بغداد : عراق میں دہشت گرد گروپ دولت اسلامیہ سے لڑائی کی قیادت کی ذمہ داری اب امریکہ اور اس کے اتحادیوں سے عراقی سیکیورٹی فورسز کو منتقل ہو گئی ہے۔اس بات کا اعلان جمعرات کو علی الصبح عراقی حکام نے کیا۔ اعلان میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ اور اس کی اتحادی افواج ضرورت پڑنے پر محض معاونت فراہم کرنے کا کام کریں گی۔دوسری طرف امریکی فوج کے کمانڈر برائے مشرق وسطی جنرل فرینک میکنزی نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ امریکہ عراق میں موجود 2500امریکی فوجیوں کو فی الوقت واپس بلانے کا ارادہ نہیں رکھتا اور وہ عراقی فوج کو دولت اسلامیہ کے خلاف لڑائی میں فضائی اور دیگر فوجی امداد مہیا کرتے رہیں گے۔جنرل میکنزی نے امریکی محکمہ دفاع میں خبر رساں ادارے کو انٹرویو میں کہا کہ ایران کی حمایت یافتہ جنگجو ملیشیا عراق سے تمام مغربی افواج کا مکمل انخلا چاہتی ہے، اور انہیں توقع ہے کہ اب امریکی افواج کو عراق سے نکالنے کے لئے مزید حملے کئے جائیں گے۔دوسری طرف عراقی سیکیورٹی اور میڈیا سیل کے سربراہ، میجر جنرل سعد معین نے اخباری نمائندوں کو بتایا ہے کہ ’’عراقی سیکیورٹی افواج اور بین الاقوامی اتحاد کے درمیان مشاورت اور مدد کی سطح پر تعاون برقرار رہے گا‘‘۔