BiP Urdu News Groups

انٹرنیٹ پر ’اونلی فینز‘ جیسی ویب سائٹس لوگوں کو کمائی کے شرمناک طریقے مہیا کرتی ہیں اور ان ذرائع آمدن کی مانگ میں کورونا وائرس اور لاک ڈاﺅن کی وجہ سے کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے . ڈیلی سٹار کے مطابق اونلی فینز نامی اس سوشل پلیٹ فارم کے ذریعے ہی خواتین منٹوں میں ہزاروں روپے کما رہی ہیں . یہ ویب سائٹ بالغوں کے لیے بنائی گئی ہے جہاں مردوخواتین اپنی قابل اعتراض ویڈیوز اور تصاویر پوسٹ کرتے ہیں اور لوگ پیسوں کے عوض اس شرمناک مواد کو دیکھتے ہیں.

اونلی فینز کی چیف آپریٹنگ آفیسر ’بزفیڈ نیوز‘ کو ایک انٹرویو میں بتا چکی ہیں کہ کورونا وائرس کی وجہ سے اونلی فینز کے صارفین کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے. بے روزگار ہونے والی جسم فروش خواتین، ماڈلز اور اداکارائیں بھی اب اونلی فینز پر اکاﺅنٹ بنا کر وہاں سے آمدنی حاصل کر رہی ہیں. ایک ماڈل نے بتایا ہے کہ وہ اونلی فینز پر اپنی تصاویر اور ویڈیوز فروخت کرکے 10منٹ میں 250پاﺅنڈ (تقریباً 53ہزار روپے)تک بھی کما لیتی ہے.