!-- Auto Size ads-1 -->

شرنیا ہرشکیش بی بی سی نیوز، دہلی
کیا یہ واقعی آسان ہے کہ نفرت انگیز تقریر کریں اور بچ جائیں؟10 اپریل کے ہندوؤں کے مذہبی تہوار رام نوامی سے پہلے ہونے والے کئی واقعات سے تو کچھ ایسا ہی لگتا ہے۔ اس تہوار پر نفرت انگیز تقاریر کی بھرمار رہی بلکہ کچھ ریاستوں میں تو تشدد کے واقعات بھی سامنے آئے۔انڈیا کے جنوبی شہر حیدرآباد میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے قانون دان نے، جن پر فیس بک نے 2020 میں نفرت انگیز تقریر کی وجہ سے پابندی لگا دی تھی، کہا ہے کہ جو کوئی بھی ہندوؤں کے بھگوان رام کا نام نہیں لے گا اسے انڈیا سے زبردستی نکال دیا جائے گا۔

اس سے کچھ دنوں پہلے ایک ہندو پجاری کی ایک وائرل ہونے والی ویڈیو میں نظر آیا کہ وہ شمالی ریاست اتر پردیش میں مسلمان خواتین کو مبینہ طور پر اغوا اور ریپ کرنے کی دھمکی دے رہے ہیں۔ پولیس نے ایک ہفتے کے بعد اس وقت ہی مقدمہ درج کیا جب ویڈیو وائرل ہونے کے بعد لوگوں نے اپنے غم و غصے کا اظہار کیا۔ بدھ کو انھیں گرفتار کر لیا گیا۔کم و بیش اسی دوران ایک اور ہندو پجاری یاتی نار سنگھ آنند سرسوتی نے دہلی میں ایک اور تقریر کی جس میں انھوں نہ ہندوؤں سے کہا کہ وہ اپنی بقا کے لیے ہتھیار اٹھا لیں۔ یاد رہے کہ یاتی پہلے ہی ایک اور نفرت انگیز تقریر کرنے کے مقدمے میں ضمانت پر رہا ہیں۔

تقریر دہلی کی ایک تقریب کے دوران کی گئی جس کے بارے میں دہلی پولیس کا کہنا ہے کہ منتظمین نے اس کی اجازت ہی نہیں لی تھی۔ تقریر میں نارسنگھ آنند کی ضمانت کی شرائط میں سے ایک کی خلاف ورزی بھی ہوئی تھی لیکن ابھی تک ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔

نفرت انگیز تقریر بھارت میں دہائیوں سے ایک مسئلہ رہا ہے۔ سنہ 1990 میں کشمیر کی کچھ مساجد نے ہندوؤں کے خلاف نفرت کو ہوا دینے کے لیے اشتعال انگیز تقاریر نشر کیں، جس کی وجہ سے مسلم اکثریت والی وادی کشمیر سے ہندوؤں کے اخراج کا آغاز ہوا۔ اسی سال، بی جے پی رہنما ایل کے اڈوانی نے ایودھیا کے شمالی قصبے میں ایک مندر کی تعمیر کے لیے ایک تحریک کی قیادت کی، جس کے نتیجے میں مشتعل ہندو ہجوم نے صدیوں پرانی بابری مسجد کو مسمار کر دیا اور فرقہ وارانہ فسادات شروع ہوئے۔

لیکن حالیہ برسوں میں اس مسئلہ میں تیزی آئی ہے، اور انڈیا کے لوگوں پر نفرت انگیز تقریر اور ایک دوسرے سے علیحدہ کرنے والے مواد کی باقاعدگی کے ساتھ بھرمار ہوتی ہے۔ سوشل میڈیا اور ٹی وی چینلز چھوٹی سطح کے سیاستدانوں کے ریمارکس اور ٹویٹس کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں، جن میں سے بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ سرخیاں بنانے کا سب سے آسان طریقہ ہے۔ سیاست تجزیہ کار نیلنجن سرکار کہتے ہیں کہ نفرت انگیز بیان بازی ’سرایت کرنے والی‘ اور ’نان سٹاپ‘ لگتی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’پہلے، نفرت انگیز تقاریر عام طور پر انتخابات کے دوران بڑھ جاتی تھیں۔ لیکن اب، ہمارے بدلے ہوئے میڈیا کے منظر نامے کے ساتھ، سیاست دانوں نے محسوس کیا ہے کہ ایک ریاست میں کہی گئی کوئی جارحانہ بات دوسری ریاست میں براہ راست سیاسی فائدے کے لیے فوراً بڑھائی جا سکتی ہے۔‘

نیوز چینل این ڈی ٹی وی نے، جس نے 2009 میں وزرا اور قانون سازوں سمیت بڑے سیاست دانوں کے جارحانہ بیانات کو جنھیں ’وی آئی پی ہیٹ سپیچ‘ کہا گیا ٹریک کرنا شروع کیا تھا، جنوری میں رپورٹ کیا کہ 2014 میں وزیر اعظم نریندر مودی کی ہندو قوم پرست حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ایسے تبصرے کئی گنا بڑھ گئے ہیں۔

بی جے پی کے کئی رہنماؤں پر جن میں ایک وفاقی وزیر بھی شامل ہے، نفرت انگیز تقریر کر کے سزا سے بچ جانے کا الزام بھی لگایا گیا ہے۔ کچھ اپوزیشن سیاست دان، جیسا کہ رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی اور ان کے بھائی اکبر الدین اویسی پر بھی نفرت انگیز تقاریر کرنے کا الزام ہے۔ دونوں نے الزام سے انکار کیا اور اکبر الدین اویسی کو بدھ کو 2012 سے نفرت انگیز تقریر کے دو مقدمات میں بری کر دیا گیا ہے۔ماہرین کہتے ہیں کہ انڈیا میں نفرت انگیز تقاریر سے نمٹنے کے لیے کافی قوانین ہیں۔

لیکن ان پر عمل درآمد کروانے کے لیے ایگزیکٹو کی ضرورت ہے۔ سینیئر وکیل انجانا پرکاش کہتی ہیں کہ ’اکثر اوقات وہ ان پر عمل درآمد کروانا ہی نہیں چاہتے۔‘انھوں نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی کہ کچھ ہندو مذہبی رہنماؤں کے خلاف کارروائی کی جائے جنھوں نے دسمبر میں اتراکھنڈ ریاست میں ہونے والے ایک پروگرام میں مسلمانوں کے خلاف تشدد کا مطالبہ کیا تھا۔

انڈیا میں نفرت انگیز تقریر کی کوئی قانونی تعریف نہیں کی گئی ہے۔ لیکن قوانین میں متعدد دفعات تقریر، تحریر اور اعمال کی کچھ شکلوں کو آزادی اظہار کی مد میں نہیں سمجھتیں۔ ان میں ایسی کارروائیاں بھی شامل ہیں جو مذہب کی بنیاد پر مختلف گروہوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دے سکیں اور جان بوجھ کر اور بدنیتی پر مبنی کارروائیاں، جن کا مقصد کسی بھی طبقے کے مذہب یا مذہبی عقائد کی توہین کرکے اس کے مذہبی جذبات کو مشتعل کرنا ہے۔نفرت انگیز تقاریر کا معاملہ اکثر انڈیا کی عدالتوں کے سامنے آتا رہا ہے۔ لیکن عدلیہ زیادہ تر آزادی اظہار پر پابندیاں عائد کرنے سے باز رہی ہے۔

سنہ 2014 میں ایک درخواست پر کارروائی کے دوران جس میں سپریم کورٹ کو کہا گیا تھا کہ وہ سیاسی اور مذہبی رہنماؤں کی نفرت انگیز تقاریر کو روکنے کے لیے کوئی ہدایات دے، سپریم کورٹ نے یہ تو تسلیم کیا کہ اس کا لوگوں پر بہت برا اثر پڑتا ہے لیکن ساتھ ساتھ موجودہ قوانین کے سکوپ سے آگے جانے سے بھی معذرت کر لی۔

عدالت نے کہا کہ ’غیر ضروری کاموں پر معقول پابندی لگانا ضروری ہے لیکن ممانعت کو کسی قابل انتظام معیار تک محدود رکھنے میں دشواری پیدا ہو سکتی ہے۔‘ اس کے بجائے عدالت نے لاء کمیشن سے کہا وہ مسئلے کا جائزہ لے۔

کمیشن نے سنہ 2017 میں حکومت کو پیش کی گئی اپنی رپورٹ میں نفرت انگیز تقریر کو جرم قرار دینے کے لیے تعزیرات ہند میں علیحدہ دفعات شامل کرنے کی سفارش کی۔لیکن کئی قانونی ماہرین نے مجوزہ ترامیم پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

سپریم کورٹ کے وکیل ادتیا شرما کہتے ہیں کہ ’نفرت انگیز تقریر کی تعریف کو خاص طور پر شناخت کرنے یا اسے وسیع کرنے کے قانون کا فائدہ اس وقت معمولی ہو سکتا ہے جب نفرت انگیز تقریر کے طور پر کوالیفائی کرنے والی چیز کو پہلے ہی جرم قرار دیا گیا ہو۔‘وہ کہتے ہیں کہ سب سے بڑی تشویش اداروں کی خود مختاری ہے۔ وہ برطانیہ کی مثال دیتے ہیں، جہاں پولیس نے اعلیٰ حکومتی اہلکاروں کو، جن میں وزیرِ اعظم بورس جانس بھی شامل ہیں، کووڈ قوانین کی خلاف ورزی میں پارٹیاں کرنے پر جرمانہ عائد کیا ہے۔انڈیا میں یہ کوئی انہونی بات نہیں کہ ریاستی ادارے جیسا کہ پولیس، سیاسی دباؤ کی وجہ سے اپنا کام سرانجام دیتے ہوئے ہچکچاتے ہوں۔

ورما کہتے ہیں کہ ’ہو سکتا ہے کہ قانونی گرے ایریاز ہوں، لیکن یہاں جو چیز زیادہ اہم ہے وہ بلیک۔لیٹر قانون ہے جس پر عمل درآمد نہیں ہو رہا ہے۔‘اس ’فرض سے غفلت‘ کے سنگین نتائج ہیں۔پرکاش پوچھتی ہیں کہ ’جب تک آپ اشتعال انگیز تقاریر کرنے والے شخص کو سزا نہیں دیتے، قانون کیسے روکنے والے کا کام کر سکتا ہے؟‘نفرت انگیز بیان بازی کو معمولی تصور کرنے کی ایک بڑی، زیادہ تکلیف دہ قیمت بھی ادا کرنی پڑتی ہے۔سرکار کہتے ہیں کہ ’جب ماحول اتنا ناخوشگوار ہو جاتا ہے، تو لوگ اتنے ڈر جاتے اور خوفزدہ ہو جاتے ہیں کہ وہ عام سماجی اور معاشی سرگرمیوں میں شامل ہونے سے پہلے دو بار سوچتے ہیں۔‘’اصل قیمت یہی ہے۔‘