Waraqu E Taza Online
Nanded Urdu News Portal - ناندیڑ اردو نیوز پورٹل

انسانی جسم کا درجہ حرارت 98.7 ڈگری بھی ہوجائے توبھی ہوائی سفر نہیں کرسکیں گے

IMG_20190630_195052.JPG
درجہ حرارت 98.7 ڈگری بھی ہوجائے توبھی ہوائی سفر نہیں کرسکیں گے

نئی دہلی 23مئی(یو این آئی)عام طور پر انسانی جسم کا درجہ حرارت 98.6 ڈگری فارن ہائیٹ سمجھا جاتا ہے اور 98.7 ڈگری فارن ہائیٹ ہونے پر شاید ہی دنیا کا کوئی ڈاکٹر کہے گا کہآپ کو بخار ہے۔اس کے باوجود دہلی ائرپورٹ پر داخلہ سے قبل اگر جسم کا درجہ حرارت 98.7 ڈگری پایا گیا تو مسافر کو ٹرمنل کے اندرداخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔

دوماہ کے وقفہ کے بعد پیر کو شروع ہورہی اندرون ملک پروازکی تیاریوں کے بارے میں دہلی ہوائی اڈہ کوآپریٹ کرنے والی کمپنی دہلی بین الاقوامی ائر پورٹ لیمٹیڈ (ڈی آئی اے ایل-ڈائل)نے آج میڈیا کو بتایا کہ جسم کے درجہ حرارت کی جانچ،ہاتھوں اور جوتوں کے تلوں کے سینیٹائزیشن،سامان کی جراثیم کشی،آروگیہ سیتو ایپ میں گرین سگنل اور بورڈنگ پاس کو پرنٹ آؤٹ لینے کے بعد ہی مسافروں کو ٹرمنل عمارت میں داخل ہونے دیا جائے گا۔

داخلے سے قبل تھرمل اسکینر سے فرنٹل ٹمپریچر کی جانچ کررہے سینٹرل انڈسٹریل سیکیورٹی فورس کے جوانوں نے میڈیا کے کچھ افراد کو 99 ڈگری فارن ہائٹ درجہ حرارت ہونے کے سبب داخلہ سے روک دیا۔پوچھے جانے پر انہوں نے بتایا کہ 94.6 ڈگری سے 98.6 ڈگری فارن ہائٹ کے درمیان درجہ حرارت ہونے پر ہی کسی شخص کو ٹرمنل عمارت میں جانے کا حکم ہے۔ڈائل کے سی ای او ویدیہ کمار جے پوریا نے بتایا کہ گھریلو اڑانوں پر پابندی ختم ہونے کے بعد 25مئی سے پہلی اڑان صبح 4:30 بجے روانہ ہوگی۔حکومت نے ایک تہائی اڑانوں کی ہی اجازت دی ہے اس لئے ابھی دہلی ائرپورٹ سے روزانہ 190 پروازیں روانہ ہوں گی اور اتنی ہی یہاں آئیں گی۔یومیہ تقریباً 20-20 ہزار مسافروں کے آنے جانے کی امید ہے۔سبھی پروازوں کیآمدورفت بین الاقوامی ٹرمنل -3 سے ہوگی۔اتنے مسافروں کے لئے ٹرمنل پر مناسب سہولت موجود ہے اور سماجی دوری پر بہتر طور پر عمل کیا جاسکے گا۔
کورونا وائرس’کووڈ-19‘کے پیش نظر ملک میں باقاعدہ مسافر پروازوں کا سلسلہ 25مارچ سے پوری طرح بند ہے۔دوماہ بعد 25مئی سے احتیاطی شرائط کے ساتھ ایک تہائی اڑانوں کی اجازت دی گئی ہے۔