مومن نے ہندوستانی وزیر پر زوردیا کہ وہ اپنے معلومات میں اضافہ کریں
نئی دہلی۔پچھلے سال دیڑھ سے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) قائدین مسلسل بنگلہ دیش کی تذلیل اکثر اس دعوی کے ساتھ کررہے ہیں کہ یہ ملک غیر ترقی یافتہ ہے جس کی وجہہ سے اس کے شہری ہندوستان میں غیر قانونی طریقے سے داخل ہورہے ہیں۔

ایسا کرنے والے تازہ فرد مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ ہے جنھوں نے 15اپریل کے روز ایک انتخابی ریالی کے دوران ایسا کہا ہے۔ تاہم ان کے الفاظ کا انتخابات اب دونوں ممالک کے درمیان عالمی تعلقات میں دراڑ کی وجہہ بن سکتا ہے۔

امیت شاہ نے اپنے حالیہ دعوی میں کہاکہ بنگلہ دیش کے لوگ ہندوستان میں ”گھس“ رہے ہیں کیونکہ”سرحدی علاقوں تک رسائی“ ترقی کی نہیں ہوئی ہے۔

اس کے جواب میں بنگلہ دیش کے خارجی وزیر اے کے عبدال مومن نے شاہ کے ریمارک کو ناقابل قبول قراردیا اور ہندوستان وزیر پر زوردیا کہ وہ ”اپنے معلومات میں اضافہ کریں“۔

مومن نے اسی طرح کے اور بیانات کا بھی حوالے دیا اور کہاکہ ہندوستان او ربنگلہ دیش کے مابین دوستانہ تعلقات کی برقراری کے لئے اس طرح کی چیزیں بہتر نہیں ہیں۔

اتنا ہی نہیں بلکہ مومن نے اشارہ دیا کہ بنگلہ دیش نے ہندوستان کے مقابلہ کئی شعبوں میں بہترمظاہرہ کیاہے۔میڈیا رپورٹس کا حوالے دیتے ہوئے مومن نے کہاکہ بنگلہ دیش میں 90فیصد لوگ لیٹرینس ک ااستعمال کررہے ہیں وہیں ہندوستان میں 50فیصد لوگوں کو بیت الخلاء نہیں ہے۔

شاہ کے لئے اتنا کافی ہونا چاہئے‘ جس کو اس بات کا احساس نہیں ہے کہ ملک کے وزیر داخلہ کے بیان سے سفارتی تعلقات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

اس سے قبل شاہ نے یہاں تک کہاتھا کہ بنگلہ دیش سے ملک میں گھسنے والوں مغربی بنگال تک محدود نہیں ہیں اور وہ ہندوستان کی مختلف ریاستوں بشمول جموں کشمیر تک پھیلے رہے ہیں۔

اس پر ردعمل پیش کرتے ہوئے مومن نے کہا کہ کئی سماجی انڈیکس میں بنگلہ دیش نے ہندوستان سے بہتر مظاہرہ کیاہے اور یہاں تک کے کم تعلیم یافتہ افراد کے لئے بھی ملازمت کے مواقع فراہم کئے‘ جبکہ تعلیم یافتہ افراد کے لئے ملازمتیں کم ہیں مگر کم تعلیم یافتہ افراد کے لئے ملازمت کی کم نہیں ہیں۔

اس کے علاوہ مومن نے بنگلہ دیش کے لوگ”ہندوستان نہیں جاتے ہیں“ پر برقرار رہتے ہوئے اشارہ کیاکہ ان کے ملک میں ایک لاکھ ہندوستانی کام کررہے ہیں۔

یہاں پر اس بات کا ذکر ضروری ہے کہ ہندوستان عالمی بھوک انڈیکس میں 107ممالک میں 94نمبر پر ہندوستان ہے جبکہ 75اور 88پر بنگلہ دیش او رپاکستان ہے۔

سال2019میں سابق بنگلہ دیشی ہائی کمشنر برائے ہندوستان سید معظم علی نے کہاتھا کہ بنگلہ دیشی ہندوستان جانے کے بجائے بحرہ روم میں تیراتے ہوئے اٹلی جانے کو ترجیح دیتے ہیں۔

انہو ں نے پھر کہاتھا کہ یہ ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان فی کس آمدنی میں کمی کے فرق کی وجہہ سے یہ ہورہا ہے۔

سال 2019شہریت ترمیمی بل کی نریندر مودی زیر قیادت حکومت کی جانب سے منظوری کے ساتھ او ربی جے پی قائدین کی بنگلہ دیشی شہریوں پر مسلسل نفرت انگیز بیانات(جس کو مخالف مسلم بیانات کے طور پر مانا جاتا ہے) ہندوستان او ربنگلہ دیش کے مابین تعلقات میں خرابی آگئی ہے۔اب مغربی بنگال کے جاری انتخابات میں شاہ کے بیانات اس میں شدت پیدا کررہے ہیں


اپنی رائے یہاں لکھیں