بین الاقوامی مارکٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید گراوٹ، ہندوستان میں قیمتیں زیادہ

نئی دہلی : بین الاقوامی بازار میں خام تیل کی قیمت میں مزید گراوٹ آتی ہے تو پٹرول۔ڈیزل کی قیمتوں میں آنے والے دنوں میں اضافہ کا امکان کم رہے گا جس سے صارفین کو ان کی جیب پر پڑنے والے دباؤ سے راحت ضرور ملے گی۔گزشتہ تقریباً 20 دنوں سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے کو نہیں مل رہا ہے، حالانکہ فروری ماہ میں روزانہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تھا اور اپوزیشن پارٹیوں کے ہنگامہ کے باوجود مرکز کی مودی حکومت کے کان پر جوں تک نہیں رینگی تھی۔ جیسے ہی چار ریاستوں (مغربی بنگال، آسام، تمل ناڈو، کیرالہ) اور ایک مرکز کے زیر انتظام خطہ (پڈوچیری) میں اسمبلی انتخابات کی تاریخوں کا اعلان ہوا، پٹرول-ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ اچانک سے رک گیا۔ بات صاف ہے کہ تیل کی قیمتیں بڑھنے پر اس کا اثر انتخابات پر ہو سکتا تھا اور اسی کو دیکھتے ہوئے قیمتوں کو کنٹرول کیا گیا۔ گویا کہ الیکشن کا شکر منانا چاہیے کہ گزشتہ 20 دنوں میں پٹرول-ڈیزل کی قیمتیں مستحکم ہیں۔جس رفتار سے تیل کی قیمتیں بڑھ رہی تھیں، اس حساب سے اگر گزشتہ 20 دنوں میں بھی قیمتیں بڑھتیں تو پٹرول 4 روپے اور ڈیزل 2 روپے مہنگا ہو گیا ہوتا۔ یہاں قابل ذکر ہے کہ ہندوستان میں 27 فروری کے بعد سے ہی تیل کی قیمتیں نہیں بڑھی ہیں۔ آخری بار دہلی میں پٹرول کی قیمت 24 پیسے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت 15 پیسے فی لیٹر بڑھی تھی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل قیمتوں میں آئی اس گراوٹ سے ہندوستان میں پٹرول اور ڈیزل کی مہنگائی میں کتنی راحت ملے گا یہ کہنا مشکل ہے، لیکن اگر بین الاقوامی بازار میں خام تیل کی قیمت میں مزید گراوٹ ا?تی ہے تو پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں آنے والے دنوں میں اضافہ کا امکان کم رہے گا جس سے صارفین کو ان کی جیب پر پڑنے والے دباو? سے راحت ضرور ملے گی۔ ویسے غور کرنے والی بات یہ بھی ہے کہ ابھی پٹرول اور ڈیزل کی جو قیمتیں ہیں، وہ ریکارڈ سطح پر قائم ہیں۔ انڈین آئیل کی ویب سائٹ کے مطابق دہلی، کولکاتا، ممبئی اور چنئی میں پٹرول کی قیمت اس وقت بالترتیب 91.17 روپے، 91.35 روپے، 97.57 روپے اور 93.11 روپے فی لیٹر ہے۔ ڈیزل کی قیمتیں بھی ان میٹرو پولیٹن سٹیز میں بالترتیب 81.47 روپے، 84.35 روپے، 88.60 روپے اور 86.45 روپے فی لیٹر ہے۔


اپنی رائے یہاں لکھیں