• 425
    Shares

کسی انتخاب میں اگر امیدوار کو صرف ایک ووٹ ملے اور وہ بھی ایسی صورتحال میں کہ وہ ملک کی حکمراں جماعت اور سب سے بڑی سیاسی پارٹی کی نمائندگی کر رہا ہو تو یقیناً یہ سننے والے کے لیے حیرت کی بات تو ہو گی ہی۔اسی طرح کا ایک واقعہ انڈیا کی جنوبی ریاست تمل ناڈو کے دیہی بلدیاتی انتخابات میں پیش آیا ہے جہاں مرکز میں حکمراں جماعت بی جے پی کے امیدوار کو صرف ایک ووٹ ملا ہے۔جب سے یہ خبر آئی ہے انڈین سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر تمل اور انگریزی زبان میں ’سنگل ووٹ بی جے پی‘ ٹرینڈ کر رہا ہے۔اور اس ہیش ٹیگ کے تحت ایک ووٹ حاصل کرنے والے امیدوار سے زیادہ ان کی جماعت بی جے پی کو مذاق اور تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ ریاست تمل ناڈو میں بی جے پی زیادہ مقبول پارٹی نہیں ہے اور گذشتہ اسمبلی انتخابات میں اسے پوری ریاست سے صرف چار سیٹوں پر کامیابی ملی تھی جس میں کوئمبٹور ضلع بھی شامل ہے جہاں کے بلدیاتی انتخابات میں بی جے پی امیدوار کو صرف ایک ووٹ ملا ہے۔مقامی میڈیا کے مطابق بی جے پی کے امیدوار ڈی کارتک کو نو اکتوبر کو ہونے والے انتخابات میں صرف ایک ووٹ ملا ہے۔ وہ نو نمبر وارڈ سے کونسلر کے امیدوار تھے۔ ان انتخابات کے نتائج کا اعلان گذشتہ روز یعنی 12 اکتوبر کو کیا گیا ہے۔

بہت سے ٹوئٹر صارفین نے لکھا ہے کہ ان کے گھر میں ہی پانچ ووٹ تھے لیکن وہ انھیں بھی حاصل کرنے میں ناکام رہے۔
مقامی میڈیا نیوز منٹ سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی کارتک نے بتایا کہ دراصل اُن کے اہلخانہ کے ووٹ چار نمبر وارڈ میں درج تھے جبکہ وہ نو نمبر وارڈ سے امیدوار تھے۔ڈی کارتک کوئمبٹور میں بی جے پی کے یوتھ رہنما ہیں اور وہ بہت سرگرم بھی رہتے ہیں۔
اس صورتحال کے منظر عام پر آنے کے بعد شاعرہ ڈاکٹر مینا سیمی نے لکھا کہ ’مقامی انتخابات میں بی جے پی کے امیدوار کو صرف ایک ووٹ ملا۔ ان کے چار گھر والوں پر فخر ہے جنھوں نے بھی دوسرے امیدوار کو ووٹ دینا مناسب سمجھا۔‘
ہیش ٹیگ ‘سنگل ووٹ بی جے پی’ کے تحت 25 ہزار سے زیادہ ٹویٹس کیے جا چکے ہیں جن میں بہت سے صارفین نے بی جے پی کو بھی نشانہ بنایا ہے۔

اشتیاق نامی ایک صارف نے طنز کرتے ہوئے لکھا: ’کیا سنگل رہنا گناہ ہے۔ اس پارٹی میں زیادہ سنگل لوگ ہیں۔ ون نیشن، ون الیکشن، ون ووٹ، سنگل ووٹ۔‘خیال رہے کہ ’ون نیشن، ون الیکشن‘ جے پی کا نعرہ رہا ہے۔چندر شیکرن نامی ایک صارف نے لکھا کہ تمل ناڈو میں 95 فیصد ہندو ہیں لیکن وہ فیک ہندوازم اور بی جے پی کی قوم پرستی میں یقین نہیں رکھتے۔ساتھیا سوتھنائی نے امت شاہ اور وزیر اعظم مودی کی ایک تصویر پوسٹ کی ہے جس میں مودی امت شاہ کی طرف معنی خیز نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھیا نے لکھا: ’تمل ناڈو میں بی جے پی کو ایک ووٹ ملا ہے یہ جاننے کے بعد ۔۔۔‘شیوا پرساد نے بی جے پی کے اس امیدوار کے بارے میں مزید معلومات فراہم کرتے ہوئے کہا ہے کہ و’ہ کوئمبٹور ضلع میں بی جے پی یوتھ ونگ کے نائب سیکریٹری بھی ہیں۔‘
ایک صارف نے لکھا کہ ‘بی جے پی سنگل سب سے بڑی پارٹی ہے۔۔۔ معاف کیجیے گا، تمل ناڈو میں سنگل ووٹ پارٹی ہے۔‘ جبکہ ایک صارف نے لکھا کہ ‘بہتر ہے کہ تمل ناڈو میں بی جے پی کو تحلیل کر دیا جائے۔’

پروگ پالیٹکس آف نامی صارف نے لکھا: ‘انڈیا کو پتہ چل جائے کہ تمل ناڈو میں بی جے پی کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا ہے۔ تمل ناڈو میں لوگ بی جے پی کو مقابلے کی پارٹی بھی نہیں سمجھتے۔۔۔‘ایک صارف یوں گویا ہوئے ‘صرف تمل ناڈو میں ہی مودی جی کی ویژنری قیادت میں ایسا ہو سکتا ہے۔۔۔ تمل ناڈو نے ملک کو راستہ دکھایا ہے۔‘ایک صارف نے معروف اداکار لیوناردو ڈی کیپریوں کی ایک جف امیج ڈالی جس میں وہ تالی بجا کر تعریف کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ انھوں نے لکھا کہ ’ان کے گھر والوں کی تعریف کی جانی چاہیے جنھوں نے خاندان پر ریاست کو فوقیت دی۔‘حارث نامی ایک کانگریس کارکن نے لکھا: ’ایک بار پھر جنوب نے راستہ دکھایا ہے۔ نہ زبان کا تعصب، نہ کھانے پر تعصب، نہ ہندو مسلم کی تفریق، صرف محبت۔‘مبصرین کا کہنا ہے کہ مودی جب بھی تمل ناڈو کا دورہ کرتے ہیں تو وہاں ’گو بیک مودی‘ ہیش ٹیگ ٹرینڈ کرنے لگتا ہے۔ بی جے پی کی تمل ناڈو میں مخالفت اس لیے بھی ہوتی ہے کہ بی جے پی ہندی زبان کی حامی ہے جبکہ تمل ناڈو کے لوگ اپنی تمل زبان پر کسی دوسری زبان کو فوقیت دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔(بہ شکریہ بی بی سی اردو )

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔