انڈیا کا ہم جنس پرست جوڑا نورا اور عدیلہ: ’ہم ابھی شادی شدہ نہیں لیکن ہم شادی کرنا چاہتی ہیں‘

2,144

’اب ہمیں آزادی مل گئی ہے، ہم اپنے خوابوں کے مطابق اب زندگی گزار سکتی ہیں۔‘عدیلہ نسرین اور فاطمہ نورا اس سال کے شروع میں اس وقت سرخیوں میں آئیں جب جنوبی انڈیا کی ریاست کیرالہ کی ایک عدالت نے دونوں خواتین کو ان کے والدین کی طرف سے زبردستی علیحدہ کرنے کے بعد دوبارہ ساتھ رہنے کی اجازت دی۔

جب ان دونوں کو گھر والوں نے ساتھ رہنے سے منع کیا تو ان دونوں نے عدالت کا رخ کیا۔گذشتہ مہینے ایک بار پھر یہ دونوں میڈیا کی زینت بنیں۔ اس بار وجہ تھی دونوں کی شادی کی تصاویر۔ ان تصاویر میں دونوں کو دلہن کے روپ میں دیکھا جا سکتا ہے۔

چاندی کے زیورات سے مزین اور لہنگے میں ملبوس، ضلع ارناکلم میں سمندر کے کنارے ایک شامیانے کے نیچے یہ جوڑا اس وقت چمک دمک رہا تھا جب انھوں نے ایک دوسرے کے ساتھ انگوٹھیوں اور گلاب کے ہاروں کا تبادلہ کیا۔

جب 23 برس کی فاطمہ نورا نے اپنے فیس بک پیج پر تصاویر شیئر کیں تو اس کے بعد اس جوڑے کو مبارکبادیں دینے والوں کی قطار لگ گئی۔

عدیلہ نسرین نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم نے ابھی فوٹو شوٹ کرنے کی کوشش کی کیونکہ ہمیں لگا کہ یہ آئیڈیا بہت دلچسپ ہے۔

عدیلہ نسرین کے مطابق ’ہم ابھی شادی شدہ نہیں لیکن کسی وقت، ہم شادی کرنا چاہتی ہیں۔‘

انڈیا کی سپریم کورٹ نے سماجی کارکنوں اور ایل جی بی ٹی کی گروپس کی دہائیوں تک طویل قانونی جنگ کے بعد سنہ 2018 میں ہم جنس پرستی کو جرم کی فہرست سے نکال دیا تھا۔

ان برسوں کے دوران انڈیا میں اس کمیونٹی کے بارے میں آگاہی میں اضافہ ہوا لیکن ایسے جوڑوں کو اب بھی بدنامی اور مکمل قبولیت کے لیے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

فاطمہ اور عدیلہ بھی اس سے بہت واقف ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انھیں ابھی بھی فاطمہ کے خاندان سے علیحدگی کی دھمکیوں کا سامنا ہے۔

انڈیا میں ہم جنس شادیوں کی کوئی قانونی اجازت نہیں حالانکہ قانونی حیثیت دینے کی درخواستیں دلی ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ میں زیرالتوا ہیں۔

اس دوران کئی ہم جنس پرست جوڑے وابستگی کی تقریبات میں شرکت کرتے آئے ہیں۔

فاطمہ اور عدیلہ کو کیرالہ ہائیکورٹ سے ایک ساتھ رہنے کی اجازت ملی لیکن ان کے پاس وہ مراعات یا حقوق نہیں ہیں جو ایک شادی شدہ جوڑے کو انڈیا میں حاصل ہوں گے۔

عدیلہ کے مطابق ’اگر ہم کوئی فارم بھرتے ہیں تو وہ بیوی، شوہر یا والد کا نام پوچھتے ہیں۔ اپنے کام کی جگہ اور دوسری جگہوں پر، مجھے اب بھی اپنے والد کا نام استعمال کرنا پڑتا ہے۔ ہم حال ہی میں ایک ہسپتال میں تھے اور ہمیں اپنے باپ کے نام بتانے پڑے۔ یہ مایوس کن تھا۔‘یہ سب زیادہ مشکل ہے کیونکہ ان خواتین کا اپنے خاندانوں کے ساتھ اچھا تعلق نہیں۔

فاطمہ اور عدیلہ کی ملاقات ہائی سکول میں ہوئی اور پھر وہاں سے ان میں قربت پیدا ہو گئی۔ سکول چھوڑنے کے بعد کیرالہ کے مختلف اضلاع میں اپنے اہلخانہ کے ساتھ رہتے ہوئے ان کی ملاقات میں تین برس کا وقفہ آیا۔

اس عرصے میں وہ دونوں کیرالہ کے مختلف اضلاع میں کالج کی تعلیم حاصل کر رہی تھیں اور کبھی کبھار ایک دوسرے سے فون پر بات کر لیتی تھیں۔

وہ جن گروپس سے ملیں انھوں نے ان دونوں کو یہ مشورہ دیا کہ پہلے تعلیم مکمل کریں اور پھر ملازمت حاصل کریں۔ یہ وہی مشورہ ہے جو اب یہ دونوں اوروں کو پیش کرتی ہیں، جو ان سے اس مقصد کے لیے رابطہ کرتے ہیں۔

عدیلہ کہتی ہیں کہ وہ جانتی ہیں کہ نئے بندھن میں رہنے کے لیے اپنے قدامت پسند خاندانوں کا ساتھ چھوڑنا آسان نہیں ہوگا۔

وہ مزید کہتی ہیں کہ ’ہماری کمیونٹی میں، بہت سے لوگوں کا تعلیمی پس منظر اچھا نہیں۔ جب ہم لوگوں کو ملازمتیں تلاش کرنے میں مدد کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو تعلیم کی کمی اس حوالے سے رکاوٹ بن سکتی ہے۔‘

یہی وجہ ہے کہ وہ ہر اس شخص کو، جو ان جیسی صورتحال سے دوچار ہو سکتا ہے، کو مشورہ دیتی ہیں کہ وہ مالی طور پر پہلے خودمختار بنے۔

فاطمہ کہتی ہیں کہ ’اپنی مرضی کی زندگی گزارنے کے لیے ملازمت کا ہونا بہت ضروری ہے۔ مالی تحفظ کا مطلب ہے کہ آپ کسی اور کے رحم و کرم پر نہیں۔‘

عدالتی حکم کے بعد سے اس جوڑے کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ماضی میں جھانک کر کسی چیز کی کمی محسوس نہیں کرتی ہیں۔ وہ جو آزادی محسوس کرتی ہیں وہ ان کی زندگی کے ان حصوں سے ظاہر ہوتی ہے جو وہ سوشل میڈیا پر شیئر کرتی ہیں۔فاطمہ کہتی ہیں کہ ’میرا ارادہ اب بدلنے والا نہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ہم نے تلخ یادوں کو پیچھے چھوڑ دیا.( بی بی سی اردو ڈاٹ کام)