امریکی ماہرینِ تعلیم کی بڑی تعداد کا یو ایف او دیکھنے کا دعویٰ

632

ایک سروے میں امریکی شعبہ تعلیم سے وابستہ تقریباً 20 فیصد افراد بتایا کہ انہوں نے، یا ان کے کسی جاننے والے نے نامعلوم اڑنے والی اشیا (یو ایف اوز) دیکھی ہیں۔جرنل ہیومینیٹیز اینڈ سوشل سائنس کمیونیکیشنز میں شائع ہونے والے سروے کے نتائج کے مطابق تقریباً 1500 جواب دہندگان میں سے ایک تہائی سے زیادہ ایسے نامعلوم فضائی مظاہر (یو اے پی) پر تحقیق کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

امریکی حکومت نے یو اے پی کے بارے میں نئی رپورٹوں اور تحقیقات کا آغاز کیا ہے۔ پینٹاگون کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگست 2022 تک ایجنسی کے پاس یو ایف او کے بارے میں 500 سے زیادہ رپورٹیں تھیں۔

حالیہ تحقیق میں یونیورسٹی آف لوئس ویل کے سائنس دانوں نے 14 مختلف شعبوں میں 144 امریکی یونیورسٹیوں کے پروفیسروں، ایسوسی ایٹ پروفیسروں اور اسسٹنٹ پروفیسروں سمیت 39 ہزار 984 ماہرین تعلیم کا سروے کیا۔

محققین کا کہنا ہے کہ اس موضوع سے وابستہ بدنامی کے باوجود، یہ پیش رفت یو ایف اوز دیکھنے کے متعلق یونیورسٹی فیکلٹی سے ان کے خیالات پوچھنے کے لیے میرٹ فراہم کرتی ہے۔

محققین نے سروے کا جواب دینے والے چار فیصد افراد سے یو اے پی کے بارے میں ان کے تصورات، تجربات اور آرا کے متعلق پوچھا۔

تقریباً دسواں حصہ پولیٹیکل سائنس، دسواں ہی فزکس اور نفسیات اور چھ فیصد انجینیئرنگ میں کام کرتا ہے۔

تقریباً 276 جواب دہندگان، یا 19 فیصد شرکا نے بتایا کہ انہوں نے یا ان کے کسی جاننے والے نے یو اے پی کا مشاہدہ کیا ہے۔تحقیق کے مطابق مزید نو فیصد نے کہا کہ انہوں نے یا ان کے جاننے والوں نے شاید یو اے پی دیکھا ہو۔

تمام شرکا میں سے 39 فیصد نے کہا کہ وہ نہیں جانتے کہ یو اے پی کی سب سے زیادہ ممکنہ وضاحت کیا ہے، لیکن ان میں سے پانچ فیصد نے اس منظر کو قدرتی واقعات اور 13 فیصد نے نامعلوم انٹیلی جنس ڈیوائسز کے ساتھ منسوب کیا۔

تقریبا چار فیصد شرکا نے کہا کہ انہوں نے یو اے پی سے متعلق تعلیمی تحقیق کی ہے، اور ایک تہائی سے زیادہ نے کہا کہ وہ اس شعبے میں تحقیق کرنے میں کسی حد تک دلچسپی رکھتے ہیں۔

جواب دہندگان میں سے 37 فیصد نے یو اے پی میں مزید تحقیق کی اہمیت کو ’بہت اہم‘ یا ’انتہائی ضروری‘ قرار دیا، جبکہ ان میں سے تقریبا دو تہائی نے یو اے پی سے متعلق تحقیق میں تعلیمی اداروں کی شمولیت کو ’بہت اہم‘ یا ’انتہائی ضروری‘ قرار دیا۔