امریکی صدربائیڈن اور شاہ عبداللہ کا مقبوضہ بیت المقدس میں تشدد پر تبادلہ خیال

امریکی صدر جو بائیڈن اور اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) میں مسجدِاقصیٰ کے احاطے میں تشدد کی حالیہ لہرکے بارے میں تبادلہ خیال کیا ہے اور وہاں قیام امن کی ضرورت پر زوردیا ہے۔وائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ دونوں رہ نماؤں نے اسرائیل اورفلسطین میں تشدد کو کم کرنے کی حالیہ کوششوں پرتفصیلی بات چیت کی ہے۔

امریکی صدر نے شاہِ اردن سے گفتگو کرتے ہوئے کشیدگی کم کرنے کے حالیہ اقدامات کا خیرمقدم کیا اور امید ظاہر کی کہ رمضان المبارک کا آخری ہفتہ پُرامن طریقے سے گزر جائے گا۔ بائیڈن نے مسجد اقصیٰ کا تاریخی ’اسٹیٹس کو‘ برقرار رکھنے کی ضرورت پربھی زوردیا جبکہ انھوں نے یروشلم میں مسلمانوں کے مقدس مقامات کےمحافظ کے طورپراردن کے کردار کو تسلیم کیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق شاہ اردن نے صدر بائیڈن کو خطے میں اپنی حالیہ مصروفیات سے آگاہ کیا اور صدر نے مشرق اوسط اور خطے کے استحکام کے حوالے سے امریکی عزم کا اعادہ کیا ہے۔توقع ہے کہ شاہ عبداللہ آیندہ ہفتوں میں واشنگٹن کا دورہ کریں گے۔ گذشتہ سال وہ صدر بائیڈن کے اقتدار سنبھالنے کے بعد وائٹ ہاؤس کا دورہ کرنے والے پہلے عرب رہ نما تھے۔

فلسطینی مظاہرین مسجداقصیٰ اوراس کے نواحی علاقوں میں رمضان کے آغاز سے اسرائیل کی چیرہ دستیوں اور صہیونی فورسز کی مسلمانوں کے قبلہ اوّل میں دراندازی کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔ان کی اسرائیلی پولیس کے ساتھ کئی مرتبہ جھڑپیں ہوچکی ہیں۔اس مرتبہ مسلمانوں کا مقدس ماہ رمضان اور یہود کا مذہبی تیوہارفسح ایک ساتھ آئے ہیں اور عیسائیوں نے بھی گذشتہ ہفتے ایسٹرمنایاتھا۔

یہ جھڑپیں اسرائیل اورفلسطینی علاقوں میں تشدد کے واقعات کے پس منظر میں ہوئی ہیں۔ان کے نتیجے میں مارچ کے آخرسے اب تک 38 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔فلسطینیوں اوراسرائیلی عربوں کے حملوں میں اسرائیل میں 14 افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ 24 فلسطینی مارے گئے ہیں۔ان میں بیشتراسرائیلی سیکورٹی فورسز کی چھاپا مار کارروائیوں میں شہید ہوئے ہیں۔

مقبوضہ مشرقی بیت المقدس میں الاقصیٰ کے احاطے میں اسرائیلی سکیورٹی فورسز کے تحفظ اور معیت میں یہودیوں کی آمدورفت میں اضافے سے فلسطینی سخت نالاں ہیں اور وہ اپنے غم وغصے کا اظہار کررہے ہیں۔واضح رہے کہ یہودی ایک دیرینہ کنونشن کے تحت مسجد اقصیٰ میں آ سکتے ہیں لیکن انھیں وہاں نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں۔

فلسطینی حکام اور مزاحمتی تنظیموں نے اسرائیل پرباربار الزام لگایا ہے کہ وہ اس جگہ کو یہوداور مسلمانوں میں تقسیم کرنا چاہتا ہے یا وہ ان کے لیے وہاں آنے کے الگ الگ اوقات مقررکرنا چاہتا ہے۔اس نے مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں ایک اورحساس مقدس مقام مسجد ابراہیمی میں ایسا ہی انتظام کررکھا ہے۔