امریکہ, یوکرین کیلئے کونسے سمارٹ ٹیکنالوجی بم دے گا؟

49

یوکرین کے صدر زیلنسکی نے جنگ کے آغاز کے بعد اپنے پہلے غیر ملکی دورے میں واشنگٹن میں امریکی کانگریس کے سامنے تاریخی تقریر کی اور یوکرین کی مزید مدد کی اپیل کی ۔ اس دورہ کے دوران امریکہ نے یوکرین کو مزید 1.85 ارب ڈالر کی مزید امداد دینے کا اعلان کیا۔ امریکہ نے یوکرین کو پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام دینے کا اعلان بھی کیا۔

امریکی حکام نے انکشاف کیا کہ متوقع نئے پیکج میں بموں کا ایک سیٹ شامل ہوگا جو موجودہ غیر گائیڈڈ گولہ بارود کو سمارٹ پریسجن گائیڈڈ بموں میں تبدیل کردے گا جنہیں جوائنٹ ڈائریکٹ اٹیک گولہ باری یا JDAMs کہا جاتا ہے۔

بہت سی خصوصیات روسیوں کیلئے رکاوٹ بن سکتی ہیں
سی این این کے مطابق امریکی حکام نے کہا کہ یہ کٹ روایتی جنگی سازوسامان میں پنکھڑی اور ایک درست رہنمائی کا نظام شامل کرتی ہے۔ اسی ہفتے اس کٹ کو اگلے سکیورٹی امدادی پیکج میں شامل کیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ درست نشانہ لینے والے بم یوکرین کو جنگی طیاروں سے گرانے کے بعد روسی دفاعی خطوط یا دوسرے بڑے اہداف پر حملہ کرنے میں مدد دے سکتے ہیں ۔ روسی فضائی دفاع کی وجہ سے اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔

امریکی اور یوکرینی صدر کے درمیان پریس کانفرنس
سمارٹ ٹیکنالوجی کٹس کو مختلف وزن اور سائز کے بموں کے ساتھ بھی منسلک کیا جا سکتا ہے جس میں 500 پاؤنڈ کے بم سے لے کر 2000 پاؤنڈ کے بم تک شامل ہیں۔

گولہ بارود ایک گلوبل پوزیشننگ سسٹم (GPS) اور ایک انرشل گائیڈنس سسٹم کے امتزاج کو استعمال کرتے ہوئے درستگی کے ساتھ ہدف کو نشانہ بناتا ہے ۔ ایک اضافی نظام بم لیزر کے متحرک ہدف کو نشانہ بنانے کے لیے رہنمائی بھی دے سکتا ہے۔

صدقہ نہیں بلکہ عالمی امن میں سرمایہ کاری
یہ انکشاف یوکرین کے صدر زیلنسکی کے واشنگٹن پہنچنے کے بعد ہوا جہاں امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نے اعلان کیا کہ امریکہ یوکرین کو 1.85 بلین ڈالر کی اضافی فوجی امداد فراہم کرے گا، جس میں پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام کی منتقلی بھی شامل ہے۔

دریں اثنا، یوکرینی صدر نے کہا کہ امریکہ کی طرف سے ان کے ملک کو فراہم کی جانے والی امداد "خیرات” نہیں بلکہ عالمی سلامتی میں "سرمایہ کاری” ہے۔

گزشتہ فروری میں یوکرین میں روسی فوجی آپریشن کے آغاز کے بعد سے امریکہ نے اپنے دوست پر اربوں ڈالر کی فوجی امداد کی بارش کر دی ہے، جس میں سب سے اہم HIMARS precision موبائل میزائل سسٹم تھا۔ اس سسٹم نے روسی پیش قدمی کا رخ موڑ دیا۔ روس نے پسپائی اختیار کی اور پہلی مرتبہ یوکرین کی فوج کو اپنی زمین کے بڑے حصوں کو آزاد کرنے کا موقع مل گیا۔گزشتہ موسم گرما تو واشنگٹن کی جانب سے یوکرین کو امداد 13 ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔