سوشل میڈیا پر ایک عورت کو ٹرول کرنا یعنی اس کا مذاق اڑانا بہت سے لوگوں کے لیے سب سے زیادہ آسان کام ہوتا ہے اور یہ ٹرولِنگ زیادہ تر ذاتی حملوں پر مبنی ہوتی ہے۔

لیکن انڈیا میں مسلمان خواتین کی ہراسانی کے لیے کم ظرفی کی تمام حدیں پار ہوتی نظر آتی ہیں۔

یہ اتنا خطرناک ہے کہ بعض اوقات میں یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتی ہوں کہ میں اس پلیٹ فارم پر کیوں رہوں، کیا مجھے بولنا اور لکھنا چھوڑ دینا چاہیے؟

ہمیں جو گالیاں دی جاتی ہیں وہ نہ صرف صنف پر حملہ ہے بلکہ اسلامو فوبک یعنی اسلام مخالف بھی ہے۔ نسرین (جن کا نام تبدیل کیا گیا ہے) جب بولتی ہیں تو ان کی آواز میں خوف سے زیادہ غصہ ظاہر ہوتا ہے۔

فرض کیجیے ایک دن آپ صبح اٹھتی ہیں اور دیکھتی ہیں کہ انٹرنیٹ پر آپ کی تصاویر اور ذاتی معلومات ’نیلام‘ ہو رہی ہے اور کچھ لوگ آپ پر فحش تبصرے کر کے آپ کی بولی لگا رہے ہیں تو آپ پر کیا بیتے گی؟

گذشتہ اتوار اور پیر کو ایسا ہی ہوا جب سوشل میڈیا پر متعدد مسلم خواتین کی تصویروں کے ساتھ ایک اوپن سورس ایپ بنائی گئی تھی۔ اس ایپ کا نام تھا ’سُلی فار سیل۔‘

’سُلی‘ ایک توہین آمیز اصطلاح ہے جو مسلمان خواتین کے لیے استعمال ہوتی ہے۔

اس ایپ میں استعمال ہونے والی مسلمان خواتین کی معلومات ٹوئٹر سے لی گئی۔ اس میں 80 سے زائد خواتین کی تصاویر، ان کے نام اور ٹوئٹر ہینڈلز دیے گئے تھے۔

اس ایپ کے اوپری حصے میں لکھا تھا ’فائنڈ یور سلی ڈیل۔‘

اس پر کلک کرنے پر ایک مسلمان خاتون کی تصویر، نام اور ٹوئٹر ہینڈل کی تفصیلات صارفین سے شیئر کی جا رہی تھیں۔

’ایڈیٹر گلڈس آف انڈیا‘ نے بھی مسلم خواتین اور خواتین صحافیوں پر اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین صحافیوں کو ڈرانے کے لیے سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم کا استعمال تشویشناک ہے۔

’گٹ ہب‘ کا جواب

اس اوپن سورس ایپ کو گٹ ہب پر تیار کیا گیا جو انٹرنیٹ ہوسٹنگ کمپنی ہے۔ تاہم پیر کی شام اسے گٹ ہب نے ہٹا دیا۔

بی بی سی نے گٹ ہب سے ای میل کے ذریعے رابطہ کیا۔ گٹ ہب نے ہمارے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کہا ’ہم نے اس معاملے میں صارف کے اکاؤنٹ کو معطل کر دیا ہے۔ اطلاعات کی بنیاد پر تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ ایسا مواد جس میں کسی طرح کی تفریق، تشدد یا زیادتیوں کو بڑھاوا ملے ہماری پالیسیوں کی خلاف ورزی ہے۔‘

گٹ ہب کی سی او او ایرکا بریسیا نے ٹویٹ کیا کہ اس اکاؤنٹ کو معطل کر دیا گیا ہے تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ آخر یہ سب کس طرح ہوا۔

خوف اور غصہ

آن لائن ہراس کا شکار نسرین اس قدر خوفزدہ ہو گئی ہیں کہ وہ کہتی ہیں ’میرا نام نہیں لکھیے گا مجھے نہیں معلوم کہ آگے کیا ہو گا۔‘

وہ ان مسلم خواتین میں سے ایک ہیں جن کی تصاویر اور ذاتی تفصیلات اس ایپ پر نیلامی کے لیے رکھی گئی۔

نسرین نے بی بی سی سے کہا ’مجھے یہ اطلاع ایک ٹویٹ سے ملی کہ ایک لڑکی کے سکرین شاٹ کے ساتھ ایک صارف نے لکھا تھا میں ’اچھی ڈیل کی تلاش کر رہا تھا اور مجھے یہ ملا اس میں میری غلطی نہیں۔‘

’جب میں اس ایپ پر گئی تو اس پر لکھا گیا تھا ’فائنڈ اے سلی‘۔ جب میں نے اس پر کلک کیا تو ’یور ڈیل فار ٹوڈے‘ کے ساتھ میری تصویر اور ٹوئٹر اکاؤنٹ کی تفصیلات سامنے آ گئیں۔‘

’یہ دیکھ کر مجھے ڈر سے زیادہ غصہ آیا کیونکہ ایسا پہلی بار نہیں ہوا۔ اس سے قبل میری کچھ مسلم خواتین دوستوں کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے ایک ٹوئٹر صارف نے ’برائے فروخت‘ لکھا تھا۔

’لیکن اگلے ہی لمحے میں خوفزدہ ہو گئی کہ اس بار ہراسانی کی سطح ٹوئٹر سے آگے بڑھ گئی ہے۔ ہمیں ہراس کرنے کے لیے ایک پورا پلیٹ فارم تیار کیا گیا ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ آگے کیا کیا ہو سکتا ہے۔‘

’اگر مسلم خواتین بولتی ہیں تو انھیں ریپ کی دھمکیاں دی جاتی ہیں، ذاتی معلومات فروخت کی جاتی ہیں۔‘

’آپ چاہے کتنی ہی مضبوط کیوں نہ ہوں، اگر آپ کی تصویر اور آپ کی ذاتی معلومات عام کر دی جائیں تو یہ آپ کو خوفزدہ اور پریشان کرتا ہے۔ بہت سی لڑکیاں جن کو پہلی بار ایسی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا انھوں نے اپنے اکاؤنٹ حذف کیے۔ ان لڑکیوں کو ڈرا دیا گیا ہے۔‘

لیکن اتنے غصے اور خوف کے باوجود نسرین پولیس میں شکایت کرنے کے لیے تیار نہیں۔

وہ کہتی ہیں ’بہت سی خواتین اس کا نشانہ بنی ہیں۔ ہم اس کے بارے میں سوچ رہے ہیں کہ اس کے لیے کیا قانونی آپشنز ہو سکتے ہیں لیکن سچ پوچھیں تو مجھے پولیس سے زیادہ امید نہیں۔

’اس سے قبل جب میرے دوستوں کے ساتھ عید کے وقت ایسا ہی کچھ ہوا تھا تو انھوں نے تھانے میں شکایت درج کروائی تھی لیکن کچھ نہیں ہوا۔ مسلم خواتین کو کچھ بھی کہہ کر بچ نکلنا آسان ہے۔‘

اوپن سورس پلیٹ فارم

بی بی سی نے آرکائیو کے ذریعے اس ایپ کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی۔ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ اس ایپ کو 14 جون کو شروع کیا گیا۔

اس پر سب سے زیادہ سرگرمی چار سے پانچ جولائی کے درمیان ہوئی۔ یہ ایک اوپن سورس کمیونٹی ایپ تھی جو سافٹ ویئر کوڈنگ فراہم کرنے والے پلیٹ فارم ’گٹ ہب‘ پر تیار کی گئی۔

بی بی سی نے ایک کوڈر سے یہ سمجھنے کی کوشش کی کہ اوپن سورس پلیٹ فارم کیا ہیں اور وہ کیسے کام کرتے ہیں؟

دراصل اوپن سورس میں موجود کوڈ کو عام کر دیا جاتا ہے اور اس میں مختلف کمیونٹیز کے کوڈز کے ذریعے نئے فیچر جوڑے جا سکتے ہیں یا کوئی خامی ہے تو اسے دور کر سکتے ہیں۔ حالانکہ ان کوڈز کے ذریعے کی جانے والی تبدیلیاں ایپ میں ظاہر ہوتی ہیں یا نہیں، اس کا کنٹرول ایپ ڈیزائنر کے پاس رہتا ہے۔

اگر یہ ایپ ڈیزائنر سے خذف ہو جائے تو پھر ڈومین میں سسٹم پرووائڈر کے پاس اس ایپ سے متعلق اطلاعات ہوتی ہیں۔

‘سُلی فار سیل’ ایپ اب گٹ ہب پر موجود نہیں ہے۔ اور نہ ہی اس کے بارے میں کچھ پتا چل پایا ہے کہ اسے کس نے ڈیزائن کیا تھا۔

’یہ خوفناک ہے، ہندوؤں کو بھی ہمارے لیے آواز اٹھانی چاہیے‘

فرح خان (فرضی نام) اس وقت اپنے کام کے سلسلے میں باہر تھیں جب ان کے دوستوں نے اس ایپ کا سکرین شاٹ انھیں بھیجا۔

وہ کہتی ہیں ‘مجھے پانچ جولائی کی صبح اس وقت معلوم ہوا جب میرے دوستوں نے مجھے بتایا کہ آپ کی تصویر کسی ویب سائٹ پر ہے۔ حالانکہ اب یہ تصویر ہٹا دی گئی ہے اور ویب سائٹ بھی بند ہے لیکن اس طرح اپنی تصویر کے ساتھ ‘برائے فروخت’ کا ٹیگ دیکھ کر میں بہت پریشان ہوئی۔ سچ پوچھیں تو مجھے سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا کہ یہ کیا ہوا؟’

‘میرے ذہن میں مزید خوفناک خیالات آنے لگے کہ کیا ان کے پاس میرے بارے میں کوئی مزید معلومات بھی ہیں؟ کہیں اگلا مرحلہ یہ تو نہیں ہے کہ مجھ سے متعلق مزید معلومات کو اسی طرح کسی اور پلیٹ فارم پر عام کیا جائے گا؟ پھر مجھے خیال آیا کہ وہ یہی چاہتے ہیں کہ جو مسلم خواتین اپنے حق کے لیے بولتی ہیں انھیں ڈرایا دھمکایا جائے۔‘

فرح کہتی ہیں کہ ‘اس میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ لبرل ہندوؤں کو ہماری اس لڑائی میں غلط کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔ لوگوں کو مذہب سے اوپر ہو کر غلط کو غلط کہہ کر آواز اٹھانی چاہیے۔‘

‘میں اور میری جیسی کئی خواتین نے ٹویٹ کر کے خواتین کی تنظیموں اور دلی پولیس کو ٹیگ کیا لیکن کوئی سنوائی نہیں ہوئی۔ جو لوگ ایسا کر رہے ہیں انھیں پولیس اور قانون کا کوئی خوف نہیں کیونکہ انھیں یقین ہے کہ ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہو گی۔‘

نسرین کی طرح فرح بھی پولیس میں شکایت درج کروانے کے بارے میں پُرجوش نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘ابھی میں کام سے باہر ہوں لیکن سچ کہوں تو ابھی سوچا ہی نہیں کہ پولیس کے پاس جاؤں گی بھی یا نہیں۔‘

لیکن کچھ خواتین نے اس بارے میں دلی کمیشن برائے خواتین میں شکایت درج کروائی ہے۔

دلی اور ممبئی میں شکایات درج

ایپ پر جن مسلم خواتین کی معلومات شیئر کی گئی ان میں سے کچھ کا تعلق انڈین دارالحکومت دلی اور کچھ کا دوسرے شہروں سے ہے۔

بی بی سی نے اس بارے میں دلی پولیس سے رابطہ کیا لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔ دلی کمیشن برائے خواتین نے دہلی پولیس کو نوٹس بھیج کر ایف آئی آر درج کرنے کی بات کی ہے۔

ممبئی سے تعلق رکھنے والی فاطمہ جنھیں اس ایپ کے ذریعے ہراس کیا گیا انھوں نے پانچ جولائی کو ساکی ناکا پولیس سٹیشن میں شکایت درج کروائی ہے۔

اس کے جواب میں ساکی ناکا پولیس سٹیشن کی جانب سے ٹوئٹر انڈیا اور گٹ ہب سے اس ایپ کے تخلیق کاروں اور ان لوگوں کے بارے میں معلومات طلب کی ہیں جنھوں نے اسے ٹوئٹر پر شیئر کیا ہے۔

گٹ ہب سے پولیس نے آئی پی ایڈریس، لوکیشن اور اس کے ساتھ ہی ایپ کو بنانے کے لیے استعمال ہونے والا ای میل آئی ڈی اور فون نمبر بھی پوچھا ہے۔

اس کے علاوہ ٹوئٹر سے کچھ قابل اعتراض ٹویٹ ڈلیٹ کرنے اور اس ہینڈل کو چلانے والوں کا ڈیٹا مانگا گیا ہے۔

کیرتی دوبے

بی بی سی ہندی