انڈیا: کیا ’لیو اِن ریلیشن شپ‘ میں رہنے والی خواتین کے کوئی حقوق ہوتے ہیں؟

329

دہلی کے شردھا قتل کیس نے لوگوں کے دلوں کو جھنجوڑ کر رکھ دیا ہے۔الزام ہے کہ شردھا کے ساتھ رہنے والے آفتاب پونا والا نے اُنھیں بے دردی سے قتل کیا ہے۔ پولیس کے مطابق رواں سال مئی کے مہینے میں آفتاب پونا والا نے پہلے 27 سالہ شردھا والکر کو قتل کیا اور پھر ان کی لاش کے 35 ٹکڑے کر کے جنگل میں پھینک دیے۔

دہلی میں ہونے والے اس واقعے نے ایک بار پھر لوگوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور ہر طرف اسی کیس کے بارے میں بات ہو رہی ہے۔پولیس نے آفتاب کو گرفتار کر لیا ہے اور معاملے کی تفتیش کی جا رہی ہے۔

آفتاب پونا والا اور شردھا دونوں ہی کا تعلق ریاست مہاراشٹر سے تھا لیکن دہلی میں رہ رہے تھے۔

دونوں لیو ان ریلیشن شپ میں تھے۔ اس واقعے نے سماجی اور نفسیاتی سطح پر ایک بحث چھیڑ دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں کہ لیو ان ریلیشن شپ کے قانونی مضمرات کیا ہیں۔ اس میں رہنے والی عورت کے کیا حقوق ہیں اور قانون اس بارے میں کیا کہتا ہے۔

اس بارے میں مزید معلومات کے لیے ہم نے پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کی سینیئر وکیل ریٹا کوہلی سے بات کی۔

ریٹا کوہلی کا کہنا ہے کہ لیو ان ریلیشن شپ غیر قانونی نہیں ہے لیکن قانون میں اس کی کہیں بھی کوئی تشریح نہیں ہے۔ان کے بقول عدالت نے ایسے رشتے کے حوالے سے فیصلوں میں کہا ہے کہ ’دو بالغ افراد جو اپنی مرضی سے ایک ساتھ رہنا چاہتے ہیں، وہ لیو ان ریلیشن شپ ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’معاشرے میں اس کی کوئی اخلاقی شناخت یا قبولیت نہیں ہے لیکن آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت کسی بھی فرد کو اس کی زندگی اور ذاتی آزادی سے محروم نہیں کیا جا سکتا‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اس کے تحت اسے قانونی کہا جا سکتا ہے لیکن ہمارا معاشرہ اب بھی اسے اخلاقی طور پر قبول نہیں کرتا۔‘سنہ 2006 میں سپریم کورٹ نے ایک کیس میں کہا تھا کہ ’بالغ ہونے کے بعد کوئی شخص کسی کے ساتھ بھی رہنے یا شادی کرنے کے لیے آزاد ہے‘۔ عدالت نے کہا تھا کہ کچھ لوگوں کی نظر میں ’غیر اخلاقی‘ ہونے کے باوجود، اس طرح کے تعلقات میں رہنا ’جرم نہیں‘ ہے۔

لیکن اس کے باوجود مختلف عدالتوں نے اس حوالے سے مختلف مؤقف اختیار کیا ہے۔ سنہ 2021 کے ایک کیس میں، پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ نے کہا تھا، ’دراصل، عرضی گزار موجودہ پٹیشن کی آڑ میں اپنے لیو ان ریلیشن شپ پر منظوری کی مہر لگانے کی کوشش کر رہے ہیں جو اخلاقی اور معاشرتی طور پر قابل قبول نہیں ہے اور اس میں کوئی مثبت حکم جاری نہیں کیا جا سکتا۔‘

درحقیقت اس معاملے میں ایک 19 سالہ لڑکی اور ایک 22 سالہ لڑکے نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا کہ ان کی حفاظت کے لیے پنجاب پولیس اور ضلع ترن تارن پولیس کو ہدایات جاری کریں۔ اسی طرح 2021 میں الہٰ آباد ہائی کورٹ نے لیو ان ریلیشن شپ میں رہنے والے دو بالغ جوڑوں کے پولیس تحفظ کے مطالبے کو برقرار رکھتے ہوئے کہا کہ یہ ’آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت زندگی کے حق‘ کے زمرے میں آتا ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ لیو ان ریلیشن شپ کو ذاتی آزادی کے نقطہ نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہے نہ کہ سماجی اخلاقیات کے نقطہ نظر سے

لیو اِن میں رہنے والی خواتین کے حقوق کے بارے میں بات کرتے ہوئے ریٹا کوہلی کہتی ہیں کہ ’کسی کے لیے کوئی قانونی حقوق نہیں ہیں، چاہے وہ عورت ہو یا مرد، کیونکہ آپ ایک طرح سے اس رشتے کو خود ہی منتخب کرتے ہیں‘۔

وہ مزید کہتی ہیں، ’جہاں شادی شدہ خواتین کو تحفظ اور بہت سے حقوق حاصل ہیں، وہیں لیو اِن میں رہنے والی خواتین کےحقوق میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ ان کا رشتہ کتنا پرانا اور قابل قبول ہے‘۔

وہ مزید کہتی ہیں، ’اگر کوئی عورت چند مہینوں کے صحبت کے بعد عدالت جاتی ہے اور شادی شدہ عورت کے برابر حقوق مانگتی ہے، تو ہو سکتا ہے اسے وہ حقوق نہ ملیں لیکن اگر رشتہ دیرینہ ہے اور وہ معاشرے میں میاں بیوی کی حیثیت سے رہ رہے ہیں، تو اس صورت میں قانونی طور پر شادی شدہ عورت کے طور پر حقوق لیے جا سکتے ہیں۔‘

ریٹا کوہلی نے یہاں واضح کیا کہ عدالتوں نے بھی وقتاً فوقتاً فیصلوں اپنے فیصلوں میں ایسا ہی کہا ہے لیکن اگر ہم قانونی حقوق کے ساتھ اس کی تشریح کو دیکھیں تو ایسا نہیں ہے۔

لیو ان ریلیشن شپ کو قبول کرنے کی مدت کے بارے میں ریٹا کوہلی کا کہنا تھا کہ ‘ایسی کوئی حد نہیں ہے، جس میں کہا جائے کہ دو یا پانچ سال کے بعد رشتے کو قانونی حیثیت مل جائے گی’۔

ان کا کہنا ہے کہ ’جو جوڑے معاشرے میں میاں بیوی جیسا سلوک کرتے ہیں اور ان کا رشتہ میاں بیوی جیسا ہوتا ہے اور معاشرہ بھی اُنھیں قبول کرتا ہے، ایسی صورت میں وہ عدالت میں جا کر اپنے حقوق کا مطالبہ کر سکتے ہیں، لیکن اس کے لیے وقت کی کوئی حد نہیں ہے‘۔