ریاض (کے این واصف): مملکت سعودی عرب کے مختلف کمپنیوں میں کام کرنے والے غیرملکی انجینئرس کی ڈگریاں جعلی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ سعودی انجینئرنگ کونسل کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ سال 2020ء کے دوران کونسل میں رجسٹریشن کیلئے پیش کی گئی ڈگریوں میں 387 ڈگریاں جعلی پائی گئیں۔ انجینئرنگ کونسل کے ترجمان عبدالناصر العبداللطیف کے ایک بیان کے مطابق کونسل نے ایسی بہت ساری ڈگریوں کو مسترد کردیا ہے جو کونسل کے معیار کے مطابق نہیں تھیں، مسترد کردہ ڈگریوں میں پانچ سال کی بجائے تین سال میعاد کی انجینئرنگ کورس کی ڈگریاں اور فرضی تعلیمی اداروں یا یونیورسٹیوں کی جانب سے جاری کردہ ڈگریاں شامل تھیں۔ کونسل کے ترجمان نے اس بات پر زور دیا کہ مملکت میں بطور انجینئر خدمات انجام دینے کیلئے کونسل کی جانب سے مقرر کردہ قوانین و ضوابط کی پابندی لازمی ہے۔ تمام کمپنیوں اور اداروں کو اس بات کی تاکید کی گئی ہے کہ کونسل کے ضوابط و قوانین پر عمل آوری کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے انتباہ دیا کہ کونسل میں اندراج کے بغیر انجینئرنگ کے شعبہ میں خدمات انجام دینے یا خدمات حاصل کرنے پر 10 لاکھ ریال تک جرمانہ اور ایک سال قید کی سزا ہوسکتی ہے۔ واضح رہے کہ سعودی عرب میں پیشہ طب اور انجینئرنگ کے شعبہ میں کام کرنے والوں کے تعلیمی صداقت نامے اور ڈگریوں کی سختی سے جانچ کی جارہی ہے جب سے جعلی ڈگریوں کے کچھ معاملے سامنے آئے۔


اپنی رائے یہاں لکھیں