لندن: ’ڈبلیو ڈبلیو ڈبلیو‘ یعنی ورلڈ وائڈ ویب کے موجد ٹِم برنرز لی نے اپنی ایجاد کے سورس کوڈ کو نیلام کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم اس کی ایک ہی ڈجیٹل کاپی بطور این ایف ٹی (نان فنجیبل ٹوکن) فروخت کی جائے گی۔

اگرچہ اس اہم ترین ایجاد کا کوڈ اب بھی عوامی ملکیت ہے لیکن ان کے پاس اس کی ایک ڈجیٹل فائل ہے جس میں ورلڈ وائڈ ویب کا کوڈ خود انہوں نے لکھا ہے۔ اس پر وقت کی مہر (ٹائم اسٹیمپ) بھی لگی ہے۔ یہ کوڈ 9500 سطروں پر مشتمل ہے جس میں انٹرنیٹ کی لینگویج اور پروٹوکولز کی تفصیلات درج ہے جن میں ہائپرٹیکسٹ ٹرانسفرپروٹوکول ( ایچ ٹی ٹی پی)، ہائپرٹیکسٹ مارک اپ لینگویج ( ایچ ٹی ایم ایل) اور یونیورسل رسورس لوکیٹر (یو آر ایل) کا احوال موجود ہے۔

کوڈ کے ساتھ ساتھ اس کا اینی میٹڈ ڈجیٹل پوسٹر بھی بنایا گیا ہے اور اس پر ٹِم برنرز لی کے گرافک دستخط بھی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ خریدار ٹم برنرز لی کے ہاتھ سے لکھا خط بھی حاصل کرسکتا ہے۔ اس خط میں انرنیٹ کوڈ اور اس کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔

ٹم برنرز لی نے خط میں لکھا ہے کہ ’’اب واپس مڑ کر کوڈ کو دیکھنا ایک پرلطف شے ہے، یہ دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ کس طرح چند سطروں کے کوڈ سے پوری دنیا کے ماہرین اس کام میں شامل ہوئے۔ لیکن مطمئین ہوکر میں بیٹھا نہیں ہوں بلکہ ویب مسلسل بدل رہا ہے۔ اگرچہ یہ بہترین حالت میں نہیں ہے کیونکہ بہتری کی گنجائش ہمیشہ سے رہتی ہے‘‘۔

اگرچہ انٹرنیٹ کا عالمی ظہور 1991 میں دیکھا گیا تھا لیکن اس کا اصل سالِ پیدائش 1989 ہے جب اسے سوئزرلینڈ میں یوروپی مرکز برائے نیوکلیائی طبیعیات میں بطور انٹرنل نیٹ ورک متعارف کروایا گیا تھا۔ اب یہ حال ہے کہ دنیا بھر میں انٹرنیٹ کو باقاعدگی سے استعمال کرنے والوں کی تعداد چار ارب ساٹھ کروڑ سے زائد ہوچکی ہے۔

نیلامی کی مشہور کمپنی سوتھ بے اس کی باضابطہ بولی جلد شروع کرے گی جسے ایک ہزار ڈالر سے شروع کیا جائے گا۔ کمپنی کے مطابق یہ دنیا کا پہلا ڈجیٹل نادر نمونہ ہے جسے بطور این ایف ٹی فروخت کیا جائے گا۔ ذرائع نے بتایا کہ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا اس کی بولی کہاں تک اور کتنی رقم کی لگائی جاتی ہے۔