سنیچر کی صبح ممبئی میں مقیم آنکھوں کے سرجن ڈاکٹر اکشے نائر ایک 25 سالہ خاتون کا آپریشن کرنے کی تیاری کر رہے تھے۔ یہ خاتون تین ہفتے قبل ہی کووڈ 19 سے صحتیاب ہوئی تھیں۔

ہسپتال کے آپریشن تھیٹر میں ایک ناک، کان اور گلے کا ماہر ڈاکٹر ایک دوسری خاتون مریضہ کے علاج میں مصروف تھے۔ یہ مریضہ ذیابیطس کے مرض کا بھی شکار تھیں۔ ڈاکٹر نے ان کے ناک میں ایک ٹیوب ڈالی ہوئی تھی اور وہ اُن کے جسم میں سے میوکورمائیکوسز سے متاثرہ ٹیشوز نکال رہے تھے۔ میوکورمائیکوسز ایک نایاب مگر خطرناک فنگل انفیکشن ہے۔ یہ انفیکشن ناک، آنکھوں یا کبھی کبھی دماغ پر اثر انداز ہوتا ہے۔

جب یہ ڈاکٹر اپنی مریضہ کے میوکورمائیکوسز ٹشوز نکال دیں گے تو ڈاکٹر نائر اپنی مریضہ کا تین گھنٹوں کا آپریشن کریں گے جس میں وہ اُن کی ایک آنکھ نکال دیں گے۔

ڈاکٹر نائر بتاتے ہیں ’میں اُن کی جان بچانے کے لیے ایک آنکھ نکال دوں گا۔ یہ بیماری ایسے ہی کام کرتی ہے۔‘

اشتہار

انڈیا میں جہاں کووڈ 19 کی تباہ کُن دوسری لہر جاری ہے، وہیں ڈاکٹروں کی جانب سے اس نایاب فنگس جسے ‘بلیک فنگس’ بھی کہا جاتا ہے کے کیسز کووڈ کے مریضوں یا اس سے صحتیاب ہونے والوں میں تیزی سے سامنے آنے لگے ہیں۔

میوکورمائیکوسز کیا ہے؟

میوکورمائیکوسز ایک انتہائی نایاب قسم کا انفیکشن ہے جو کہ مٹی، پودوں، کھاد، اور گلے سڑے پھلوں اور سبزیوں میں پائے جانے والی پھپپوندی سے پھیلتا ہے۔ ڈاکٹر نائر کہتے ہیں کہ ’یہ ہر جگہ پایا جاتا ہے، مٹی میں، ہوا میں یہاں تک کہ صحت مند لوگوں کے ناک میں بھی ہوتا ہے۔‘

یہ ناک کی نالیوں، دماغ اور پھیپھڑوں پر اثر انداز ہوتا ہے اور ذیابیطس کے مریضوں یا ایسے لوگوں جن کا مدافعاتی نظام انتہائی کمزور ہو جیسے کہ ایڈز یا سرطان کے مریض، ان کے لیے یہ انفیکشن مہلک بھی ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’دنیا کی فارمیسی‘ کہلانے والا انڈیا کورونا کی افراتفری میں کیسے ڈوبا

کمبھ میلے میں شریک سادھو انڈیا میں کورونا کے وسیع پیمانے پر پھیلاؤ کا سبب کیسے بنے

’کینیڈا سے کال آئی کہ چھوٹے بھائی کی میت گھر پڑی ہے، اس کی آخری رسومات ادا کر دیں‘

ڈاکٹروں کا ماننا ہے کہ میوکورمائیکوسز کے کیسز میں تیزی اس لیے آ رہی ہے کیوںکہ کووڈ کے مریضوں میں سٹیرائڈز کا بہت زیادہ استعمال کیا جا رہا ہے۔ میوکورمائیکوسز انفیکشن میں مبتلا تقریباً 50 فیصد افراد ہلاک ہو جاتے ہیں۔

سٹیرائڈز پھیپھڑوں میں سوجن کم کرتے ہیں اور کووڈ کی وجہ سے مریض کا مدافعاتی نظام کیونکہ بہت تیزی سے چل رہا ہوتا ہے اور آپ کو نقصان پہنچانے لگتا ہے تو وہ اسے نظام کو بھی روکتے ہیں۔

مگر سٹیرائڈز کی وجہ سے قوتِ مدافعت کم ہونے لگتی ہے اور مریضوں کے خون میں شوگر کی سطح بڑھنے لگتی ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ قوتِ مدافعت میں یہ کمی میوکورمائیکوسز کے بڑھتے کیسز کی وجہ ہے۔

،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES

،تصویر کا کیپشن
کووڈ کے مریضوں کو صحتیابی کے لیے سٹرائیڈ دیے جاتے ہیں

ڈاکٹر نائر بتاتے ہیں کہ ’ذیابیطس قوتِ مداقعت کو کم کرتی ہے اور کورونا وائرس اس کو اور بگاڑ دیتی ہے۔ اس کے بعد کورونا وائرس کے علاج کے لیے سٹیرائڈز دیے جاتے ہیں جو جلتی پر تیل کا کام کرتے ہیں۔’

ڈاکٹر نائر ممبئی کے تین ہسپتالوں میں کام کرتے ہیں۔ ممبئی انڈیا میں سب سے زیادہ متاثرہ شہروں میں سے ایک ہے۔ صرف اپریل کے مہینے میں ہی ڈاکٹر نائر کے 40 مریض میوکورمائیکوسز کا شکار ہوئے۔ ان میں بہت سے ایسے ہیں جو پہلے ہی ذیابیطس کے مریض تھے اور کورونا وائرس سے کچھ عرصہ پہلے ہی صحتیاب ہوئے تھے۔ ان میں سے گیارہ کی کم از کم ایک آنکھ نکالنی پڑی ہے۔

دسمبر سے فروری کے دوران ڈاکٹر نائر کے چھ ساتھیوں نے پانچ مختلف شہروں ممبئی، بینگلورو، حیدرآباد، دلی، اور پونے میں اس انفیکشن کے 58 کیسز رپورٹ کیے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر نے کورونا وائرس سے صحتیاب ہونے کے 12 سے 15 دن میں یہ انفیکشن رپورٹ کیا ہے۔

گذشتہ دو ماہ میں ممبئی کے انتہائی مصروف سائیون ہسپتال میں 24 کیسز سامنے آئے ہیں۔ اس ہسپتال میں امراض ناک، کان، اور گلہ کے شعبے کی سربراہ ڈاکٹر رنکوکا براڈو کہتی ہیں کہ گذشتہ پورے سال میں صرف دو کیس سامنے آئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشن
ممبئی شہر کورونا کی وبا سے بری طرح متاثر ہوا ہے

ان میں سے گیارہ کی کم از کم ایک آنکھ ضائع ہوئی اور چھ کی موت واقع ہوئی۔ ڈاکٹر براڈو کے زیادہ تر مریض درمیانی عمر کے ذیابیطس کے مریض تھے جو کہ کورونا وائرس سے صحتیاب ہونے کے دو ہفتے بعد اس انفیکشن کا شکار ہوئے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’ہم ابھی سے ہفتے میں دو سے تین کیسز دیکھ رہے ہیں۔ وبا کے دوران یہ ایک انتہائی ڈراؤنے خواب کی طرح ہے۔‘

ادھر جنوبی شہر بنگلورو میں آنکھوں کے ایک سرجن ڈاکٹر راگھورائے بھی ایسی ہی کہانی سناتے ہیں۔ گذشتہ دو ہفتوں میں انھوں نے میوکورمائیکوسز کے 19 کیسز دیکھے ہیں اور ان میں سے زیادہ تر نوجوان تھے۔ وہ کہتے ہیں ان میں کچھ تو اتنے بیمار تھے کہ ہم ان کے آپریشن بھی نہیں کر سکتے تھے۔

ڈاکٹروں کو کورونا وائرس کی پہلی لہر کے مقابلے میں دوسری لہر کے دوران اس انفیکشن کی شدت اور کثرت دونوں پر حیرانگی ہے۔

ڈاکٹر نائر کہتے ہیں کہ گذشتہ دو سالوں میں انھیں ممبئی میں کل دس کے قریب کیسز کا سامنا ہوا۔ وہ کہتے ہیں اس سال کچھ مختلف ہے۔

ڈاکٹر راگھورائے کہتے ہیں ایک دہائی سے زیادہ عرصے کی پریکٹس میں انھوں نے کبھی سال میں ایک یا دو سے زیادہ کیسز نہیں دیکھے تھے۔

اس انفیکشن سے متاثرہ لوگوں میں عموماً ناک کے بھرے ہونے یا ناک سے خون آنے کی شکایت ہوتی ہے، اس کے علاوہ آنکھوں میں سوجن یا تکلیف، آنکھوں میں تھکاوٹ، یا نظر میں خرابی کی شکایات ہوتی ہیں۔ ناک کے گرد جلد پر کالے دھبے بھی ہو سکتے ہیں۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ زیادہ مریض ان کے پاس بہت دیر سے پہنچتے ہیں جب وہ پہلے ہی اپنی نظر کھو رہے ہوتے ہیں اور ڈاکٹروں کو آنکھ نکالنی پڑتی ہے تاکہ یہ انفیکشن دماغ تک نہ پہنچ جائے۔ کچھ کیسز میں تو ڈاکٹروں کو دونوں آنکھیں نکالنی پڑیں یا پھر جبڑا نکالنا پڑا تاکہ یہ مرض جسم میں پھیلے نہیں۔

فنگس کو ختم کرنے کے ٹیکے جنھیں آٹھ ہفتوں تک ہر روز لگانا پڑتا ہے، اور جن کی قیمت 3500 انڈین روپے ہے، ہی اس مرض کا واحد مؤثر علاج ہے۔

ماہرِ ذیابیطس ڈاکٹر راہل بخشی کہتے ہیں کہ فنگل انفیکشن کے امکان کو کم کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کورونا وائرس کے مریضوں کو علاج اور اس کے بعد صحتیابی میں سٹیرائڈز کی درست مقدار لگائی جا رہی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے گذشتہ سال میں 800 ذیابیطس کے مریضوں میں کورونا وائرس کا علاج کیا ہے اور ان میں سے کسی کو بھی یہ انفیکشن نہیں ہوا۔ وہ کہتے ہیں کہ ڈاکٹر کو مریضوں کو فارغ کرنے کے بعد بھی ان کے شوگر کی سطح کی نگرانی کرنی چاہیے۔‘

ادھر ایک اعلیٰ حکومتی اہلکار کا کہنا ہے کہ اس انفیکشن کا کوئی بڑا آوٹ بریک یعنی پھیلاؤ نہیں سامنے آ رہا۔ تاہم یہ کہنا مشکل ہے کہ میوکورمائیکوسز کے کیسز بڑھ کیوں رہے ہیں۔

ڈاکٹر راگھورائے کہتے ہیں کہ ’ایسا لگتا ہے کہ وائرس کی یہ قسم خون میں شوگر کی سطح کو بہت بڑھا دیتی ہے اور حیرانگی کی بات یہ ہے کہ یہ فنگل انفیکشن نوجوانوں کو بہت متاثر کر رہا ہے۔‘ ان کے سب سے کم عمر مریض ایک 27 سالہ مرد تھے جو کہ ذیابیطس کے مریض بھی نہیں تھے۔ ’ہمیں ان کے کورونا وائرس کے دوسرے ہفتے کے دوران ان پر آپریشن کرنا پڑا اور آنکھ نکالنی پڑی۔ یہ انتہائی افسوسناک تھا۔‘

سوتک بسواس

بی بی سی نامہ نگار، انڈیا