انڈیا کے برطانیہ سے بڑی معیشت بننے کے دعوے میں کتنی حقیقت ہے؟

216

دلنواز پاشا بی بی سی ہندی

انڈیا مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے لحاظ سے برطانیہ کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کی پانچویں بڑی معیشت بن گیا ہے۔

بلومبرگ کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2022 کے آخر میں انڈیا نے برطانیہ کو جی ڈی پی کے اعتبار سے پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ بلومبرگ نے یہ نتیجہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے ڈیٹا کی بنیاد پر نکالا ہے۔اگست میں ہی انڈیا نے اپنی آزادی کے 75 سال مکمل کر لیے ہیں اور وزیر اعظم نریندر مودی نے سال 2047 تک انڈیا کو ایک ترقی یافتہ ملک بنانے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔

فی کس آمدنی میں انڈیا بہت پیچھے ہے

برطانیہ کی آبادی تقریباً 67 ملین ہے اور اندازوں کے مطابق اس وقت انڈیا کی آبادی تقریباً 138 کروڑ ہے۔تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ انڈیا کا برطانیہ سے بڑی معیشت بننا کوئی بڑی بات نہیں ہے کیونکہ انڈیا خوشحالی کے معاملے میں اب بھی برطانیہ سے 20 گنا پیچھے ہے۔

بلومبرگ کے مطابق انڈیا کی معیشت اس سال مارچ کے آخر میں 854.7 بلین ڈالر کی تھی، جب کہ برطانیہ کی معیشت 816 بلین ڈالر تھی۔بلومبرگ کے اندازوں کے مطابق انڈیا اگلے چند برسوں میں برطانیہ کی معیشت کو بڑے پیمانے پر پیچھے چھوڑ سکتا ہے۔

سینیئر صحافی اور معاشی تجزیہ کار ایم کے وینو کا کہنا ہے کہ ’معیشت کے مجموعی سائز کے معاملے میں انڈیا برطانیہ کو پیچھے چھوڑ دے گا، ایسا ہونا ہی تھا۔ جو بات اہم ہے وہ لوگوں کی معاشی حالت ہے۔ فی کس آمدنی اب بھی برقرار ہے۔ برطانیہ 45 ہزار ڈالر سے اوپر ہے جبکہ انڈیا میں اب بھی صرف دو ہزار ڈالر سالانہ ہے۔‘

وینو کہتے ہیں ’اگر حقیقی موازنہ کرنا ہے تو فی کس آمدنی ہونی چاہیے۔ انڈیا اس پیمانے پر اب بھی برطانیہ سے بہت پیچھے ہے۔ فی کس آمدنی کے معاملے میں انڈیا اب بھی سب سے پسماندہ ممالک میں آتا ہے۔ ایسی صورتحال میں یہ کہنا غلط ہے کہ انڈیا معیشت کے معاملے میں برطانیہ کو پیچھے چھوڑ گیا ہے۔

جے این یو میں پروفیسر اور معاشی امور کے ماہر ارون کمار کہتے ہیں کہ ’انڈیا کی آبادی برطانیہ سے تقریباً بیس گنا ہے۔ اگر ہماری جی ڈی پی ان کے تقریباً برابر ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ فی کس آمدنی میں ہم ان سے بیس گنا پیچھے ہیں۔ برطانیہ اور انڈیا کی معیشت کا موازنہ کرنا درست نہیں، یہ موازنہ غلط ہے، انڈیا اور برطانیہ کی جی ڈی پی کا موازنہ کیا جاسکتا ہے لیکن خوشحالی نہیں، ہم فی کس آمدنی میں برطانیہ سے بہت پیچھے ہیں۔‘

انڈیا چیلنجز کے باوجود آگے بڑھا

سٹاک مارکیٹ پر نظر رکھنے والی کمپنی کیڈیا کیپیٹل کے ریسرچ کے سربراہ اجے کیڈیا کا ماننا ہے کہ کووڈ کی وبا اور یوکرین میں جنگ کے باوجود انڈیا کی معیشت کی ترقی اس بات کی علامت ہے کہ انڈیا صحیح سمت میں ہے۔

اجے کیڈیا کہتے ہیں کہ ’اہم بات یہ ہے کہ انڈیا نے گذشتہ ماہ ہی 75 واں یوم آزادی منایا ہے۔ پہلے ہمیں ایک ترقی پذیر یا پسماندہ ملک کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ لیکن اب انڈیا دنیا کی پانچویں بڑی معیشت بن گیا ہے۔ انڈیا نے پچھلے دس سالوں میں یا 1990 کی دہائی میں جو اقدامات کیے ہیں اس نے اپنا اثر دکھایا ہے۔ انڈیا کے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا ہے۔ 90 کی دہائی میں انڈیا کے پاس محدود ذخائر تھے لیکن آج انڈیا سب سے بڑے زرمبادلہ کے ذخائر میں سے ایک ہے۔‘

کیڈیا اپنے بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’برطانیہ اور مغربی یورپی ممالک کی معیشتیں سکڑ رہی ہیں، انڈیا کی معیشت مسلسل ترقی کر رہی ہے۔ تمام چیلنجوں کے باوجود انڈیا نے اپنی ترقی کی شرح کو برقرار رکھا ہے۔‘

’مغربی ممالک کی معیشتوں میں اس وقت گراوٹ ہے جس کا انڈیا کو فائدہ ہوا ہے۔ انڈیا کی معیشت اب بھی آگے بڑھ رہی ہے۔ لیکن پھر بھی اگر انڈیا کی معیشت اگلے چار پانچ سال تک ترقی کرتی رہی تو پھر بھی۔ انفرادی آمدنی کو مغربی ممالک کی سطح تک پہنچنے میں کافی وقت لگے گا۔

انڈیا اپنی خارجہ پالیسی کے باعث یوکرین جنگ کے اثرات کو محدود کرنے میں کامیاب رہا
یوکرین کی جنگ نے دنیا بھر کی معیشتوں کو متاثر کیا ہے۔ نہ صرف مغربی ممالک بلکہ جنوبی ایشیا بھی اس سے متاثر ہے۔

سری لنکا کی معیشت بحران کا شکار ہے۔ پاکستان مختلف وجوہات کی بنا پر تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ بنگلہ دیش کی معیشت جو کہ بہت سے معاملات میں بہت اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہے اس وقت اسے بھی چیلنجز کا سامنا ہے۔

انڈیا کی معیشت جنوبی ایشیائی ممالک کے مقابلے زیادہ مستحکم اور بہتر حالت میں ہے۔

تاہم تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ انڈیا کا جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔اجے کیڈیا کہتے ہیں کہ ’اگر ہم جنوبی ایشیا کی بات کریں تو پچھلے ایک دو برسوں میں ہم نے دیکھا ہے کہ وہ معیشتیں بھی متاثر ہوئی ہیں جو اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی تھیں۔ خاص طور پر یوکرین کی جنگ کے بعد مہنگائی کا اثر سب پر نظر آنے لگا ہے۔ لیکن انڈیا نے ان اثرات کو کافی حد تک محدود کر رکھا ہے، انڈیا کا سری لنکا، بنگلہ دیش یا پاکستان کی معیشتوں سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ انڈیا ان تمام پڑوسی ممالک سے بہت بڑی معیشت ہے۔‘

ارون کمار کہتے ہیں کہ انڈیا کی معیشت کا جنوبی ایشیا کے کسی دوسرے ملک سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ کیونکہ انڈیا کی پیداواری صلاحیت سری لنکا، پاکستان یا بنگلہ دیش سے کہیں زیادہ ہے۔

کیڈیا کا یہ بھی ماننا ہے کہ انڈیا اپنی خارجہ پالیسی اور حکمت عملی کی وجہ سے یوکرین جنگ کے اثرات کو کافی حد تک محدود کرنے میں کامیاب رہا ہے۔

کیڈیا کہتے ہیں کہ ایک وقت تھا جب ہم دوائیوں کے لیے دوسرے ممالک پر انحصار کرتے تھے۔ ہم پولیو پروگرام کے لیے باہر سے مدد لیتے تھے لیکن کووڈ کی وبا کے دوران انڈیا خود انحصاری کے طور پر ابھرا۔ کووڈ کی وبا اور یوکرین کی جنگ نے معیشتوں کو متاثر کیا۔ دنیا بھر میں انڈیا یوکرین جنگ میں غیر جانبدار رہا ہے اور اس کا فائدہ بھی اٹھا رہا ہے۔

ارون کمار کا کہنا ہے کہ یوکرین کی جنگ طویل عرصے تک چل سکتی ہے اور اس کے اثرات انڈیا پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

ارون کمار کا کہنا ہے کہ اس وقت یوکرین میں جنگ جاری ہے، اس کے پیچھے دو سپر پاور ہیں۔ ایک طرف یورپ اور امریکہ یوکرین کے ساتھ ہیں اور دوسری طرف روس ہے۔ کوئی بھی فریق اس جنگ میں ہارنا نہیں چاہے گا۔ جیسے ہی اسے شکست ہو گی وہ مزید سنجیدہ اقدامات کرے گا۔ اس سے معاشی بحران مزید گہرا ہو جائے گا۔‘

اعداد و شمار پر سوالات

انڈیا جی ڈی پی کے لحاظ سے برطانیہ کو پیچھے چھوڑ کر پانچویں نمبر پر آگیا ہے، لیکن کچھ تجزیہ کاروں نے ان اعداد و شمار پر شک ظاہر کیا ہے۔

ارون کمار کہتے ہیں کہ 2019-20 سے پہلے بھی، ہم سوچ رہے تھے کہ ہم برطانیہ کو عبور کر لیں گے لیکن پھر کووڈ کی وبا آئی اور معیشت گر گئی، اب حکومت کہہ رہی ہے کہ معیشت دوبارہ پٹری پر آ گئی ہے۔ ترقی کی شرح سات ہے، لیکن یہ اعداد و شمار صرف منظم شعبے پر مبنی ہیں۔ ان میں غیر منظم شعبہ شامل نہیں ہے۔‘

ارون کمار کہتے ہیں کہ ’میرے اندازے کے مطابق انڈیا کی معیشت حقیقی اعداد و شمار میں پانچویں سے ساتویں نمبر پر آگئی ہوگی کیونکہ انڈیا میں 94 فیصد مزدور غیر منظم شعبے میں کام کرتے ہیں اور یہ ملک کی پیداوار کا 45 فیصد بنتا ہے۔ غیر منظم شعبے میں مسلسل کمی۔ خاص طور پر کووڈ کے وبائی مرض کے دوران اس شعبے میں کمی آئی ہے۔ لیکن یہ اعداد و شمار ہمارے جائزے میں شامل نہیں ہیں۔ ہم صرف منظم شعبے کے اعداد و شمار کو شامل کر رہے ہیں۔‘

بلومبرگ نے آئی ایم ایف کے اعداد و شمار کی بنیاد پر انڈیا کی معیشت کے بارے میں تازہ ترین جائزہ لیا ہے۔ اس پر سوال اٹھاتے ہوئے ارون کمار کہتے ہیں کہ ’آئی ایم ایف کے اعداد و شمار کی بنیاد پر کہا جا رہا ہے کہ ہم پانچویں نمبر پر آ گئے ہیں، لیکن آئی ایم ایف کے پاس اپنا کوئی ڈیٹا نہیں ہے۔‘

کہا جاتا ہے کہ انڈیا میں منظم سیکٹر یعنی کارپوریٹ بہت تیزی سے ترقی کر رہا ہے لیکن غیر منظم شعبہ پسماندہ ہو رہا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہماری تقسیم مسلسل خراب ہو رہی ہے۔ اوپر والا طبقہ اچھا کام کر رہا ہے، اس کی آمدنی بڑھ رہی ہے۔ لیکن نچلا طبقہ غریب تر ہوتا جا رہا ہے۔