انڈیا میں ’جناح ٹاور‘ کا نام بدلنے کے لیے بی جے پی کا مارچ

انڈیا کی ریاست آندھرا پردیش میں واقع جناح ٹاور کا نام تبدیل کرنے کے لیے حکمران جماعت بی جے پی نے احتجاجی مارچ منعقد کرنے کا اعلان کیا تو ریاستی پولیس نے اسے ایسا کرنے سے روک ڈالا۔بدھ کو انڈین میڈیا رپورٹس میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے مارچ میں شرکت کرنے والے متعدد رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاری کی اطلاع دی گئی ہے۔پارٹی رہنماؤں نے بھی متعدد لیڈرز اور ورکرز کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے۔

مختلف رپورٹس کے مطابق بی جے پی کی جانب سے گنٹر میں جناح ٹاور سینٹر کے خلاف مارچ سے قبل ہونے والی گرفتاریاں منگل کی شام کو ہوئیں۔مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ جناح ٹاور کا نام بدل کر اسے سابق صدر اے پی جے عبدالکلام سے منسوب کیا جائے۔
پارٹی کی یوتھ ونگ کی میٹنگ کے بعد ہونے والے مارچ کے شرکا مارچ کرتے ہوئے جناح ٹاور کی جانب جانا چاہتے تھے تاہم پولیس نے ان کی کوشش ناکام بناتے ہوئے مظاہرین کو گرفتار کر لیا۔

گزشتہ کئی ماہ سے بی جے پی اور دیگر ہندو تنظیمیں تاریخی جناح ٹاور کا نام بدلنے کی مہم چلا رہی ہیں لیکن آندھرپردیش کی وائی ایس جگن موہن ریڈی کی حکومت نے اس مطالبے پر زیادہ توجہ نہیں دی ہے۔وائی ایس آر کانگریس پارٹی کی ریاستی حکومت کو نام کی تبدیلی کا مطالبہ نہ ماننے اور پولیس کارروائی پر ہندو جماعتوں کی جانب سے خاصی تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔بی جے پی یووا مورچہ کے ریاستی جنرل سیکریٹری متا ومسی کرشنا نے اپنی ٹویٹ میں ’نو ٹو جناح یس ٹو کلام‘ کے ہیش ٹیگ کے ساتھ لکھا کہ ’آندھرا میں غداروں سے شاہانہ سلوک لیکن محب وطنوں سے نہیں۔‘