امریکی فوڈ اینڈ ڈرگس ریگولیٹری (ایف ڈی اے) نے حیدر آباد واقع بھارت بایوٹیک کو بڑا جھٹکا دیتے ہوئے اس کی ’کوویکسن‘ کو امریکہ میں ایمرجنسی استعمال کے لیے منظوری دینے سے انکار کر دیا ہے۔ ایف ڈی اے نے ہندوستان کی پہلی سودیشی کورونا ویکسین کے ایمرجنسی استعمال کو فی الحال منظوری دینے سے انکار کرتے ہوئے ویکسین مینوفیکچرر کے امریکی شراکت دار آکیوجین کو یہ مشورہ دیا ہے کہ وہ ہندوستانی ویکسین کے استعمال کی منظوری کے لیے مزید ڈاٹا فراہم کرے۔ اس کے ساتھ ہی ایف ڈی اے نے آکیوجین کو ای یو اے یعنی ایمرجنسی استعمال کی اجازت کے لیے درخواست کی جگہ بایو لائسنس درخواست (بی ایل اے) میں جا کر گزارش کرنے کو کہا ہے۔

ساتھ ہی اضافی جانکاری اور ڈاٹا فراہم کرنے کو بھی کہا ہے۔ کمپنی کا اندازہ ہے کہ سب مشن کی حمایت کرنے کے لیے ایک اضافی ’کیور ٹیسٹ‘ سے ڈاٹا کی ضرورت ہوگی۔ آکیوجین یو ایس ایک بایوفارما کمپنی ہے جو حیدر آباد کی بھارت بایوٹیک کے ساتھ کوویکسن بنانے کا کام کر رہی ہے۔ آکیوجین کے چیف ایگزیکٹیو افسر (سی ای او) اور شریک بانی شنکر مسونوری نے کہا کہ ’’حالانکہ ہم اپنے ای یو اے درخواست کو آخری شکل دینے کے بے حد قریب تھے، لیکن ایف ڈی اے نے ہمیں بی ایل اے کے ذریعہ گزارش کرنے کی صلاح دی ہے۔ اس سے زیادہ وقت لگے گا، لیکن ہم کوویکسن کو امریکہ میں لانے کے لیے پرعزم ہیں۔‘‘ انھوں نے واضح کیا کہ کوویکسن میں ڈیلٹا ویرینٹ سمیت سارس-سی او وی-2 ویرینٹ سے نمٹنے کی صلاحیت ہے۔

آکیوجین نے حال ہی میں اعلان کیا تھا کہ اس نے کناڈا میں ویکسین فروخت کرنے کے لیے خصوصی حقوق حاصل کیے ہیں۔ اگر امریکہ میں کوویکسن کے ایمرجنسی استعمال کو منظوری مل جاتی تو ہندوستان کی سودیشی ویکسین کے لیے ایک بڑی کامیابی ہوتی۔ایف ڈی اے کے اس فیصلے کے بعد اب کمپنی کو امریکہ میں اپنی کوویکسن کو لانچ کرنے کے لیے اب تھوڑا انتظار کرنا ہوگا۔ قابل ذکر ہے کہ کچھ دنوں پہلے کوویکسن کے لیے امریکی شراکت دار آکیوجین نے امریکی دوا ریگولیٹری ایف ڈی اے سے اس ٹیکے کے ایمرجنسی استعمال کی اجازت مانگی تھی۔ کوویکسن کی اسٹڈی سے پتہ چلتا ہے کہ اس نے برازیل میں سب سے پہلے پہچانے گئے سارس-سی او وی-2، بی11282 کے ساتھ ہی الفا ویرینٹ، بی117 کو بھی اثردار طریقے سے بے اثر کر دیا ہے، جسے پہلی بار برطانیہ میں پہچانا گیا تھا۔ اس کے علاوہ اسے ڈیلٹا ویرینٹ، بی1617، جسے پہلی بار ہندوستان میں پہچانا گیا تھا، اس پر بھی اثردار بتایا گیا ہے۔واضح رہے کہ ہندوستان کی پہلی سودیشی کورونا ویکسین ’کوویکسن‘ کی اب تک ہندوستان اور دیگر ممالک میں تین کروڑ سے زیادہ خوراک کی فراہمی کی جا چکی ہے۔ یہ اس وقت 13 ممالک میں ایمرجنسی استعمال اتھارٹی کے تحت استعمال کی جا رہی ہے اور ایمرجنسی استعمال اتھارٹی کے لیے 60 سے زیادہ دیگر ممالک میں زیر غور ہے۔