Waraqu E Taza Online
Nanded Urdu News Portal - ناندیڑ اردو نیوز پورٹل

انڈیا: آسام میں مندر تعمیر کروانے والے ایک مسلمان جوڑے کی کہانی

انڈیا کی شمال مشرقی ریاست آسام میں مذہب کے نام پر سیاست سے ہٹ کر مذہبی ہم آہنگی کی مثالیں بھی سامنے آتی رہتی ہیں۔ حالیہ مثال یہ ہے کہ ایک مسلمان میاں، بیوی اس علاقے میں ہندوؤں کی عبادت گاہوں کی تعمیر و مرمت کے لیے مالی امداد فراہم کر رہے ہیں۔
اس مسلمان جوڑے کی امداد صرف مندروں اور مساجد کی تعمیر و مرمت تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ انھوں نے اپنے محلے میں بہت سی سڑکوں کی مرمت بھی اپنے پیسوں سے کروائی ہے۔
آسام کے جورہٹ ضلع میں کئی مندروں اور ’نام گھروں‘ (عبادت گاہوں) کی تعمیر اور مرمت کے کام کرانے کی وجہ سے 39 سالہ حمید الرحمٰن اور ان کی اہلیہ پارسیہ سلطانہ رحمٰن ان دنوں شہ سرخیوں میں ہیں۔ تاہم حمید الرحمٰن اپنے مالی تعاون فراہم کرنے کے بارے میں میڈیا میں ہونے والی گفتگو کو درست قرار نہیں دیتے ہیں۔
تیتبار بوکاہولا کے مقامی رہائشی حمید الرحمٰن نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میرے والد جس چائے کے باغ میں کام کرتے تھے وہاں صرف ہمارا کنبہ مسلمان تھا، باقی سب ہندو تھے۔ ہماری کالونی کے لوگوں اور دوستوں نے ہمیں کبھی اس کا احساس نہیں ہونے دیا کہ ہم مسلمان ہیں۔‘
انھوں نے بتایا کہ ’چائے کے باغ میں ایک ہری مندر تھا جہاں بھاونا یعنی اساطیری ڈرامے ہوتے تھے۔ میں بھاونا میں اپنے دوستوں کے ساتھ بہت سے کردار ادا کرتا تھا اور کالج پہنچنے تک یہ سلسلہ چلتا رہا۔ اسی وجہ سے میں تمام مذاہب کا احترام کرتا ہوں اور اپنی حیثیت کے مطابق تھوڑی بہت مدد کرتا ہوں۔ میں یہ کام میڈیا میں آنے کے لیے نہیں بلکہ دلی سکون کے لیے کرتا ہوں۔‘
آسام میں مذہبی پولرائزیشن کی کوششیں:فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی ایسی خبروں کے بارے میں سینیئر صحافی بیوکنٹھ ناتھ گوسوامی کا کہنا ہے کہ ’ہندو مسلم پولرائزیشن کی سیاست کی وجہ سے آسام میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی ایک چھوٹی سی خبر بھی بڑی شہ سرخی بن رہی ہے۔ حالیہ برسوں میں آسام کی سیاست میں جو تبدیلیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں وہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے مابین فاصلہ پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ جبکہ ریاست میں اس سے پہلے ایسی کوئی فضا نہیں تھی۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’عام لوگوں کو بھی اب یہ محسوس ہونے لگا ہے کہ ہندو مسلم کو ایک دوسرے کے خلاف ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ لیکن اپر آسام میں جس طرح ہندو مسلمان ایک ساتھ رہتے ہیں وہان تقسیم کی سیاست کامیاب نہیں ہو سکتی ہے۔‘
کیا حمید الرحمٰن کسی قسم کے خوف کی وجہ سے مندروں اور ’نام گھروں‘ کی تعمیر و مرمت میں مدد کر رہے ہیں؟
اس سوال کے جواب میں شانتی پور پبلک نام گھر سٹیئرنگ کمیٹی کے چیئرمین بنودو شرما کہتے ہیں کہ ’ہمارے معاشرے میں ہندو اور مسلم کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔ لہذا کسی کے ذہن میں خوف نہیں ہے۔ یہ سریمنت شنکردیو اور اذان فقیر کا دیس ہے اور انھوں نے ہمیں ساتھ رہنا سکھایا ہے۔ ہم سریمنت شنکردیو کے شاگرد ہیں لہذا ہمیں ہندو مسلم کے بارے میں کوئی بدگمانی نہیں۔ حمید الرحمٰن خود ہمارے نام گھر کے کچھ تعمیراتی کام میں ہماری مدد کرنے آئے ہیں۔ ہم نے اسے عزت کے ساتھ قبول کیا ہے۔‘
سریمنت شنکر دیو اور اذان فقیر کی سرزمین:آسام کو سریمنت شنکر دیو اور اذان فقیر کی سرزمین کہا جاتا ہے۔ ان دونوں عظیم انسانوں کی سرزمین میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی صدیوں پرانی روایت چلی آ رہی ہے۔سریمنت شنکردیو آسام کے ایک مشہور وشنو سنت اور سماجی و مذہبی مصلح تھے جنھوں نے سب سے پہلے بٹردروا نامی جگہ پر ایک مٹھ قائم کیا۔ اس جگہ ایک عبادت خانہ یعنی نام گھر بنایا گیا تھا جہاں نام (کیرتن) کیا جاتا تھا۔ آسام کے ہندو اکثریتی دیہاتوں میں ایک نام گھر ضرور پایا جاتا ہے۔
جبکہ مسلم مبلغ اذان فقیر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بغداد سے آسام کے سیوساگر آئے تھے اور یہاں صوفی اسلام کی بنیاد رکھی تھی۔
حمید الرحمٰن پنج وقتہ نمازی ہیں اور وہ یہاں کے مندروں اور نام گھروں میں منعقدہ پروگراموں میں بھی شریک ہوتے ہیں۔ مسلمانوں میں بت پرستوں کو کافر کہا جاتا ہے جب کہ حمید الرحمٰن نے یہاں ہندوؤں کی سب سے بڑی دیوی ماں کالی کے بت تراشی کے علاوہ ترشول اور مندر میں بجنے والی گھنٹی تک عطیے میں دی ہے۔
بت پرستی پر وہ کہتے ہیں کہ ’ہر ایک کا مذہب الگ ہے اور خدا کی عبادت کے طریقے بھی مختلف ہیں۔ میں اپنے مذہب کے اصولوں پر چلتا ہوں اور وہ لوگ (ہندو) سب کچھ اپنے اصولوں کے مطابق کرتے ہیں۔ لہذا کسی کو اعتراض کیوں کرنا چاہیے؟ میں سنہ 2013-14 سے لوگوں کی مدد کر رہا ہوں کیونکہ میں اس طرح کا کام کرنا پسند کرتا ہوں۔ کچھ لوگ میرے پاس مدد مانگنے آتے ہیں اور کہیں میں جاتا ہوں اور اگر کسی چیز کی کمی دیکھتا ہوں تو اس کی مرمت کرانے کی کوشش کرتا ہوں۔‘
مقامی مسلمان بھی حمید الرحمٰن کے ہندو مذہب کے لوگوں کی مدد کرنے کے کام کی تعریف کرتے ہیں۔
بوکاہولا جامع مسجد تعمیراتی کمیٹی کے سیکریٹری عبدالرؤف احمد کہتے ہیں کہ ’حمید الرحمٰن نے ہماری مسجد کی تعمیر اور خوبصورتی کے لیے تقریبا 12 لاکھ روپے کی امداد کی ہے۔ اس کے ساتھ وہ دوسرے مذاہب کے لوگوں کی بھی مدد کر رہے ہیں۔ حقیقت میں یہ بہت ہی نیک مقصد ہے اور کسی کو بھی اس سے کوئی اعتراض نہیں ہے۔ تیتابر میں ہمیشہ سے ہی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی فضا رہی ہے اور آج تک کسی کے مذہب کے بارے میں کوئی برا تجربہ نہیں ہوا ہے۔‘
آسام میں تیتابر اسمبلی حلقہ کی اہمیت اس لیے زیادہ ہے کہ ترن گوگوئی یہیں سے انتخابات جیت کر لگاتار 15 سال تک ریاست کے وزیر اعلی رہے اور وہ اب بھی یہاں سے ایم ایل اے ہیں۔ لیکن حمید الرحمٰن کو اس لیے یاد کیا جا رہا ہے کیونکہ مسجد مندر کی امداد کے علاوہ انھوں نے کئی علاقوں میں سڑکیں بھی بنوائی ہیں۔
شہر کے شاہ عالم نامی راستے کا حوالہ دیتے ہوئے بلبل حسین کہتے ہیں کہ ’اس سے قبل بارش کے دنوں میں یہ سڑک پانی سے بھری ہوتی تھی۔ رات کے وقت کوئی بھی شخص اس راستے سے گزرنے کا خطرہ مول نہیں لیتا تھا۔ گاؤں والوں نے جب یہ بات حمید الرحمٰن کو بتائی تو انھوں نے خود کھڑے ہو کر اس سڑک کی مرمت کروائی۔ پانی کی نکاسی کے لیے نالی کا انتظام کیا۔ اب اس سڑک پر گاڑیاں موٹرسائیکلیں آسانی سے چل رہی ہیں۔‘
تیتابر شہر کے ہفتہ وار بازار میں عوامی شیو مندر کی تعمیر میں حمید الرحمٰن کی مالی اعانت کے متعلق مندر کمیٹی کے چیئرمین راجن ہزاریکانے کہا کہ ’سنہ 2008 میں بانس اور ٹن سے یہ مندر تعمیر کیا گیا تھا۔ لیکن کچھ سالوں بعد مندر کی حالت خراب ہو گئی۔‘
’ہم نے اس وقت ترون گوگوئی کی حکومت سے بھی مدد طلب کی تھی لیکن کچھ حاصل نہیں ہوا۔ اس کے بعد مقامی لوگوں کی مدد سے مندر کی پکی تعمیر کے لیے تھوڑا سا کام شروع کیا گیا اور اسی کے ساتھ حمید الرحمٰن نے مندر کی تعمیر کے لیے اینٹیں بھی عطیہ کیں اور سامنے کا حصہ اور گیٹ بھی بنوایا۔ اس شیو مندر کا گھنٹہ اور تریشول بھی حمید نے دیا ہے۔ آج ہمارا مندر اچھا ہو گیا ہے۔‘تیتابر ہینڈک گاؤں میں موجود نام گھر میں ایک عبادت ہال کی تعمیر سے لے کر حمید الرحمٰن نے یہاں بنگالی پٹی کے رادھا کرشنا ہری مندر میں لوگوں کے لیے بیت الخلا بنوایا ہے۔ رادھا کرشنا ٹیمپل کمیٹی کے صدر نیکو مالاکار مندر کے سامنے سڑک دکھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ حمید کی وجہ سے ہی یہ سڑک بنی ہے۔
پہلے معاشی حالت خراب تھی:جورہاٹ کے چنامارا میں سٹیل کی صنعت چلانے والے حمید الرحمٰن کے بارے میں مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پہلے ان کی معاشی حالت بہت خراب تھی لیکن گذشتہ کچھ برسوں میں انھوں نے بہت ترقی کی ہے۔
حمید الرحمٰن کے اس نیک کام میں ان کی حمایت کرنے والی ان کی اہلیہ پارسیہ سلطانہ کا کہنا ہے کہ ’لوگوں کی مدد کرنے سے بہتر اور کیا کام ہو سکتا ہے۔ ہمارا پورا کنبہ ان کی تائید کرتا ہے۔ ہمیں بہت سارے لوگوں کی دعائیں ملی ہیں۔
’ہماری دو بیٹیاں ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ وہ اس طرح کے معاشرے میں آگے بڑھیں جہاں لوگ مذہب سے ہٹ کر ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔ میں اکثر اپنے شوہر کے ساتھ مندروں میں جاتی ہوں اور وہاں دعا کرتی ہوں۔ آج تک کسی نے کوئی اعتراض نہیں کیا۔ ہمارے خاندان میں ایک بہو ہندو ہے اور ہم سب برسوں سے خوشی خوشی زندگی گزار رہے ہیں۔‘