کیف: یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ایک ویڈیو پیغام میں یوکرین اور روس کے درمیان جاری تنازعہ کے درمیان حال ہی میں ختم ہونے والی نیٹو سربراہی کانفرنس کو ’کمزور‘ قرار دیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ نیٹو نے یوکرین کو 50 ٹن ڈیزل فراہم کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔

دراصل، زیلنسکی نے نیٹو ممالک سے اپیل کی تھی کہ وہ یوکرین کو ’نو فلائی زون‘ یعنی وہ علاقہ قرار دیں جہاں سے کسی طیارے کے گزرنے پر پابندی ہوتی ہے لیکن نیٹو نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ نیٹو کے اس فیصلے کے بعد زیلنسکی نے کہا کہ اب اگر لوگ مارے جائیں گے تو اس کا ذمہ دار نیٹو ہوگا!

زیلنسکی نے کہا، نیٹو کے اس رخ سے روس کو یوکرین کے شہروں اور گاؤں پر بم برسانے کی کھلی چھوٹ مل گئی ہے۔ پولینڈ جانے کی خبر پر انہوں نے کہا کہ وہ کہیں نہیں گئے ہیں۔ وہ کیف میں ہی ہیں اور یوکرین سے فرار نہیں ہوں گے۔ نیٹو کو معلوم ہے کہ روس ابھی حملہ اور تیز کرے گا۔ ایسی صورت میں جب سب کو معلوم ہے کہ نئے حملے اور اموات ہوں گی تو نیٹو کا فیصلہ سمجھ سے بالاتر ہے۔

زیلنسکی نے جمعہ کے روز کہا، "آج نیٹو کا سربراہی اجلاس منعقد ہوا۔ یہ ایک کمزور سربراہی اجلاس تھا۔ ایک الجھا ہوا سربراہی اجلاس، ایک ایسا سربراہی اجلاس جو ظاہر کرتا ہے کہ یورپ میں ہر کوئی جنگِ آزادی کو ایک مقصد کے طور پر نہیں دیکھتا۔‘‘ زیلنسکی نے نیٹو کے ارکان پر روس کو یوکرین پر حملہ کرنے کے لیے ہری جھنڈی دکھانے کا الزام بھی عائد کیا۔