زرعی قوانین پر راکیش ٹکیٹ کا ردعمل ،کسان احتجاج 83 ویں دن میں داخل
نئی دہلی : زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کی مہاپنچایت کا سلسلہ جاری ہے اور آج روہتک میں منعقد مہاپنچایت سے خطاب کرتے ہوئے کسان لیڈر راکیش ٹکیت نے کہا کہ ’’زرعی قوانین سے کسان اور زراعت کسی کا بھلا نہیں ہوگا۔ آنے والا وقت بھوک کے حساب سے فصل کی قیمت طے کرنے والا ہوگا۔ ‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’حکومت کے تینوں قوانین نافذ ہوئے تو نیا ٹرینڈ بھوک پر تجارت کرنے کا ہوگا۔ انسان ہی نہیں کتے۔بندر بھی بھوکے مریں گے۔ اسی لیے یہ لڑائی چل رہی ہے۔ لڑائی کو توڑنے اور کمزور کرنے کے لیے کسانوں کو ہریانہ، پنجاب، یو پی اور ذات پات میں تقسیم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔‘‘اسی دوران مرکزی حکومت کے نئے زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کی تحریک لگاتار 83ویں روز بھی جاری ہے۔ دہلی کی مختلف سرحدوں پر حکومت کے خلاف دھرنا دے رہے کسان اپنے مطالبات پر قائم ہے جبکہ حکومت کی طرف سے توجہ نہیں دی جا رہی۔ کسان طویل احتجاج کی تیاریوں میں مصروف ہے۔ ٹیکری بارڈر پر اس تحریک میں حصہ لے رہے کساسن اب وہاں پکے ٹوئلٹ اور اور باتھ روم تیار کر رہے ہیں۔کسان یہاں سبزیاں بھی پیدا کر رہے ہیں۔


اپنی رائے یہاں لکھیں