کلکتہ۔ عہدیداروں نے بتایاکہ سختی سکیورٹی کے درمیان مغربی بنگال میں پہلے مرحلے کے اسمبلی انتخابات میں 30سیٹوں پر رائے دہی ہفتہ کے روز صبح7بجے سے شروع ہوئی۔

مذکورہ سیٹوں پر 191امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ 73لاکھ رائے دہند وں نے کیاہے‘ اس میں زیادہ تر جو ماؤسٹ زدہ جنگل محل علاقہ شامل ہے۔

پورولیا‘ بنکورا کے چار‘ جھارگرام کے چار اور مغربی مدینہ پور کے چھ کے علاوہ مشرقی مدینہ پور کی سات سیٹیں جو بی جے پی لیڈر سویندو ادھیکاری کاآبائی مقام ہے میں کویڈ19کے تمام گائیڈ لائنس پر عمل کرتے ہوئے انتخابات کرائے گئے ہیں

مرکزی دستوں کی تعیناتی
مذکورہ انتخابات شام 6بجے تک جاری رہے جو سخت چوکسی میں کرائے گئے جس کے لئے الیکشن کمیشن نے 730مرکزی دستوں کی کمپنیوں کی تعیناتی عمل میں لائی‘ عہدیداروں کے بموجب 7061پولنگ بوتھ مراکز پر 10,288گارڈس کی بھی ساتھ میں تعیناتی عمل میں لائی گئی تھی۔

انہوں نے کہاکہ مرکزی دستوں کی ہر ایک کمپنی میں 100جوان موجود ہیں۔ اس کے علاوہ 22092ریاستی پولیس جوان کی حساس مقامات پر تعیناتی بھی عمل میں لائی گئی۔

صبح کی اولین ساعتوں سے ہی پولنگ بوتھ پررائے دہندو ں کی طویل قطاریں دیکھی گئیں‘ چلچلاتی دھوپ کے باوجود لوگ گھر سے نکل نکل کر ووٹ ڈالنے کے لئے قطار میں کھڑی ہوئے تھے حالانکہ حساس اور تشدد کے خطرات بھی ان پولنگ بوتھس پر منڈلارہے تھے۔ کرونا وائرس کے بڑھتے خطرات کے دوران بیشتر ووٹرس او رپارٹی کارکنان بغیر ماسک کے دیکھائی دئے۔

بعض بوتھس پر رائے دہندوں کو ماسک فراہم کئے گئے وہیں تمام مقامات پر سینٹائزرس دستیاب تھے
ترنمول کانگریس‘ بی جے پی‘ لفٹ کانگریس‘ ائی ایس ایف اتحاد
مذکورہ ترنمول کانگریس نے 30میں سے 29سیٹوں پر اپنے امیدوار کھڑا کئے ہیں وہیں پورلیا کے جوئے پور اسمبلی حلقہ پر آزاد امیدوار کی حمایت کی ہے کیونکہ ان کے اپنے امیدوار اجول کمار کے پرچہ نامزدگی کوالیکشن کمیشن نے کسی تفاوت کی وجہہ سے مسترد کردیا تھا۔

وہیں بی جے پی نے بھی29امیدواروں کو میدان میں اتارا ہے اور اپنی ساتھی اے جے ایس یو پارٹی برائے جھارکھنڈ کے باغ منڈی میں امیدوار کی حمایت کی ہے۔

مذکورہ لفٹ کانگریس ائی ایس ایف اتحاد نے اپنے 30امیدواروں کو میدا ن میں اتارا ہے جبکہ بعض مقامات پر ان کی ”دوستانہ لڑائی“بھی ہوئی ہے۔

سال2016اسمبلی انتخابات میں مذکورہ 30میں سے ترنمول کانگریس نے 27سیٹوں پر جیت حاصل کی تھی‘ کانگریس نے دو جبکہ آر ایس پی کو ایک سیٹ پر جیت حاصل ہوئی تھی۔تاہم مساوات میں بڑی تبدیلی2019میں ائی جب بی جے پی نے جنگل محل کے قبائیلی اکثریت والے علاقے میں بڑی پیمانے پر اپنا داخلہ لیاہے‘ پانچ لوک سبھا حلقوں پورلیا‘ بینکورا‘ جھارگرام‘ مدینہ پور اور بشنور پور سے جیت حاصل کی تھی

سیاسی تصادم
مغربی بنگال میں پچھلے کچھ دنوں میں ترنمول کانگریس او ربی جے پی کے کارکنوں کی پرتشدد واقعات اور تصادم کے دوران موت واقعہ ہوگئی ہے اور دونوں ہی ایک دوسرے کو اس کا ذمہ دار پچھلے کچھ دنوں سے ٹہراتے ہوئے آرہی ہیں‘ اسی کے پیش نظر الیکشن کمیشن میں ان علاقوں میں بھاری پیمانے پر حفاظتی دستوں کو تعینات کردیا تھا۔

سخت سکیورٹی انتظامات کے باوجود بعض مقامات پر تصادم اورکشیدگی کے واقعات بھی رونما ہوئے ہیں۔

پہلے مرحلے کی رائے دہی میں جملہ73,80,942ووٹرس اہل پائے گئے ہیں۔ان میں 37,52,938مرد جبکہ 36,27,949عورت رائے دہندے ہیں‘ وہیں 55رائے دہندے تیسرے جنس کے طور پر درج کئے گئے ہیں۔

مغربی بنگال کے 294اسمبلی حلقوں پر اٹھ مراحل میں رائے دہی کرائی جائے گی جس کا پہلا مرحلہ27مارچ کے روز اختتام پذیر ہوگیاہے۔ ووٹوں کی گنتی 2مئی کو مقرر کی گئی ہے


اپنی رائے یہاں لکھیں