Waraqu E Taza Online
Nanded Urdu News Portal - ناندیڑ اردو نیوز پورٹل

انسانی تاریخ کا صدیوں یاد رکھا گیا صدقہ جاریہ

نقاش نائطی+966504960485

انسانی تاریخ کا سب سے بڑا نہ صحیح تا دیر صدیوں تک یاد رکھا جانے والا صدقہ جاریہ بیر عثمان غنی رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ ہے

ویسے بھی عربستان کے علاقے گرمی کی ایام پانی کی قلت سے پریشان رہا کرتے ہیں ۔ زمانہ ایام رسالت صلی اللہ وعلیہ وسلم کے دوران بھی، مدینہ کے تقریبا تمام کنوئیں سوکھ چکے تھے مدینہ کے باہر کافی دور ایک یہودی کی ملکیت میں ایک کنواں تھا جس سے مدینہ کی نساء فی گڑھا مخصوص قیمت ادا کرتے ہوئے،گھڑوں میں پانی بھر بھر کر لایا کرتی تھیں۔حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے، مدینہ والوں کے لئے وہ کنواں اور اس کنویں سے متصل کھجوروں کا باغ خرید کر، اللہ کی راہ میں کچھ اس نیک نیتی کے ساتھ وقف کر دیا تھا کہ آج اس واقعہ پر لگ بھگ 1440 سال گزرنے کے باوجود ، نہ صرف ابھی تک وہ کنواں پانی سے بھرا، ہزاروں لوگوں کو سیراب کررہا ہے بلکہ اس کنویں سے متصل کھجور کے باغ میں،بعد کے دنوں تعمیر ایک مسجد اور اس مسجد و باغ وکنویں کی دیکھ بھال کرنے والی کمیٹی کی دیانت داری سے، کھجور باغ کی آمدنی اس وقف واقعہ پر کم و بیش 1440 لمبے سال گزرنے کے باوجود، آج سے سو سال قبل تک باقی رہے .

مختلف خلافت راشدہ، بنو امیہ فاطمیہ اور آخر میں خلافت عثمانیہ کے زوال تک اور فی زمانہ مملکت سعودی عرب بننے کے بعد سے اب تک، وہ بیر عثمان اور وہ کھجوروں والا باغ مسلمانوں کے تیسرے خلیفہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے نام نامی سے نہ صرف میونسپل رجسٹرڈ میں درج ہے بلکہ اس کھجور باغ کی آمدنی کی مد میں لاکھوں ریال جمع ہوتے ہوتے، اس آمدنی سے مسجد نبوی کے آس پاس کئی بڑی بڑی وقف عمارتیں حضرت عثمان غنی کے نام نامی سے تعمیر کئے جاتے ہوئے، ان 1440 سالوں میں پتہ نہیں کتنے ہزار لاکھ یا کروڑ مستحقین حضرت عثمان غنی بیر وقف آمدنی سے استفادہ حاصل کرتے ہوئے، حضرت عثمان غنی کے آخرت کے ایکاؤنٹ کتنا ذخیرہ ثواب جمع کرچکے ہونگے یہ رب دو جہاں ہی کے علم میں ہے.

آج بھی ہم مسلمانوں میں ضرورت مندوں کے لئے کنواں یا بور ویل کھود کر دینے یا وقف کئے جانے کو اپنے آخرت ذخیرہ اندوزی کا بہترین ذریعہ مانا جاتا ہے۔ اور یقینا ہم میں بہت سے مسلمانوں نے اپنی اپنی استطاعت مطابق کئی ایک کنوئیں یا بور ویل تعمیر کر، وقف کئے ہونگے۔ کوئی بھی مسلمان اس سمت دامے درمے سخنے مدد کرتا ہے تو یقینا وہ بعد الموت اپنی دائمی اخروی زندگی کے لئے، توشہ آخرت بھیج رہا ہوتا ہے اور یقینا اس توشہ آخرت کی قدر و قیمت کا اندازہ ہمارے اس فانی دنیا سے اس ابدی دنیا کی طرف پرواز کرنے کے بعد ہی پتہ چلے گا۔ہم میں سے ہر کسی کو چاہئیے کہ اپنی زندگی میں اپنی استطاعت مطابق ایک سے زائد ایسے کنوئیں یا بور ویل غرباء و مساکین کے علاقوں میں تعمیر کروا، اپنی آخرت کی سرخ روہی کا انتظام اپنے مرنے سے پہلے کر جائیں اور اپنے مرحوم والدین واعزہ اقرباء کے ایثال ثواب کے لئے کم از کم ایک کنواں یا بور ویل کسی مستحق کے لئے تعمیر ضرور کروائیں.

ویسے تو ایسے کارخیر کے لئے انیک خیراتی ادارے مستقلا مصروف عمل ہیں۔ لیکن آج کل شہر بھٹکل میں سماجی سیاسی کارکن المحترم عنایت اللہ شاہ بندری صاحب، اپنے سیا سی "این جی او عنایت اللہ شاہ بندری ابھیمان سنگھا” کے ماتحت نہ صرف اپنے علاقے کے مستحقین کے لئے، بلکہ اپنے سیاسی حلقہ سے دور دراز والے مستحقین کے مقامات میں بھی، للہ فاللہ اپنے وسائل سے اپنوں کو مائل کر، ان سے صدقات و تبرعات کی مد میں رقوم مانگ مانگ کر، ان غرباء و مساکین کے لئے ساحلی پٹی پر کم گہرائی والے، کم صرفے والے دستی بور ویل تعمیر کرواتے ہوئے وقف کررہے ہیں۔ یقینا یہ ایک نہایت ثواب دارین والا صدقہ جاریہ والا کام ہے ان کے اس کار خیر میں ہم متمؤل اورصاحب حیثیت آحباب اپنے طور جتنی مدد و نصرت کریں یہ کم ہی ہے۔ بھلے ہی ہمیں انکا یہ اقدام سیاسی مقاصد والا لگتا ہے لیکن ہم میں سے کوئی بھی اس کار خیر میں انکی معرفت تعاون کرتا ہے تو یقینا اس کنوئیں کی کھدائی اور اس کنوئیں سے بیسیوں عوائل کے سیراب ہونے کا ثواب تو کنواں کھودنے میں رقم صدقہ کرنے والے ہی کو ملیگا۔ اور پتہ نہیں،انکے ہمارے صدقہ کئے کنوئیں سے لوگ بیر عثمان جیسے کب تک سیراب ہوتے رہیں۔ اور ہمیں مستفید کرتے رہیں یہ سب ہماری نیک نیتی پر منحصر ہے۔ اللہ ہی سےدعا ہے کہ وہ ہم میں ، مستحقین میں صدقات بانٹنے والے عثمانی تفکر و جذبہ کو جاگزیں کرے اور ہمیں اپنے مرحومین کے لئے ایسے وقف صدقات جاریہ سے انہیں مستفید کرنے والوں میں سے بنائے۔ اپنے مرنے سے قبل غرباء و مساکین کی ایسی مدد و نصرت کرنے والوں میں سے بنائے۔ آمین یا رب العالمین