انڈیا کی وہ خاتون جنھیں ’اپنی مونچھ سے پیار ہے

1,484

انڈیا میں ایک خاتون کی مونچھ توجہ کا مرکز بن چکی ہے جس پر کچھ لوگ تو ان کی تعریف کر رہے ہیں لیکن کئی ایسے بھی ہیں جو ان کو مذاق کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ لیکن خود ان خاتون کا کہنا ہے کہ ان کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔35 سالہ شجا کے واٹس ایپ پر ان کی تصویر کے نیچے یہ عبارت موجود ہے کہ ‘مجھے اپنی مونچھ سے پیار ہے۔`
جو لوگ ان سے ملتے ہیں یا پھر فیس بک پر ان کی تصاویر دیکھتے ہیں وہ ان سے یہ سوال ضرور کرتے ہیں کہ آخر انھوں نے مونچھ کیوں رکھی۔ وہ کہتی ہیں کہ ‘میں صرف یہی کہہ سکتی ہوں کہ مجھے اچھی لگتی ہے، بہت اچھی۔`

شجا، جو صرف اسی نام سے جانی جاتی ہیں، انڈیا کی جنوبی ریاست کیرالہ کے کنور ضلع میں رہتی ہیں۔ کئی خواتین کی طرح ان کے ہونٹوں کے اوپر بھی بال تھے۔ لیکن جہاں وہ اپنی بھنویں ترشوا لیتی تھیں انھوں نے کبھی مونحھ چھوٹی کروانے کی ضرورت محسوس نہیں کیتقریبا پانچ سال قبل یہ بال ایک گھنی مونچھ کی شکل اختیار کرنے لگے تو شجا نے خوشی خوشی اسے برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔

‘اب میں اس کے بغیر نہیں رہ سکتی۔ جب کورونا کی وبا پھیلی تو مجھے ہر وقت ماسک پہننا بہت برا لگتا تھا کیوں کہ میرا چہرہ ڈھک جاتا تھا۔`

کئی لوگوں نے ان کو مشورہ دیا کہ وہ اسے صاف کروا لیں لیکن انھوں نے انکار کر دیا۔ ‘مجھے کبھی نہیں لگا کہ میں اس کی وجہ سے خوبصورت نہیں ہوں یا یہ کوئی ایسی چیز ہے جو نہیں ہونی چاہیے۔`

خواتین کو اکثر بتایا جاتا ہے کہ چہرے کے بال ناپسندیدہ ہیں اور ان کو کٹوا لینا بہتر ہے یا پھر باقاعدگی سے ترشوا لینا اچھی بات ہے۔ بال ہٹانے کے لیے ویکس، ریزر اور کریمز کی مصنوعات تیار کرنے کی اب ایک اربوں ڈالر کی انڈسٹری بن چکی ہے جو ایسی خواتین صارفین پر انحصار کرتی ہے جو ایک خطیر رقم خرچ کر سکتی ہیں۔لیکن حالیہ برسوں میں کئی خواتین نے معمول سے ہٹ کر چہرے کے بالوں کو فخر سے اپنانا شروع کر دیا ہے

2012 میں مثبت جسمانی مہم کی رکن ہرنام کور گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کے مطابق دنیا کی پہلی خاتون بنیں جنھوں نے باقاعدہ داڑھی رکھی۔ انٹرویوز میں انھوں نے اکثر بتایا ہے کہ کیسے چہرے کے بالوں کو تسلیم کرنا ان کے لیے خود سے پیار کرنے کا ایک اہم حصہ تھا جب کہ ان کو اس کی وجہ سے بہت کچھ سہنا پڑا۔

شجا کے لیے ان کی مونچھ ان کی شناخت کا حصہ ہے

وہ کہتی ہیں کہ ‘میں بس وہی کرتی ہوں جو مجھے اچھا لگتا ہے۔ اگر میرے پاس دو زندگیاں ہوتیں تو شاید میں ایک دوسروں کے لیے جی لیتی۔`
اس رویے کی ایک وجہ برسوں تک بیماری سے جنگ بھی ہے۔ گزشتہ دہائی کے دوران شجا کے چھ آپریشن ہو چکے ہیں۔ ایک ان کی چھاتی سے ممکنہ سرطان اور دوسرے میں ان کی اووری سے سسٹ نکالنے کے لیے کیا گیا۔ پانچ سال قبل ان کی آخری سرجری ہسٹیریکٹومی کی تھی۔

وہ بتاتی ہیں کہ ‘ہر بار جب میں سرجری سے باہر آتی تو مجھے لگتا اب میں دوبارہ کبھی آپریشن تھیٹر واپس نہیں جاؤں گی۔`

صحت کے ان گنت مسائل پر قابو پانے کے عمل نے شجا کے اس یقین کو پختہ کر دیا کہ ان کو زندگی اس انداز میں جینی ہے وہ خوش رہیں۔ شجا بتاتی ہیں کہ بچپن میں وہ بہت شرمیلی تھیں۔ ان کے گاؤں کی خواتین شام چھ بجے کے بعد گھر کے باہر نہیں جاتی تھیں۔

اگرچہ کیرالہ کا شمار انڈیا کی ترقی پسند ریاستوں میں کیا جاتا ہے پھر بھی یہاں کے اکثر علاقوں میں پدرانہ رویے غالب ہیں اور خواتین کے اکیلے سفر کرنے یا رہائش پذیر ہونے کو اچھا نہیں سمجھا جاتا۔

جب شجا کی شادی ہوئی تو وہ تامل ناڈو چلی گئیں۔ شجا کہتی ہیں کہ یہاں انھوں نے ایک نئی قسم کی خود مختاری دریافت کی
‘میرے شوہر کام پر جاتے تو دیر سے لوٹتے۔ تو میں شام میں گھر کے باہر بیٹتھ جاتی تھی۔ کبھی ضرورت پڑتی تو رات کو اکیلے ہی پیدل سٹور چلی جاتی۔ کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔ جیسے جیسے مجھے خود کام کرنے کی عادت ہوتی گئی، میرا اعتماد بڑھتا گیا۔`وہ کہتی ہیں کہ اب وہ یہی اعتماد اور رویہ اپنی بیٹی کو منتقل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔شجا کے خاندان اور ان کے دوستوں نے ان کی مونچھ پر ان کا ساتھ دیا ہے۔ ان کی بیٹی تو ان کو کہتی ہے کہ یہ ان پر اچھی لگتی ہے۔

لیکن شجا کہتی ہیں کہ ان کو گلی میں ہر قسم کے جملے سننے کو ملتے ہیں۔ ‘کچھ لوگ مذاق اڑاتے ہیں کہ مرد کی مونچھ ہوتی ہے، عورت کیوں رکھے گی؟`

گزشتہ برسوں کے دوران مقامی میڈیا میں ان کا تذکرہ کئی بار ہوا۔ حال ہی میں انھوں نے ایک مقامی خبر رساں ادارے کے ان پر لکھے جانے والے آرٹیکل کی فیس بک پوسٹ پر طنزیہ کمنٹس پڑھے۔ایک شخص نے لکھا کہ وہ مونچھ کیوں نہیں صاف کر لیتیں جبکہ ان کی بھنویں واضح طور پر ترشوائی گئی ہیں۔ شجا سوال کرتی ہیں کہ ‘کیا یہ میری پسند نہیں کہ میں کیا کرنا چاہتی ہوں اور کیا نہیں؟`

شجا کے دوست اکثر فیس بک پر ایسے کمنٹس کا غصے سے جواب دیتے ہیں لیکن وہ کہتی ہیں کہ ان کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔‘بلکہ کبھی کبھار تو میں ان پر ہنسنے کے لیے پڑھ لیتی ہوں۔( بہ شکریہ بی بی سی اردو ڈاٹ کام)