انڈیا کے اسکول میں بدروحوں کے اثرات یا بچیوں میں اعصابی تناؤ

448

انڈیا کی شمالی ریاست اتراکھنڈ کے سوشل میڈیا اور مین سٹریم میڈیا میں ایک ویڈیو وائرل ہےریاست میں باگیشور ضلع کے ایک سرکاری سکول کی اس ویڈیو میں سکول کی کچھ طالبات بدحواسی کے عالم میں چیخ و پکار کرتی اور پریشان نظر آرہی ہیں۔اگرچہ مقامی لوگ اسے بدروحوں کے اثرات کے طور پر دیکھ رہے ہیں لیکن انتظامیہ لڑکیوں کی کاؤنسلنگ اور علاج کے لیے کوشاں ہے۔

ایک جانب مقامی میڈیا اسے ‘ماس ہسٹیریا’ قرار دے رہا ہے، وہیں ماہرین نفسیات اس کے پیچھے کسی صدمے کا شبہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ایک دوسرے کو دیکھ کر ایسا کرنا کوئی عجیب بات نہیں۔بدروحوں، نفسیات، سماجی ڈھانچے اور صدمے کی اس کہانی کے مرکز میں آٹھویں جماعت کی ایک لڑکی ہے جسے شاید کوئی صدمہ پہنچا ہے اور وہ اتنی سمارٹ بھی ہے کہ انسٹاگرام پر فعال ہے۔

اچانک لڑکیوں نے چیخنا شروع کر دیا
باگیشور ضلع ہیڈکوارٹر سے تقریباً 35-36 کلومیٹر دور گورنمنٹ گرلز جونیئر ہائی سکول رائکھولی میں کل 55 طالبات زیر تعلیم ہیں۔

26 جولائی کو اچانک کچھ لڑکیاں چیخنے چلانے لگیں اور بدحواس ہو گئیں۔ اگرچہ چھٹی سے آٹھویں تک کی تعلیم کے لیے مختص اس سکول میں تین اساتذہ ہیں لیکن اس دن صرف ایک ہی موجود تھیں

بچیوں کی چیخ و پکار سن کر گاؤں کے لوگ بھی سکول پہنچ گئے۔ ان میں سے کچھ نے بچوں کے سروں پر چاول پھیرنے شروع کر دیے (بدروحوں کو وقتی طور پر پرسکون کرنے کی مقامی کوشش)، کچھ بچوں کو سنبھالنے لگے۔گاؤں کے ایک رہائشی نے اس واقعے کی ویڈیو بنا لی، جو وائرل ہوگئی۔ اگلے دن بھی سکول میں ایسا ہی ہوا۔

اس کے بعد ضلع ہیڈکوارٹر میں تعلیم اور صحت کے محکمے حرکت میں آئے اور 28 جولائی کو باگیشور کے چیف ایجوکیشن آفیسر، ایڈیشنل چیف میڈیکل آفیسر، ایس ڈی ایم ہر گری اور کونسلر (نفسیاتی مشیر) سکول پہنچے۔یہاں بچوں اور والدین کی کاؤنسلنگ کی گئی اور قریبی ہیلتھ سینٹر بوہالہ کے میڈیکل آفیسر کو اگلے چار پانچ دنوں تک ان کی نگرانی کی ہدایت دی گئی۔

بچوں میں خوف و ہراس تھا۔۔
ایڈیشنل چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر ہریش پوکھریا نے بی بی سی کو بتایا کہ جب وہ سکول پہنچے تو ایسا لگ رہا تھا کہ بچے کچھ ڈرے سہمے ہوئے ہیں۔ یہ اس لیے بھی ہو سکتا ہے کہ یہ سب کچھ دو دنوں سے جاری تھا اور بہت سے لوگ وہاں پہنچ رہے تھے۔

ڈاکٹر پوکھریا نے کہا کہ ٹیم نے بچوں کے حوصلے بلند کرنے کی کوشش کی۔ ان کے ساتھ کھیل کود کیا، کھانا کھایا اور ان کا موڈ بہتر کرنے کے لیے وٹامن سی کی گولیاں دیں۔

ان کا کہنا ہے کہ باقی بچے تو ٹھیک تھے لیکن آٹھویں جماعت کی ایک لڑکی کا رویہ کچھ مختلف ہی نظر آيا۔ اس دن بھی اسے ہسٹیریا جیسے دورے پڑ رہے تھے۔

ٹیم نے اس لڑکی کے گھر والوں سے کہا کہ اگر اسے مزید کوئی مسئلہ درپیش ہے تو وہ اسے ہسپتال میں داخل کراسکتے ہیں اور اس کا علاج شروع کرسکتے ہیں لیکن اہل خانہ اس پر راضی نہیں تھے۔

ڈاکٹر پوکھریا کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا تھا کہ یہ لڑکی اپنے ساتھیوں میں بااثر ہے۔ وہ اس بچی کو ایک کیٹلسٹ (وہ شخص، واقعہ یا مادہ جو تبدیلی کا باعث بنتا ہے) کہتے ہیں۔

علاج شروع کیا جائے گا’
ڈاکٹر پوکھریا کا کہنا ہے کہ جسے ماس ہسٹیریا کہا جا رہا ہے اس کی ابتدا بھی اسی لڑکی سے ہوئی۔ اسے دیکھ کر دوسرے بچے (کل 6 لڑکیاں، 2 لڑکے) نے بھی ایسا ہی کرنا شروع کر دیا۔

ڈاکٹر پوکھریا کو گاؤں کے لوگوں سے بات چیت کے دوران معلوم ہوا کہ اس لڑکی کا انسٹاگرام پر اکاؤنٹ ہے۔ انتظامیہ کی ٹیم نے بچی کی والدہ کو بلایا اور ان سے بات کی اور اسے اپنی بیٹی پر نظر رکھنے کو کہا۔

اس کے بعد اس لڑکی کے ساتھ دو دیگر طالبات کو بھی دو دن کی چھٹی دے دی گئی تاکہ وہ آرام کر سکیں اور سکول میں بھی امن و سکون رہے۔

محکمہ صحت کی ٹیم نے اس ‘کیٹلسٹ’ پر نظر رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ڈاکٹر پوکھریا کا کہنا ہے کہ اگر اگلے دو دنوں میں لڑکی کی حالت نارمل نہیں ہوتی ہے تو اسے باگیشور کے ہسپتال میں داخل کر کے علاج شروع کیا جائے گا۔

وہ بتاتے ہیں کہ باگیشور ہسپتال میں ایمس (انڈیا دہلی کے معروف ہسپتال کا ایک سلسلہ) کے سائیکاٹری ڈیپارٹمنٹ کی ٹیلی میڈیسن کی سہولیات دستیاب ہیں۔ لڑکی کو نگرانی میں رکھتے ہوئے رشیکیش میں موجود ایمس کے ڈاکٹروں کی رہنمائی میں اس کا علاج کیا جائے گا۔

ٹراما یا صدمہ:

باگیشور ضلع پنچایت کے رکن چندن راوت رائکھولی گاؤں کے رہنے والے ہیں اور و ہ سکول کے قریب ہی رہتے ہیں۔ راوت ایک فارماسسٹ بھی ہیں۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ جس لڑکی کی وجہ سے یہ سب کچھ ہو رہا ہے، جمعرات کو گھر میں اس کی طبیعت خراب ہو گئی تھی اور وہ سکول میں بھی گھر جیسی ہی حرکت کر رہی تھی۔ انھوں نے گھر جا کر اس کی مدد کی تھی۔

اب گاؤں والے اب ایک چھوٹی سی پوجا (بدروح کو پرسکون کرنے کے لیے) کروانے کی سوچ رہے ہیں تاکہ سکون قائم ہو سکے۔

راوت کا کہنا ہے کہ دو تین ماہ قبل گاؤں کی ایک معمر خاتون نے سکول سے تقریباً 500 میٹر نیچے پھانسی لگا لی تھی۔ وہ لڑکی کی رشتہ دار تھی اور جس جگہ اس نے خودکشی کی وہ جگہ لڑکی کے گھر کے قریب ہی تھی.

راوت کا کہنا ہے کہ لڑکی نے خاتون کی لاش درخت پر لٹکتی دیکھ لی تھی اور شاید اسے دیکھ کر اسے صدمہ لگا تھا۔ ان کا خیال ہے کہ اس لڑکی نے یہ سب اپنے دوستوں کو بتایا ہوگا اور وہ اس وقت بھی وہی سوچ رہی ہوگي جب وہ اچانک ہائپر ہوگئی ہوگی۔

اور اسے دیکھ کر باقی لڑکیاں بھی بدحواس ہو گئیں اور ماس ہسٹیریا جیسا ماحول پیدا ہو گیا۔لیکن کسی واقعے، صدمے کے اتنے عرصے بعد اس طرح کے اچانک رویے کی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟

اتراکھنڈ کی سٹیٹ مینٹل ہیلتھ اتھارٹی کے رکن اور نفسیاتی امراض کے ماہر ڈاکٹر پون شرما اسے ایک عام بات قرار دیتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ پہاڑوں پر ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں کہ اگر کسی کو چیتا، ریچھ، شیر نظر آتا ہے تو وہ اس سے لڑتے ہیں لیکن جب بعد میں گاؤں آ کر اس واقعہ کے بارے میں بتاتے ہیں تو بیہوش ہو جاتے ہیں۔

ان کے مطابق ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ جس وقت وہ جانور سے لڑ رہے ہوتے ہیں تو وہ اس واقعے میں شامل ہوتے ہیں۔ جب وہ آکر کسی کو اس کے بارے میں بتاتے ہیں تو انھیں احساس ہوتا ہے کہ وہ کس خوفناک صورتحال سے گزرے تھے۔ پھر ان کا دماغ بتاتا ہے کہ وہ ڈرے ہوئے ہیں اور وہ بیہوش ہو جاتے ہیں۔

تو کیا ماس ہسٹیریا کا سبب کیا ہو گا؟
ڈاکٹر شرما کا کہنا ہے کہ ایک کو دیکھ کر دوسرے کا اسی طرح کا ردعمل کوئی عجیب بات نہیں، ہمارا دماغ ایسا کرتا ہے۔ جیسے جمائی کی مثال لے لیں۔

ان کا کہنا ہے کہ آج تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ایک کی جمائی دوسرے تک کیسے پہنچ جاتی ہے۔ اگر ایک آدمی جمائی لے گا تو دوسرا بھی ایسا ہی کرے گا، اور تیسرا چوتھا بھی جمائی لے گا۔۔۔

درحقیقت دوسروں سے متاثر ہو کر ہمارا دماغ لاشعوری طور پر ایسی لہریں خارج کرتا ہے اور جسم بھی ایسا ہی کرنا شروع کر دیتا ہے۔

مثال کے طور پر اگر ایک شخص سوگ کے ماحول میں رونا شروع کردے تو اس کا بھی سلسلہ وار ردعمل سامنے آتا ہے اور دوسرے بھی رونے لگتے ہیں۔

ایسا پہلی بار نہیں ہوا
باگیشور کے چیف ایجوکیشن آفیسر، گجیندر سون کا کہنا ہے کہ جمعرات کو دو تین طالبات کے سکول سے جانے کے بعد، سب کچھ پرامن طریقے سے گزرا اور جمعہ کو سب کچھ معمول پر تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ ایسا پہلی بار نہیں ہوا ہے۔ چمولی، الموڑہ، پتھورا گڑھ سمیت کئی مقامات پر اس طرح کے واقعات منظر عام پر آ چکے ہیں۔ یہ سب تین چار دن سے زیادہ نہیں رہتے۔ پھر سب کچھ نارمل ہو جاتا ہے۔

سون کہتے ہیں کہ اب سہولیات بھی ہیں اور پہنچنا بھی آسان ہے۔ محکمہ تعلیم، طبی محکمہ اور انتظامیہ سبھی رکھولی پہنچ گئے۔ بچوں کا معائنہ بھی کیا گیا اور کونسلنگ بھی کی گئی۔

انھیں امید ہے کہ پیر سے جب تمام بچے سکول آنا شروع کریں گے تو سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا، اب ایسا کچھ نہیں ہوگا۔

تاہم ڈاکٹر شرما کا کہنا ہے کہ جن بچوں کو ایسا صدمہ پہنچا ہے یا وہ ایسے حالات سے گزر چکے ہیں یہ صدمہ ان کی پوری زندگی کو متاثر کرے گا۔

خیال رہے کہ ایک رپورٹ کے مطابق دسمبر سنہ 2021 میں اتراکھنڈ کے 13 میں سے صرف دو اضلاع میں سائیکاٹرسٹ کی پوسٹنگ تھی اور 11 اضلاع میں دماغی صحت کے ماہرین دستیاب نہیں تھے۔ اس صورتحال میں تبدیلی کا امکان بھی نہیں ہے۔

باگیشور کے دور افتادہ گاؤں میں ذہنی صدمے سے گزرنہ والی ایک بچی کا علاج ہو سکتا ہے لیکن ان میں سے زیادہ تر بچے خدا کے بھروسے پر ہیں۔