ٹیکساس : امریکی ریاست ٹیکساس کے دارالحکومت آسٹن میں ایک ہسپتال میں کینسر سے متاثرہ ہندوستانی  ماہر امراض اطفال  ڈاکٹر (43) نے کچھ افراد کو یرغمال بناتے ہوئے ایک خاتون ڈاکٹر کو گولی مار کر ہلاک کرنے کے بعد خودکشی کرلی۔ پولیس نے بتایا کہ مسلح شخص کی شناخت ڈاکٹر بھرت نرومانچی کے نام سے ہوئی ہے ، جو کینسر میں مبتلا تھے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ، منگل کے روز پولیس کو فون آیا کہ ایک شخص اسلحہ لے کر چلڈرن میڈیکل گروپ (سی ایم جی) کے دفتر میں داخل ہوگیا ہے اور کچھ لوگوں کو یرغمال بنا لیا ہے۔ پولیس نے بتایا کہ ابتدائی طور پر بہت سے لوگوں کو یرغمال بنایا گیا تھا لیکن کئی لوگ  چنگل سے نکلنے میں کامیاب ہوگئے اور حملہ آور نے کیتھرین ڈاڈ سن نامی ایک  ماہر امراض اطفال  کے علاوہ دیگر کو جانے کی اجازت دی ۔

پولیس نے بتایا کہ حملہ آور کے چنگل سے فرار ہونے میں کامیاب ہونے والے افراد نے جائے وقوع پر موجود اہلکاروں کو بتایا کہ اس شخص کے پاس ایک پستول ہے جو شاٹ گن کی طرح دکھ رہی تھی ۔  پولیس کو ڈاکٹر نرمانچی اور ڈاکٹر ڈاڈسن کے مابین کسی بھی قسم کے تعلقات کے بارے میں کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔ محکمہ پولیس کی طرف سے جاری کردہ ایک ریلیز کے مطابق ، ایسا لگتا ہے کہ ڈاکٹربھرت نرومانچی نند نے ڈاکٹر ڈاڈسن کو قتل کرنے کے بعد بعد گولی مار کر خود کو گولی مارلی ۔واقعے کی تفتیش جاری ہے۔