سری نگر،19 نومبر (یو این آئی) پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے مرکزی سرکار کی طرف سے زرعی قوانین کی منسوخی کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ جموں و کشمیر میں بھی پانچ اگست2019 سے کی جانی والی تبدیلیوں کو واپس لیا جائے گا۔

ان کا کہنا ہے کہ زرعی قوانین کی منسوخی ایک خوش آئند اقدام ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ یہ اقدام انتخابی مجبوری کےتحت اٹھایا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر کو بے اختیار کرنےاور ٹکڑے ٹکڑے کرکے آئین کی بے حرمتی کی گئی تاکہ ووٹروں کو خوش کیا جاسکےموصوف سابق وزیر اعلیٰ نے ان باتوں کا اظہار جمعے کے روز اپنے سلسلہ وار ٹویٹس میں کیا۔

انہوں اپنے ٹویٹ میں کہا: ’زرعی قوانین کی منسوخی اور معذرت کا فیصلہ ایک خوش آئند اقدام ہے اگرچہ ایسا لگتا ہے کہ ایہ اقدام انتخابی مجبوری ہے اور انتخابات میں شکست کے خوف کے تحت اٹھایا گیا ہے‘۔ان کا ٹویٹ میں مزید کہنا تھا: ’ستم ظریفی یہ ہے کہ بی جے پی کو ملک کے باقی حصوں میں ووٹوں کے لئے لوگوں کو خوش کرنا ضروری ہے لیکن کشمیریون کو سزا دینا اور ان کی تذلیل کرنا اس کے بڑے ووٹ بینک کے لئے ضروری ہے‘۔موصوفہ نے اپنے ایک اور ٹویٹ میں کہا: ’جموں وکشمیر کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے اور اس کو بے اختیار کرنے کے لئے آئین کی بے حرمتی صرف ووٹروں کو خوش کرنے کے لئے کی گئی‘۔ان کا مزید کہنا تھا: ’مجھے امید ہے کہ یہاں بھی اصلاحی اقدام کئے جائیں گے اور جموں و کشمیر میں پانچ اگست 2019 سے کی جارہی تبدیلیوں کو بھی واپس لیا جائے گا‘۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔