انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر کے انتخابات پرمسلمانوں کی نگاہیں کیوں ہے؟

0 21

دہلی:20ڈسمبر ۔(ایجنسیز)بیشک 2019 کے لوک سبھا انتخابات ابھی دور ہیں ، اس کے باوجود سردی میں بھی دہلی کے پاش علاقے لٹین زون کا سیاسی پارہ چڑھا ہوا ہے ، جس کی تپش سے ملک بھر کے دانشور مسلمان بھی دور نہیں ہیں۔ بیرون ممالک رہ رہے کچھ ہندوستانی مسلمان بھی اس الیکشن کا حصہ ہیں۔ یہ الیکشن انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر کا ہے۔ سابق وزیر اور سابق ممبر پارلیمنٹ عارف محمد خان بھی یہ الیکشن لڑ رہے ہیں۔6 جنوری کو اس کیلئے دہلی میں ووٹنگ ہونے والی ہے۔ لیکن اس سے پہلے ہی دیگر الیکشن کی طرح سے اس پر بھی الزامات لگنے شروع ہوگئے ہیں۔ غور طلب ہے کہ سینٹر میں ایک صدر ، ایک نائب صدر ، سات بورڈ آف ٹرسٹی اور چار ممبر آف ایگزیکیٹو کمیٹی کیلئے یہ انتخابات ہورہے ہیں۔صدر کے عہدہ کے امیدوار سابق وزیر اور سابق ممبر پارلیمنٹ عارف محمد خان کا الزام ہے کہ دہلی سے باہر ملک میں اور ملک سے باہر بیرون ممالک میں رہنے والے بہت سارے اراکین کو پوسٹل بیلٹ پیپر بھیجنے کے ایڈریس ادھورے ہیں ، جو اراکین اب اس دنیا میں نہیں ہیں ، انہیں بھی بیلٹ پیپر بھیجے جارہے ہیں ، اس کیلئے ہم نے الیکشن افسران کو نوٹس بھیجا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ مطالبہ کیا ہے کہ ایسے ووٹوں کو الیکشن کے عمل میں شامل نہیں کیا جائے۔نائب صدر کے عہدہ کیلئے امیدوار سپریم کرٹ کے ایڈووکیٹ ارشاد احمد کا الزام ہے کہ موجودہ وقت میں سینٹر کا کوئی ویزن نہیں ہے۔ ملک میں مسلمانوں سے وابستہ اور ان کی بھلائی کیلئے وہاں کسی بھی طرح کی کوئی اسکیم نہیں چلائی جاتی ہے۔بیرون ممالک بھیجے گئے بیلٹ پیپر کو واپس منگانے کیلئے جو لفافے بھیجے گئے ہیں ، ان پر ہندوستانی ڈاک ٹکٹ لگایا گیا ہے جبکہ جس ملک میں بھیجے گئے ہیں ، وہاں کی ڈاک ٹکٹ لگنی چاہئے تھی۔ بیرون ممالک ہی نہیں ، ملک میں بھی جو بیلٹ بھیجے گئے ہیں ، ان میں بھی گڑبڑی کی گئی ہے ، جس کی شکایت ہم نے الیکشن افسران سے کی ہے۔بورڈ آف ٹرسٹی عہدہ کے امیدوار اور اے ایم یو کے سابق میڈیا صلاح کار جسیم محمد کا الزام ہے کہ موجودہ پالیسیوں کے پیش نظر انڈیا اسلامک کلچرل سینٹرل ایک میرج ہوم اور کلب بن کر رہ گیا ہے۔ پوسٹل بیلٹ میں گھوٹالہ ہورہا ہے۔ میرا مطالبہ ہے کہ پوسٹل بیلٹ دوبارہ بھیجے جائیں۔ موجود صدر سینٹر کے پیسے کو وزیر اعظم مودی کی کتاب کو اردو میں شائع کروانے پر خرچ کررہے ہیں۔بورڈ آف ٹرسٹی عہدہ کے ایک دیگر امیدوار مدثر حیات کا کہنا ہے کہ الیکشن میں گڑبڑی پھیلانے کیلئے الیکشن افسران کو اراکین کے ناقص پتہ والی فہرست دی گئی ہے۔ فہرست کو کئی سالوں سے اپ ڈیٹ نہیں کیا گیا ہے۔ پوسٹل بیلیٹ پیپر کی جگہ میگزین رکھ کر بھیجی جارہی ہیں۔ کئی اراکین نے اس کی شکایت کی ہے۔دوسری جانب انتخابی عمل پر عائد ہورہے الزامات کے بارے میں الیکشن افسر تپس کمار بھٹا چاریہ کا کہنا ہے کہ پوسٹل بیلٹ میں گڑبڑی کی کچھ شکایتیں ملی ہیں ، سبھی شکایتوں کو دور کرتے ہوئے کچھ اراکین کو دوبارہ پوسٹل بیلٹ پیپر بھیجے جارہے ہیں۔ الیکشن میں کسی بھی طرح کی گڑبڑی نہیں ہونے دی جائے گی۔خیال رہے کہ انڈیا اسلامک سینٹر کا الیکشن اس لئے اہم ہے کیونکہ یہاں کے اراکین مسلمانوں کے دانشور طبقہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اس میں انجینئر ، ڈاکٹر، پروفیسر ، بزنس مین ، سیاستداں اور سول ملازمین شامل ہوتے ہیں۔ مسلمانوں کے ساتھ ہی غیر مسلم بھی اس کے رکن ہیں۔ رکن بننے کیلئے 50 ہزار روپے کی فیس بھی ادا کرنی پڑتی ہے۔