اور نارائن آپٹے کو سزائے موت سُنائی۔ وشنو کرکرے، مدن لال پہوا، شنکر کسٹیا، گوپال گوڈسے اور دتاتریہ پارچور کو عمر قید کی سزا سنائی گئی۔

جج نے ساورکر کو بے گناہ قرار دیتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا حکم دیا۔

فیصلہ سننے کے بعد مرکزی ملزم گوڈسے سمیت ہر ایک نے کٹہرے سے باہر آ کر ’ہندو دھرم کی جے‘، ’توڑ کر رہیں گے پاکستان‘ اور ’ہندی ہندو ہندوستان‘ کے نعرے لگائے۔

یہ پہلا موقع نہیں تھا جب گوڈسے نے کمرہ عدالت میں نعرے لگائے ہوں۔

اس سے قبل لال قلعہ میں سماعت کے دوران آٹھ نومبر 1948 کو سماعت کی تکمیل کے بعد عدالت نے ناتھورام گوڈسے سے پوچھا کہ کیا وہ کچھ کہنا چاہتے ہیں۔ گوڈسے نے کہا کہ وہ 93 صفحات پر مشتمل اپنا بیان پڑھنا چاہتے ہیں۔

گوڈسے نے صبح 10 بج کر 15 منٹ سے بیان پڑھنا شروع کیا۔ بیان پڑھنے سے پہلے انھوں نے بتایا کہ تحریری بیان چھ حصوں پر مشتمل ہے۔ گوڈسے نے کہا کہ پہلے حصے میں سازش اور اس سے وابستہ چیزیں، دوسرے حصے میں گاندھی کی ابتدائی سیاست، تیسرا حصہ گاندھی کی سیاست کا آخری مرحلہ، چوتھا حصہ گاندھی جی اور ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد، پانچواں حصہ آزادی کے خواب کا ٹوٹ جانا اور آخری حصہ ’ملک دشمن اپیزمنٹ‘ کی پالیسی ہے۔

گوڈسے نے میڈیا سے اپیل کی کہ ان کے بیان کو بغیر کسی سیاق و سباق کے شائع نہ کیا جائے۔ 45 منٹ تک پڑھنے کے بعد گوڈسے غش کھا کر کمرے میں گر پڑے۔ کچھ دیر بعد انھوں نے دوبارہ تحریری بیان پڑھنا شروع کیا، انھیں پورا بیان پڑھنے میں پانچ گھنٹے لگے۔

اس دوران وہ بار بار پانی پیتے رہے۔ گوڈسے نے اپنے بیان کا خاتمہ ’اکھنڈ بھارت امر رہے‘ اور ’وندے ماترم‘ کے نعروں سے کیا۔

چیف پراسیکیوٹر نے گوڈسے کے بیان کو عدالت کے ریکارڈ سے ہٹانے کی درخواست کی اور کہا کہ یہ مکمل طور پر غیر اہم ہیں۔ اس پر گوڈسے نے عدالت میں کہا کہ انھیں ہندوستان کی موجودہ حکومت پر اعتماد نہیں ہے کیونکہ یہ حکومت ’مسلم پرست‘ ہے۔ تاہم جج آتماچرن نے گوڈسے کے بیان کو ریکارڈ سے ہٹانے سے انکار کر دیا اور کہا کہ عدالتوں میں تحریری بیانات قبول کر لیے گئے ہیں۔

اس دن بھی عدالت کا کمرہ کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔

نو نومبر سنہ 1948 کو جج آتماچرن نے ناتھورام سے 28 سوالات پوچھے۔

ایک سوال کے جواب میں، گوڈسے نے کہا: ’ہاں، میں نے گاندھی جی کو گولی ماری تھی۔ گولی لگنے کے بعد ایک شخص نے پیچھے سے مجھے سر پر مارا اور خون نکلنے لگا۔ میں نے اسے بتایا کہ میں نے وہی کیا جو میں نے منصوبہ بنایا تھا اور مجھے کوئی افسوس نہیں ہے۔ اس نے میرے ہاتھ سے پستول چھین لی۔ پستول آٹومیٹک تھا اور خدشہ تھا کہ اتفاقی طور پر کہیں نہ چل جائے۔ اس شخص نے مجھ پر پستول تان لی اور کہنے لگا کہ میں تمہیں گولی مار دوں۔ میں نے اس سے کہا کہ مجھے گولی مار دو۔ میں مرنے کے لیے تیار ہوں۔‘

مہاتما گاندھی کے پوتے اور گاندھی کے قتل پر ایک مستند کتاب (لیٹس کل گاندھی) لکھنے والے توشار گاندھی کہتے ہیں: ’یہ گوڈسے کا کورٹ روم ڈرامہ تھا۔ اس کا خیال تھا کہ وہ باپو کو قتل کر کے ہیرو بن جائیں گے اور ہندو ان کے اس کام سے متفق ہو جائیں گے۔ جب اس نے ایسا ہوتا ہوا نہیں دیکھا تو اس نے عدالت کے کمرے میں ڈرامہ کرنے کی کوشش کی۔‘

30 جنوری 1948

یہ ایک بہت ہی منحوس دن تھا۔ دہلی ریلوے سٹیشن پر ریستوراں سے ناشتہ کر کے ناتھو رام گوڈسے، ناراین آپٹے اور وشنو کرکرے برلا مندر کے لیے روانہ ہو گئے۔

گوڈسے نے برلا مندر کے پیچھے جنگل میں تین یا چار راؤنڈ فائر کیے اور پستول کا تجربہ کیا۔ صبح 11.30 بجے گوڈسے پرانی دلی ریلوے سٹیشن کے لیے اور کرکرے مدراس ہوٹل کے لیے نکل گئے۔ کرکے دوپہر دو بجے پرانی دلی ریلوے سٹیشن پہنچے۔ گوڈسے اور آپٹے نے وہاں ملاقات کی۔

شام کے ساڑھے چار بجے یہ تینوں ریلوے سٹیشن سے تانگے سے برلا مندر کے لیے روانہ ہوئے۔ گوڈسے نے برلا مندر کے پیچھے نصب شیوا جی کے مجسمے کا درشن کیا۔ آپٹے اور کرکرے، وہاں سے تقریبا چار کلو میٹر کے فاصلے پر برلا بھون چلے گئے، برلا بھون البقرق روڈ پر واقع تھا جو آج 30 جنوری روڈ کے نام سے موسوم ہے۔

برلا بھون کو اب ’گاندھی سمیتی‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ گوڈسے نے پرارتھنا (دعائیہ تقریب) کے لیے جانے والے مہاتما گاندھی کو پانچ بج کر 17 منٹ پر گولی مار دی۔ گوڈسے کو گرفتار کرلیا گیا لیکن آپٹے اور کرکرے دہلی سے فرار ہو گئے۔

گاندھی کا قتل اچانک نہیں ہوا تھا۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ آزاد ہندوستان میں پولیس کی غفلت کی کہانی گاندھی کے قتل سے ہی شروع ہوتی ہے۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ گاندھی کو قتل کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔

گاندھی کے قتل کے 17 سال بعد 22 مارچ سنہ 1965 کو اس کی تحقیقات کے لیے ایک کمیشن تشکیل دیا گیا تھا۔ اس انکوائری کمیشن کی سربراہی سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جسٹس جیون لال کپور کے سپرد تھی۔ اسے کپور انکوائری کمیشن کے نام سے جانا جاتا ہے۔

12 اکتوبر سنہل 1964 کو ناتھورام گوڈسے کے چھوٹے بھائی گوپال گوڈسے کے علاوہ وشنو کرکرے اور مدن لال پہوا کو عمر قید کی سزا سنانے کے بعد رہا کیا گیا تھا۔

جب گوپال گوڈسے اور وشنو کرکرے پونے پہنچے تو ان کے دوستوں نے کسی ہیرو کی طرح ان کے استقبال کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان کے لیے ایک پروگرام ترتیب دینے کا منصوبہ بنایا گیا جس میں گاندھی کے قتل میں ان کے کردار کی تعریف اور اس کا جشن منانے کا فیصلہ کیا گیا۔

12 نومبر سنہ 1964 کو ستیہ وینائک پوجا منعقد ہوئی۔ اس کے لیے لوگوں کو مراٹھی زبان میں مدعو کیا گیا۔ اس دعوت نامے میں تحریر تھا کہ یہ پوجا وطن پرستوں کی رہائی کی خوشی میں منعقد کی جا رہی ہے اور آپ سب آ کر انھیں مبارکباد پیش کریں۔ اس تقریب میں تقریبا 200 افراد شریک ہوئے۔ اس پروگرام میں ناتھورام گوڈسے کو محب وطن بھی کہا گیا۔

سب سے حیران کن لوک مانیہ بال گنگا دھر تلک کے پوتے جی وی کیتکر کا بیان تھا۔ جی وی کیتکر دو روزناموں ’کیسری‘ اور ’ترون بھارت‘ کے ایڈیٹر تھے۔ کیتکر ہندو مہاسبھا کے مفکر کے طور پر جانے جاتے تھے۔

کیتکر ہی اس تقریب کی صدارت کر رہے تھے۔ پوجا کے بعد گوپال گوڈسے اور کرکرے نے جیل کے اپنے تجربات شیئر کیے اور اس دوران کیتکر نے کہا کہ وہ پہلے سے ہی گاندھی کے قتل کا منصوبہ جانتے تھے اور انھیں خود ناتھورام گوڈسے نے اس بارے میں بتایا تھا۔

تلک کے نواسے جی وی کیتکر نے کہا: ’چند ہفتوں قبل ہی گوڈسے نے شیواجی مندر میں منعقدہ ایک میٹنگ میں اپنے ارادے کا اظہار کیا تھا۔ گوڈسے نے کہا تھا کہ گاندھی کہتے ہیں کہ وہ 125 سال کی عمر تک زندہ رہیں گے لیکن 125 سال تک انھیں کون زندہ رہنے دے گا؟ اس وقت ہمارے ساتھ بلو کاکا کنیٹکر بھی تھے اور گوڈسے کی تقریر کا یہ حصہ سن کر پریشان ہو گئے تھے۔‘

’ہم نے کنیٹکر کو یقین دلایا کہ وہ ناتھیا (ناتھورام) کو سمجھا دیں گے اور ایسا کرنے سے روک دیں گے۔ میں نے ناتھو رام سے پوچھا کہ کیا وہ گاندھی کو مارنا چاہتے ہیں؟ انھوں نے کہا ہاں، کیوں کہ وہ نہیں چاہتے کہ گاندھی ملک میں مزید پریشانیوں کا سبب بنے۔ کیتکر کا بیان پریس میں آگ کی طرح پھیل گیا۔‘

روزنامہ ’انڈین ایکسپریس‘ نے جی وی کیتکر کے انٹرویو پر مبنی ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی۔ اس رپورٹ میں ایک تصویر بھی تھی جس میں ناتھورام گوڈسے کی تصویر کو مالا چڑھاتے ہوئے خراج تحسین پیش کیا گیا تھا۔ جی وی کیتکر نے 14 نومبر سنہ 1964 کو انڈین ایکسپریس کو بتایا: ’تین ماہ قبل ناتھورام گوڈسے نے مجھے گاندھی کے قتل کا منصوبہ بتایا تھا۔ جب مدن لال پہوا نے 20 جنوری 1948 کو گاندھی کی پرارتھنا سبھا میں بم پھینکا تو بڑگے اس کے بعد میرے پاس پونے آئے اور اس کے بارے میں بتایا۔ میں جانتا تھا کہ گاندھی کا قتل ہونے والا ہے۔ مجھے گوپال گوڈسے نے کہا تھا کہ اس کے بارے میں کسی کو نہ بتانا۔‘

اس کے بعد کیتکر کو گرفتار کر لیا گیا۔ گوپال گوڈسے کو بھی دوبارہ گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا۔ اس کے بعد ہی گاندھی کے قتل کی تحقیقات کے لیے کپور کمیشن کی تشکیل ہوئی۔ کہا گیا کہ گاندھی کا قتل منصوبہ بندی اور سازش کے تحت کیا گیا۔ لہذا اس کی مکمل تحقیقات کی جانی چاہیے اور معلوم کرنا چاہیے کہ اس میں اور کون کون ملوث تھا۔

گاندھی کے قتل کی فوری وجوہات

13 جنوری 1948 کو دن کے تقریبا 12 بجے مہاتما گاندھی دو مطالبات کے ساتھ بھوک ہڑتال پر بیٹھ گئے۔ پہلا مطالبہ یہ تھا کہ پاکستان کو انڈیا 55 کروڑ روپے دے اور دوسرا یہ کہ دہلی میں مسلمانوں پر حملے بند کیے جائیں۔ گاندھی کی بھوک ہڑتال کے تیسرے دن 15 جنوری کو انڈین حکومت نے اعلان کیا کہ وہ فوری طور پر پاکستان کو 55 کروڑ روپے دے گی۔

اس اعلان سے انتہا پسند ہندو گاندھی سے سخت ناراض ہو گئے تھے، خاص طور پر ہندو مہاسبھا والے۔ مہاتما گاندھی نے پرارتھنا کے بعد کی تقریر میں کہا: ’مسلمانوں کو ان کے گھروں سے بے دخل نہیں کیا جانا چاہیے۔ ہندو مہاجرین کو کسی بھی طرح کے تشدد میں ملوث نہیں ہونا چاہیے کہ مسلمان اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو جائيں۔‘

تاہم تشار گاندھی کا کہنا ہے کہ باپو کی بھوک ہڑتال کا بنیادی مقصد پاکستان کو 55 کروڑ روپے دلوانا نہیں تھا بلکہ فرقہ وارانہ تشدد کو روکنا اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی قائم کرنا تھا۔ وہ کہتے ہیں: ’یقینا باپو پاکستان کو 55 کروڑ روپے دینے کا مطالبہ بھی کر رہے تھے لیکن ان کا مقصد فرقہ وارانہ ہم آہنگی قائم کرنا تھا۔‘

کیا نہرو اور پٹیل 55 کروڑ روپے پاکستان کو نہیں دینا چاہتے تھے؟ اس کے جواب میں تشار گاندھی کا کہنا ہے کہ ’کابینہ نے فیصلہ کیا کہ جب تک دونوں ممالک کے مابین تقسیم کا معاملہ حل نہیں ہوتا انڈیا پاکستان کو 55 کروڑ روپے نہیں دے گا۔ تاہم اس تقسیم کے بعد دونوں ممالک میں ایک معاہدہ ہوا تھا جس کے تحت انڈیا 75 کروڑ روپے غیر مشروط پاکستان کو دے گا۔‘

’پاکستان کو ان میں سے 20 کروڑ روپے مل چکے تھے اور وہ 55 کروڑ بقایا رقم کا مطالبہ کر رہا تھا۔ پاکستان نے یہ رقم مانگنا شروع کر دی اور انڈیا وعدہ خلافی نہیں کر سکتا تھا۔ باپو نے کہا کہ جو وعدہ کیا گيا ہے اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اگر یہ ہوتا ہے تو دو طرفہ معاہدے کی خلاف ورزی ہو گی۔‘

حکومت نے گاندھی کی بھوک ہڑتال کے صرف دو دن بعد ہی پاکستان کو 55 کروڑ روپے دینے کا فیصلہ کر لیا اور اس فیصلے کے ساتھ ہی گاندھی سخت گیر ہندوؤں کی نظر میں ولن بن گئے تھے۔ سردار پٹیل بھی گاندھی کے پاکستان کو 55 کروڑ روپے دینے کے مطالبے سے اتفاق نہیں کرتے تھے۔ کپور کمیشن کی تحقیقات میں سردار پٹیل کی بیٹی منی بین پٹیل گواہ نمبر 79 کے طور پر پیش ہوئیں۔

پٹیل پر سوال کیوں اٹھائے گئے؟

منی بین نے کپور کمیشن کو بتایا: ’مجھے یاد ہے کہ میرے والد مہاتما گاندھی سے پاکستان کو 55 کروڑ روپے دینے پر راضی نہیں تھے۔ میرے والد کا خیال تھا کہ اگر پاکستان کو یہ رقم دی جاتی ہے تو لوگ اس سے ناراض ہو جائیں گے اور پاکستان کے ساتھ ہماری سمجھ یہ ہے کہ یہ رقم تمام معاملات حل ہونے کے بعد ہی دیے جانے چاہیے۔‘

منی بین پٹیل نے کہا: ’میرے والد نے کہا تھا کہ اگر پاکستان کو یہ رقم مل جاتی ہے تو انڈیا میں لوگ اس کی غلط تشریح کریں گے اور پاکستان اس رقم کو ہمارے خلاف استعمال کر سکتا ہے۔ ایسی صورتحال میں ہمارے شہریوں کے جذبات مجروح ہوں گے۔ میرے والد نے مہاتما گاندھی سے یہ بھی کہا کہ لوگ اس بھوک ہڑتال کو صحیح نہیں مانیں گے اور حکومت پر پاکستان کو 55 کروڑ روپے فراہم کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کے ایک ہتھیار کے طور پر اسے دیکھیں گے۔‘

تشار گاندھی کہتے ہیں کہ نہرو اور پٹیل 55 کروڑ روپے دینے پر راضی نہیں تھے کیونکہ عوامی جذبات ان کے لیے اہیمت کی حامل تھی۔

توشار نے کہا: ’باپو اس بات کی بنیاد پر فیصلہ کیا کرتے تھے کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط ہے۔ انسانیت ان کے لیے سب سے اہم تھی۔ وہ وعدہ خلافی برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ عوامی دباؤ میں وہ غلط فیصلے کی حمایت نہیں کر سکتے تھے۔ باپو نے وہی کرنے کے لیے کہا جس کا انڈیا نے وعدہ کیا تھا۔ نہرو اور پٹیل انتخابی سیاست میں داخل ہوئے تھے لیکن باپو آزادی کے بعد بھی اپنے انھی اصولوں پر چل رہے تھے۔ باپو نہ تو عوامی جذبات سے ڈرتے تھے اور نہ ہی موت سے۔‘

جب مہاتما گاندھی بھوک ہڑتال پر تھے تو لوگ برلا بھون میں ان کے خلاف مظاہرہ بھی کر رہے تھے۔ لوگ ناراض تھے کہ وہ حکومت کو 55 کروڑ روپے دینے پر مجبور کیوں کر رہے ہیں اور وہ دہلی میں مسلمانوں کے گھر ہندو مہاجرین کو کیوں نہیں دینے دے رہے ہیں۔

دہلی میں فرقہ وارانہ تناؤ کے سبب مسلمان گھر چھوڑ کر باہر چلے گئے تھے۔ انھیں پرانے قلعے اور ہمایوں کے مقبرے کے حصے میں رکھا گیا تھا۔

ہندو مہاجر مسلمان کے گھروں پر قبضہ کرنا چاہتے تھے جبکہ گاندھی اس کے خلاف بھوک ہڑتال پر بیٹھ گئے تھے۔ ہندو مہاجر گاندھی کی بھوک ہڑتال کے خلاف نعرے لگا رہے تھے: ’گاندھی مرتا ہے تو مرنے دو۔‘

مہاتما گاندھی کے تاحیات سکریٹری رہنے والے پیارے لال نے اپنی کتاب ’مہاتما گاندھی دی لاسٹ فیزژ‘ میں لکھا ہے کہ ’اس بھوک ہڑتال نے دہلی میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے مابین دشمنی کو کم کرنے میں بہت مدد کی۔‘

18 جنوری 1948 کو ایک امن کمیٹی تشکیل دی گئی۔ مہاتما گاندھی کو یقین دلایا گیا تھا کہ مہرولی میں صوفی بزرگ قطب الدین بختیار کاکی کا عرس ہر سال کی طرح منایا جائے گا۔ مسلمان دہلی میں اپنے گھر جا سکیں گے۔ مساجد کو ہندوؤں اور سکھوں کے قبضے سے چھڑایا جائے گا۔ مسلم علاقوں کو غیر قانونی قبضے سے آزاد کرایا جائے گا۔ خوف کے سبب اپنے گھروں سے بھاگے ہوئے مسلمانوں کی واپسی پر ہندو اعتراض نہیں کریں گے۔

ان یقین دہانیوں کے بعد مہاتما گاندھی نے 18 جنوری کو دوپہر 12.45 بجے مولانا آزاد کے ہاتھ سے سنترے کا جوس پی کر بھوک ہڑتال ختم کر دی۔

تو کیا پھر گوڈسے قاتل نہیں ہوتا؟

اس کے بعد ہندو مہاسبھا کے پلیٹ فارم کے تحت ایک اجلاس ہوا۔ اس اجلاس میں انھوں نے انڈین حکومت کو پاکستان کو 55 کروڑ روپے دینے اور ہندو مہاجرین کو مسلمانوں کے گھروں میں رہنے کی اجازت نہ دینے پر شدید تنقید کی۔

اس میٹنگ میں مہاتما گاندھی کے خلاف قابل اعتراض الفاظ بھی استعمال کیے گئے تھے۔ انھیں ڈکٹیٹر کہا گیا اور ان کا موازنہ ہٹلر سے کیا گیا۔ 19 جنوری کو ہندو مہاسبھا کے سیکریٹری آشوتوش لاہری نے ہندوؤں کو مخاطب کرتے ہوئے ایک پرچہ نکلا۔

پولیس رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ مہاتما گاندھی کی مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے بھوک ہڑتال سے سکھ بھی ناراض تھے۔ سکھوں کو بھی لگا کہ گاندھی نے ہندوؤں اور سکھوں کے لیے کچھ نہیں کیا۔ پولیس رپورٹ کے مطابق دوسری طرف مسلمانوں نے 19 اور 23 جنوری کو یہ کہتے ہوئے دو قراردادیں منظور کیں کہ گاندھی نے ان کی بے لوث خدمت کی ہے۔

گاندھی کے قتل کے پس منظر میں یہ واقعات فوری وجوہات تھے۔ 17 اور 19 جنوری کے درمیان وہ افراد جنھوں نے گاندھی کے قتل کی منصوبہ بندی کی تھی اور انھیں ہلاک کیا وہ ٹرین اور فلائٹ سے دہلی پہنچے تھے۔ وہ دہلی اور ہندو مہاسبھا بھون کے ہوٹلوں میں قیام پذیر تھے۔ 18 جنوری 1948 کو شام کے پانچ بجے کچھ سازشیوں نے برلا بھون میں مہاتما گاندھی کے اجلاس میں شرکت کی۔ وہ مجمعے اور جگہ کا معائنہ کرنے گئے تھے۔

19 جنوری کو ہندو مہاسبھا بھون میں ان کی میٹنگ ہوئی تھی اور مہاتما گاندھی کے قتل کا ایک مکمل خاکہ تیار کیا گیا تھا۔ 19 جنوری کو کل سات سازشیوں میں سے تین ناتھوورام ونایک گوڈسے، وشنو کرکرے اور نارائن آپٹے برلا ہاؤس گئے اور پرارتھنا کی جگہ کا معائنہ کیا۔ اسی دن شام چار بجے وہ ایک بار پھر دعائیہ مجلس کے گراؤنڈ میں گئے اور رات دس بجے مہاسبھا بھون میں پانچوں ہندوؤں نے ملاقات کی۔

20 جنوری کو ناتھورام گوڈسے کی طبیعت خراب ہو گئی لیکن چار افراد پھر بریلا بھون گئے اور وہاں کی سرگرمیوں کو سمجھا۔ یہ چار ہندو مہاسبھا بھون دن کے ساڑھے دس بجے برلا بھون واپس آئے۔ اس کے بعد انھوں نے ہندو مہاسبھا بھون کے پیچھے جنگل میں اپنا ریوالور چیک کیا۔

ریوالور کی جانچ پڑتال کے بعد وہ سب حتمی منصوبہ طے کرنے کے لیے دہلی کے کناٹ پلیس میں مرینا ہوٹل میں ملے۔ وہ شام پانچ بجے برلا بھون پہنچے۔ مدن لال پہوا نے برلا بھون کی دیوار کے پیچھے سے ایک پرارتھنا سبھا (دعائیہ تقریب) میں بم پھینکا۔

مدن لال کو اسی وقت گرفتار کر لیا گیا تھا۔ ان کے پاس سے ایک دستی بم بھی برآمد ہوا ہے۔ تین دیگر وہیں موجود تھے اور وہ بھیڑ کا فائدہ اٹھا کر فرار ہو گئے۔ گاندھی کے پوتے توشار گاندھی کا کہنا ہے کہ باپو کو قتل کرنے کی اصل سازش صرف 20 جنوری کی تھی لیکن وہ اس دن ناکام رہے اور دس دن بعد گاندھی کی زندگی کا آخری دن آ گیا۔

توشھار گاندھی نے بی بی سی کو بتایا: ’ان کا منصوبہ یہ تھا کہ دھماکے کے بعد بھگدڑ مچ جائے گی اور وہ گاندھی جی کو گولی مار دے گا۔ لیکن جب مدن لال پہوا نے دھماکے کیا تو باپو نے سب کو سمجھا کر بٹھا دیا اور بھگدڑ نہیں مچنے دی۔ ایسی صورتحال میں برگے کو گولی چلانے کا موقع نہیں ملا اور اسے وہاں سے بھاگنا پڑا۔ اس دن گولی مارنے کی ذمہ داری برگے پر عائد تھی۔ اگر وہ 20 جنوری کو کامیاب ہوتا تو قاتل گوڈسے نہیں بلکہ برگے ہوتا۔‘

قتل کے دو اہم مجرم ناتھوورام گوڈسے اور نارائن آپٹے اسی دن دہلی کے سینٹرل ریلوے سٹیشن سے الہ آباد اور کانپور کے راستے بمبئي فرار ہو گئے۔ وہ 23 جنوری کی شام بمبئی پہنچے۔

تیسرے ناتھورام گوڈسے کے بھائی گوپال گوڈسے اسی رات دہلی کے فرنٹیئر ہندو ہوٹل میں ٹھہرے اور 21 جنوری کی صبح فرنٹیئر میل سے بمبئی روانہ ہو گئے۔ چوتھے وشنو کرکرے 23 جنوری کی دوپہر تک دہلی میں رہے اور سہ پہر میں وہ بھی ٹرین اور بس تبدیل کرتے ہوئے 26 جنوری کی صبح کلیان پہنچ گئے۔

دیگمبر بڑگے اور شنکر کسٹیا 20 جنوری کو بمبئی ایکسپریس سے کلیان کے لیے روانہ ہوئے اور 22 جنوری کی صبح پہنچے۔ اسی دن وہ پونے کے لیے روانہ ہو‏‏ئے۔ اس طرح قتل کی سازش میں شامل افراد دہلی سے فرار ہوگئے اور کوئی نہیں ملا۔

پولیس کی تاریخی غفلت

اگلے ہی دن 20 جنوری کو اخبارات میں بم پھینکنے کی خبر شائع ہوئی۔ ٹائمز آف انڈیا، سٹیٹس مین، بمبئی کرانیکل میں خبر شہ سرخیوں میں شائع ہوئی۔ اس وقت ٹائمز آف انڈیا کو ایک پولیس انسپکٹر نے بتایا تھا کہ ’یہ بم طاقتور تھا اور بہت سے لوگوں کو ہلاک کر سکتا تھا۔ ہینڈ گرنیڈ کا مطلب مہاتما گاندھی کو مارنا تھا۔‘

بمبئی کرانیکل نے اطلاع دی ہے کہ مدنلال پہوا نے بم پھینکنے کے جرم کا اعتراف کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ مہاتما گاندھی کی امن مہم سے ناراض ہیں لہذا ان پر حملہ کر دیا۔

مدن لال پہوا سے پہلے برلا بھون میں ہی تفتیش کی گئی، جس کے بعد انھیں پارلیمنٹ سٹریٹ پولیس سٹیشن لے جایا گیا۔ پولیس کے اعلی عہدیداروں نے پہوا سے پوچھ گچھ کی اور انھوں نے بیانات دیے۔

پہوا کے بیان پر کافی تنازع بھی ہوا۔ پہوا نے کرکرے کا نام لیا تھا اور یہ بھی بتایا تھا کہ وہ اور ان کے باقی ساتھی دہلی میں کہاں ٹھہرے ہیں۔ مرینا ہوٹل اور ہندو مہاسبھا بھون پر چھاپے مارے گئے۔ اس دوران یہ انکشاف ہوا کہ گوڈسے اور آپٹے نام تبدیل کر کے ایس اور ایم دیش پانڈے کے نام سے قیام کر رہے تھے۔

اس چھاپے میں ہندو مہاسبھا کے کچھ دستاویزات بھی برآمد ہوئے۔ 21 جنوری کو پہوا کو 15 دن کے ریمانڈ پر لیا گیا۔ پارلیمنٹ سٹریٹ پولیس سٹیشن سے پہوا کو سول لائنز لایا گیا اور پوچھ گچھ 24 جنوری تک جاری رہی۔

اپنے بیان میں پہوا نے ’ہندو راشٹر‘ نامی اخبار کے مالک کا نام لیا لیکن اخبار کے ایڈیٹر کا نام نہیں لیا۔ اس کے مالک آپٹے تھے جبکہ مدیر ناتھورام گوڈسے تھے۔ 23 جنوری کو مرینا ہوٹل کے ملازم کالی رام نے دہلی پولیس کے حوالے کچھ کپڑے کیے لیکن پولیس ان کو تفتیش میں استعمال کرنے میں ناکام رہی۔

25 جنوری کو پہوا کو پولیس بمبئی لے گئی اور تفتیش 29 جنوری تک جاری رہی لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔

27 جنوری کو گوڈسے اور آپٹے بمبئی سے دہلی روانہ ہو گئے۔ دونوں ٹرین سے گوالیار آئے اور رات کے وقت ڈاکٹر دتاتریہ پرچورے کے گھر ٹھہرے۔ اگلے دن یہیں سے اٹلی کی تیار کردہ بلیک خود کار بیریٹا ماؤزر خریدی۔ 29 جنوری کی صبح دہلی پہنچے۔ دونوں دہلی کے سینٹرل ریلوے سٹیشن پر ریلوے کے ایک ہی کمرے میں ٹھہرے۔ یہیں پر ان کی ملاقات کرکرے سے ہوئی۔

30 جنوری کو انھوں نے برلا بھون کے پیچھے جنگل میں پستول کی شوٹنگ کی مشق کی اور شام پانچ بجے باپو کو گولی مار دی۔ ناتھورام کو وہاں سے گرفتار کر لیا گیا لیکن آپٹے اور کارکرے ایک بار پھر دہلی سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ آپٹے اور کارکرے کو 14 فروری کو گرفتار کیا گیا۔

پٹیل کی بیٹی کی دلیل

جج آتماچرن نے فیصلے کے بعد کہا کہ پولیس نے 19 اور 20 جنوری سنہ 1948 کے درمیان سراسر غفلت برتی۔ مدن لال پہوا کی گرفتاری کے بعد دہلی پولیس کو گاندھی جی کے قتل کی سازش کے بارے میں کافی معلومات تھیں۔

جج آتماچرن نے کہا: ’مدن لال پہوا نے سازش کے بارے میں بہت کچھ بتایا تھا۔ روئیا کالج کے پروفیسر جی سی جین نے بمبئی پریزیڈنسی کے وزیر داخلہ مرارجی دیسائی کو اس سازش کے بارے میں بتایا اور انھوں نے بھی بمبئی پولیس کو ساری معلومات دی تھی۔ لیکن پولیس بری طرح ناکام ہوگئی۔ اگر پولیس مناسب طریقے سے کام کرتی تو گاندھی جی کو شاید قتل نہ کیا جاتا۔‘

اس کے باوجود کسی پولیس اہلکار کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ توشار گاندھی نے لکھا ہے کہ مہاتما گاندھی قتل کیس میں چیف انویسٹی گیشن آفیسر جمشید ڈوراب ناگر والا نے ریٹائرمنٹ کے بعد کہا: ’میں پوری طرح اتفاق کرتا ہوں کہ ساورکر کی مدد اور شمولیت کے بغیر گاندھی کے قتل کی سازش کبھی بھی کامیاب نہیں ہوسکتی تھی۔ (لٹس کل گاندھی ، صفحہ نمبر 691) اس کے باوجود ساورکر کو بے گناہ قرار دیا گیا۔‘

سردار پٹیل ملک کے وزیر داخلہ تھے لہذا ان پر بھی بہت سارے سوالات اٹھے۔ مولانا آزاد نے لکھا: ’جے پرکاش نارائن نے کہا تھا کہ وزیر داخلہ کی حیثیت سے گاندھی کے قتل میں سردار پٹیل اپنی ذمہ داری سے نہیں بھاگ سکتے۔‘

سردار پٹیل کی صاحبزادی منی بین پٹیل نے بطور گواہ کپور کمیشن کو دیے گئے اپنے بیان میں کہا کہ ان کے والد کو مسلم مخالف کے طور پر دیکھا جاتا تھا اور ان کی جان کو خطرہ تھا کیونکہ انھیں جان سے مارنے کی دھمکی ان کے گھر تک آئی تھی۔ منی بین پٹیل نے یہ بھی اعتراف کیا کہ جے پرکاش نارائن نے عوامی طور پر ان کے والد کو گاندھی کے قتل کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔

منی بین نے کہا: جس میٹنگ میں ان کے والد کو جے پرکاش ناراین نے ذمہ دار ٹھہرایا تھا اس میں مولانا آزاد بھی شریک تھے لیکن انھیں نے اعتراض نہیں کیا تھا۔ اس سے میرے والد کو بہت تکلیف ہوئی۔‘

منی بین پٹیل نے کپور کمیشن کو بتایا: ’میرے والد پاکستان کو 55 کروڑ روپے دینے سے بہت غمزدہ تھے۔ انھیں لگا کہ یہ پیسے دینے کی وجہ سے ہی باپو کا قتل ہوا۔ یہاں تک کہ نہرو بھی رقم دینے کے حق میں نہیں تھے۔ اس دوران سردار پٹیل نے نہرو سے کہا تھا کہ کابینہ سے چھٹی دے دیں کیوں کہ مولانا مجھے بھی نہیں چاہتے ہیں۔‘

گاندھی کے قتل کے بعد نہرو نے پٹیل کو ایک خط لکھا تھا۔ اس خط کے بارے میں منی بین نے کہا کہ نہرو نے اس میں لکھا کہ ’ہمیں ماضی کو بھلا کر مل کر کام کرنا چاہیے۔‘ سردار نے نہرو کی بات مان لی لیکن جے پرکاش نارائن نے سردار پر حملہ کرنا جاری رکھا۔ پانچ مارچ سنہ 1948 کو سردار کو دل کا دورہ پڑا تو انھوں نے کہا کہ انھیں اب مرنا چاہیے اور گاندھی جی کے پاس جانا چاہیے۔ وہ تنہا چلے گئے ہیں۔

گاندھی کے قتل کے ایک ہفتہ بعد یعنی چھ فروری 1948 کو پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس طلب کیا گیا اور ارکان پارلیمنٹ نے سردار پٹیل سے بہت ترش سوالات پوچھے۔ ’تیج‘ اخبار کے بانی رکن پارلیمنٹ دیش بندھو گپتا نے پارلیمنٹ میں سردار پٹیل سے پوچھا: ’مدن لال پہوا نے گرفتاری کے بعد اپنے جرم کا اعتراف بھی کر لیا تھا اور آگے کے منصوبے کے بارے میں بھی بتایا تھا۔ یہ بھی بتایا تھا کہ کون کون اس میں شامل ہیں۔ ایسے میں کیا دہلی کی سی آئی ڈی بمبئی سے ان کی تصاویر حاصل نہیں کر سکتی تھی؟ فوٹو حاصل کرنے کے بعد اسے پرارتھنا سبھا میں تقسیم کر دیا جاتا تاکہ لوگ چوکس رہتے۔ کیا اس میں سراسر غفلت نہیں ہوئی ہے؟‘

اس سوال کے جواب میں پٹیل نے کہا کہ ’دلی پولیس نے انھیں پکڑنے کی کوشش کی لیکن سب مختلف جگہوں پر مقیم تھے۔ ان کی تصاویر بھی نہیں مل پائی تھی۔ تحقیقات میں مہاتما گاندھی کے سکریٹری پیارے لال گواہ نمبر 54 تھے۔ انھوں نے کہا ہے کہ تقسیم کے بعد پٹیل کے گاندھی سے اختلافات تھے، لیکن گاندھی کے لیے ان کا احترام کم نہیں ہوا تھا۔

پیارے لال نے کہا کہ ’پٹیل کہتے تھے کہ مسلمان ہندوستان میں رہ سکتے ہیں اور انھیں سلامتی بھی ملے گی لیکن ان کی وفاداری کو انڈیا اور پاکستان کے درمیان منقسم نہیں رہ سکتی۔‘

منی بین پٹیل نے کہا ہے کہ ان کے والد سردار پٹیل باپو کی حفاظت کے بارے میں فکرمند تھے کیونکہ پہلے بھی حملے ہو چکے تھے۔ انھوں نے کہا: ’میرے والد مہاتما گاندھی کے پاس گئے تھے اور کہا تھا کہ پرارتھنا سبھا میں آنے والے لوگوں کی تفتیش ہو گی اور اس کے بعد انھیں اندر آنے کی اجازت دی جائے گی لیکن گاندھی جی اس کے لیے تیار نہیں ہوئے۔‘

آر ایس ایس نے گاندھی کے قتل میں کسی بھی کردار کی مستقل تردید کی ہے، یہاں تک کہ راہل گاندھی کے خلاف بھی ہتک عزت کا ایک مقدمہ دائر کیا گیا ہے۔ لیکن یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے۔

گاندھی کے قتل کے بعد پٹیل نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ پر پابندی عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’گاندھی کے قتل کے لیے وہ فرقہ وارانہ زہر ذمہ دار ہے جسے پورے ملک میں پھیلا گیا ہے۔‘

گاندھی کے پرسنل سیکریٹری نے احمد آباد سے شائع ہونے والے پرچے نوجیون پرکاشن میں لکھا: ’آر ایس ایس کے ممبروں کو کچھ جگہوں پر پہلے ہی سے ہدایت تھی کہ وہ جمعہ کے دن خوشخبری کے لیے ریڈیو کو کھلا رکھیں۔ اس کے ساتھ ہی آر ایس ایس ممبروں نے بھی متعدد مقامات پر مٹھائیاں تقسیم کیں۔‘

گاندھی کے قتل کے دو عشروں بعد آر ایس ایس کی ترجمان اشاعت ’آرگنائزر‘ نے 11 جنوری سنہ 1970 کو ایک اداریے میں لکھا تھا کہ ’نہرو کے پاکستان نواز ہونے اور گاندھی جی کے بھوک ہڑتال پر جانے سے لوگوں میں کافی ناراضگی تھی۔ ایسی صورتحال میں ناتھورام گوڈسے لوگوں کی نمائندگی کررہے تھے، گاندھی کا قتل عوامی غم و غصے کا اظہار تھا۔‘

کپور کمیشن کی رپورٹ میں سوشلسٹ رہنماؤں جئے پرکاش نارائن، رام منوہر لوہیا اور کملا دیوی چٹوپادھیائے کی پریس کانفرنس میں اس بیان کا حوالہ دیا گیا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ’گاندھی کے قتل کا ذمہ دار کوئی ایک شخص نہیں ہے لیکن اس کے پیچھے ایک بڑی سازش اور تنظیم ہے۔‘

اس تنظیم میں انھوں نے آر ایس ایس، ہندو مہاسبھا اور مسلم لیگ کا نام لیا تھا۔ گاندھی کے قتل کے بعد آر ایس ایس پر بھی پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ آر ایس ایس پر یہ پابندی فروری 1948 سے جولائی 1949 تک تھی۔

ناتھو رام گوڈسے کے بھائی گوپال گوڈسے نے 28 جنوری 1994 کو فرنٹ لائن کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا: ’ہم سب بھائی آر ایس ایس میں تھے۔ ناتھورام، دتاتریہ، میں اور گووند۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ ہم اپنے گھر میں نہیں آر ایس ایس میں بڑے ہوئے ہیں۔ آر ایس ایس ہمارے لیے خاندان تھا۔ ناتھورام آر ایس ایس میں دانشور کارکن بن گئے۔ ناتھوم نے اپنے بیان میں آر ایس ایس چھوڑنے کی بات کہی تھی۔ انہوں نے یہ بیان اس لیے دیا کہ گولوالکر اور آر ایس ایس گاندھی کے قتل میں نہ پھنس جائیں، لیکن ناتھوم نے آر ایس ایس کو نہیں چھوڑا تھا۔‘

اسی انٹرویو میں گوپال گوڈسے سے پوچھا گیا تھا کہ بی جے پی رہنما ایل کے اڈوانی نے آر ایس ایس کے ساتھ ناتھورام کے تعلقات کو مسترد کردیا تھا تو اس کے جواب میں انھوں نے کہا: ’وہ بزدلانہ باتیں کر رہے ہیں۔ آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ آر ایس ایس نے ایسی کوئی قرارداد منظور نہیں کی تھی کہ ’جاؤ اور گاندھی کو مار دو‘ لیکن آپ آر ایس ایس کے ساتھ ناتھورام کے تعلقات کو مسترد نہیں کرسکتے۔ ناتھورام رام نے دانشور کارکن کے تحت سنہ 1944 میں ہندو مہاسبھا کے لیے کام کرنا شروع کیا تھا۔‘

ناتھورام گوڈسے کبھی آر ایس ایس کے رکن رہ چکے تھے لیکن بعد میں وہ ہندو مہاسبھا میں آئے۔ تاہم گوڈسے کے کنبہ کے افراد نے 8 ستمبر سنہ 2016 کو ایکانومک ٹائمز کو ایک انٹرویو میں جو کہا وہ بہت اہم ہے۔

ناتھورم گوڈسے اور ونیاک دامودر ساورکر کی نسل کے فرد ستیاکی گوڈسے نے اکنامک ٹائمز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا: ’ناتھورام 1932 میں جب سانگلی میں تھے تو انھوں نے آر ایس ایس میں شمولیت اختیار کی۔ جب تک وہ زندہ رہے وہ سنگھ کا فکری کارکن رہے۔ انھوں نے کبھی بھی اس تنظیم کو نہیں چھوڑا اور نہ ہی انھیں برطرف کیا گيا۔‘

مہاتما گاندھی نے کہا تھا کہ وہ 125 سال تک زندہ رہنا چاہتے ہیں۔ قتل سے تقریبا چھ سال قبل 72 سال کی عمر میں باپو نے اپنی اس خواہش کا اظہار کیا تھا۔ ان کی زندگی کو اچانک 37 سالہ مراٹھی برہمن ناتھورم گوڈسے نے ختم کر دیا۔ جب گاندھی کا قتل ہوا تو وہ 78 سال کے تھے۔