’انتخابی نشان:دہلی ہائی کورٹ سے ادھو ٹھاکرے کو جھٹکا

695

نئی دہلی: شیو سینا کے لیڈر ادھو ٹھاکرے کو دہلی ہائی کورٹ سے اس وقت جھٹکا لگا جب انتخابی کمیشن کے فیصلے کے خلاف ان کی دائر کردہ عرضی کو خارج کر دیا گیا۔

دراصل، شیوسینا میں تقسیم کے بعد ادھو اور شندے دنوں دھڑوں نے شیو سینا پر اپنا اپنا دعویٰ کیا تھا۔ جس کے بعد الیکشن کمیشن نے شیو سینا کا نام اور انتخابی نشان منجمد کرنے کا حکم دیا تھا۔ الیکشن کمیشن کے اسی فیصلے کو ادھو ٹھاکرے نے دہلی ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

دہلی ہائی کورٹ نے کہا کہ انتخابی نشانوں کو سیاسی جماعتیں خصوصی املاک تصویر نہیں کر سکتے ہیں۔ عدالت نے مزید کہا کہ اگر وہ الیکشن ہار جاتے ہیں تو نشان کے استعمال کا اختیار ختم ہو سکتا ہے۔

دہلی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ستیش چندر شرما اور جسٹس سبرامنیم پرساد کی بنچ نے سپریم کوڑٹ میں سبرامنیم سوامی بنام الیکشن کمیشن آف انڈیا کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نشان کوئی ایسی حقیقی چیز نہیں ہے، جس سے آمدنی ہو سکے۔

عدالت نے الیکشن کمیشن کے جاری کردہ انتخابی نشان کو صرف ناخواندہ ووٹرز کے لیے خصوصی قرار دیا۔ عدالت نے کہا کہ یہ صرف ایک نشان ہے، جو کسی خاص سیاسی جماعت سے وابستہ ہے، تاکہ لاکھوں ناخواندہ ووٹرز کے لیے اس مخصوص پارٹی سے تعلق رکھنے والے اپنی پسند کے امیدوار کو ووٹ دینا آسان ہو جائے۔

اس سے ناخواندہ ووٹرز کو اپنے حقوق کا صحیح استعمال کرنے میں مدد ملتی ہے۔ عدالت نے کہا کہ متعلقہ سیاسی جماعتیں اسے اپنی خصوصی جائیداد نہیں سمجھ سکتیں۔

عدالت نے الیکشن کمیشن کو بھی اس معاملے کو جلد از جلد حل کرنے کا حکم دیا ہے۔ خیال رہے کہ شیو سینا کا تنازعہ ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔ شندے دھڑے کی بغاوت کے بعد دو دھڑوں میں بٹی شیو سینا کو الیکشن کمیشن نے فی الحال ایک نیا نام اور نیا انتخابی نشان الاٹ کیا ہے اور پرانا نام اور انتخابی نشان منجمد کر دیا ہے۔ لیکن ادھو ٹھاکرے اس سے خوش نہیں تھے۔ ادھو ٹھاکرے شیو سینا کا پرانا انتخابی نشان (تیر اور کمان) چاہتے تھے، اسی لیے وہ الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف عدالت گئے۔ تاہم اب انہیں ہائی کورٹ سے بھی جھٹکا لگا ہے۔