نئی دہلی :7مئی (ورق تازہ نیوز)یہ افواہیں پھیل گئیں کہ انڈرورلڈ ڈان چھوٹا راجن کا آج سہ پہر ایمس اسپتال میں علاج کے دوران کورونا کی وجہ سے انتقال ہوگیا۔ بعدازیں ایمس اسپتال کے ڈاکٹروں نے بتایا کہ راجن زندہ ہے۔ تہاڑ جیل میں رہتے ہوئے ، انڈرورلڈ ڈان چھوٹا راجن نے کورونا پوزیٹیو ہوگیاتھا۔ انہیں علاج کے لئے 26 اپریل کو دہلی کے ایمس اسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ یہ معلومات تہاڑ جیل حکام نے پیر کے روز دہلی کی سیشن کورٹ میں دی۔

خیال رہے کہ راجن کو 2015 میں انڈونیشنیا کے بالی سے حوالگی کے ذریعے ہندوستان لایا گیا تھا اور اس کے بعد سے وہ دہلی کی تہاڑ جیل میں قید تھا۔ممبئی میں اس کے خلاف درج تمام مقدمات سی بی آئی کو منتقل کر دیے گئے ہیں اور اس کے خلاف مقدمہ چلانے کے لئے ایک خصوصی عدالت قائم کی گئی تھی۔

چھوٹا راجن کے خلاف دو درجن سے زیادہ معاملے چل رہے تھے، جن میں سے تقریباً 4 معاملوں میں اسے عدالت سے سزا سنائی جا چکی ہے۔ اب چھوڑا راجن جن معاملوں میں ملزم ہے وہ تمام معاملے سی بی آئی کورٹ کو اطلاع دئے جانے کے بعد بند کر دئے جائیں گے، تاہم ان معاملوں میں شامل دیگر ملزمان کے خلاف مقدمے چلتے رہیں گے۔

خیال رہے کہ چھوٹا راجن اور داؤد ابراہیم کبھی ایک ہی گروہ میں شامل تھے لیکن بعد میں چھوٹا راجن داؤد کے گروہ سے علیحدہ ہو گیا تھا۔ اس کے بعد بینکاک میں داؤد کے لوگوں نے اس پر حملہ بھی کیا تھا جس میں راجن شدید طور پر زخمی ہو گیا تھا۔ اس لئ نعد چھوٹا راجن کو سی بی آئی کی طرف سے جاری کئے گئے ریڈ کارنر نوٹس کی بنیاد پر ملائشیا سے گرفتار کیا گیا تھا اور 2015 میں اسے حوالگی کے ذریعے ہندوستان لایا گیا۔

ہندوستان لائے جانے کے بعد بھی حفاظتی وجوہات کی بنا پر چھوٹا راجن کو ممبئی کی جیل میں قید نہیں کیا گیا کیونکہ یہ خدشہ تھا کہ داؤس حامی گروپ اس کے خلاف سازش کر سکتے اور جیل کے اندر اس پر حملہ بھی ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چھوٹا راجن کو تمام معاملوں میں سزا کے طور پر دہلی کی تہاڑ جیل میں منتقل کر دیا گیا تھا۔