امریکہ میں ہندوتوا گروپس کے خلاف تحقیقات کا مطالبہ

13

واشنگٹن: امریکہ ایک میونسپل کمیٹی میں ایک قرار داد منظور کی گئی جس میں امریکہ میں ہندو برتری پر عمل پیرا تنظیموں‘ہندو امریکن فاونڈیشن (ایچ اے ایف)‘ وشوا ہندوپریشد آف امریکہ (وی ایچ پی اے)‘سیوا‘ انٹرنیشنل‘انفینیٹی فاونڈیشن‘ ایکل ودیالیہ فاونڈیشن اور دیگر کے نام شامل ہیں۔ٹی نک ڈیموکریٹک میونسپل کمیٹی (ٹی ڈی ایم سی) میں جاریہ ہفتہ منظور کی گئی قرار داد میں امریکی سینیٹرس اور نیوجرسی کے کانگریس مین اور گورنر فل مرفی سے فیڈرل بیورو آف انوسٹی گیشن (ایف بی آئی) اور سنٹرل انٹلی جنس ایجنسی (سی اے آئی) کو نفرت پھیلانے والے ان بیرونی گروپوں کے خلاف تحقیقات میں تیزی لانے کی خواہش کی گئی ہے۔ان گروپوں کو امریکہ میں ٹیکس سے چھوٹ کا موقف حاصل ہے۔ ٹی ڈی ایم سی نے کہاکہ ہندو قوم پرست تنظیمیں سیاست کے ہر گوشہ میں گھس گئی ہیں اور وہ امریکی ایوان نمائندگان کی قرار داد 417 میں رکاوٹ ڈالنے میں بڑی حد تک کامیاب رہیں۔

کانگریس کی جانب سے ہندو قوم پرست تحریک کے خلاف انتباہ دینے کی ایک کوشش کے طور پر یہ قرار داد پیش کی گئی۔ امریکی کانگریس میں 2013میں قرار داد 417 پیش کی گئی جس میں ہندوستانی وزیراعظم نریندر مودی کو امریکی ویزا جاری کرنے سے انکار کا سلسلہ جاری رکھنے کی خواہش کی گئی۔ریپبلکن او رڈیموکریٹک کے قانون سازوں کی جانب سے یہ قرار داد اور اسپانسرس کی گئی۔ قرار داد میں ہندوستان سے کہاگیاہے کہ وہ مذہبی اقلیتوں کے حقوق اور آزادی کا تحفظ کرے۔ قرار داد میں امریکی حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ یہ معاملہ باہمی اسٹراٹیجک مذاکرات میں شامل کرے۔قرار داد میں نشاندہی کی گئی ہے کہ امریکہ کے بیشتر منتخبہ عہدیدار ہندو انتہاپسندی سے ناواقف اور اس سے نمٹنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ قرار داد میں دعوی کیاگیا ہے کہ امریکہ میں واقع دائیں بازو کے ہندو گروپوں کے راشٹریہ سیوم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے ساتھ راست اور بالراست تعلقات ہے۔

آر ایس ایس‘ہندوستان میں دائیں بازو کی ہندو قوم پرست تنظیم ہے۔ اس کے نظریات میں نازی ازم اور یورپی فاشزم شامل ہیں۔ قرار داد میں نیوجرسی کے سینٹرس باب مینن ڈیز ار کوری بوکر نیز کا نگریس میں جوش گاٹ ہیمر سے ویزا میں چھوٹ کے پروگرام میں بہتری اور ٹرارسٹ ٹرایول پروینشن ایکٹ 2015 پر نظر ثانی کی خواہش کی گئی تاکہ بیرونی انتہاپسندوں سے نمٹا جاسکے۔گجرات کے سابق چیف منسٹر اور نریندر مودی جو 2005 میں گجرات کے چیف منسٹر تھے امریکی ویزا کے لیے درخواست دی تھی مگر ان کی درخواست مسترد کردی گئی کیونکہ وہ 2002 کے فسادات کو روکنے میں ناکام ہوگئے۔ جن میں ہندوستانی ریاست میں تقریباً2000 مسلمان ہلاک کئے گئے۔ ان کا ذریعہ معاش اور مکانات تباہ کئے گئے۔ اوباما انتظامیہ نے 2016 میں چھوٹ کی سہولت کااستعمال کرتے ہوئے ان کا ویزا بحال کیاتھا۔ٹی ڈی ایم سی قرار داد میں نشاندہی کی گئی ہے کہ (ہندوستان میں) اقلیتوں کے خلاف مسلسل زہر اگلنے والے انتہاپسندوں کو امریکہ میں بڑی تقاریب اور منادر میں تقریر کے لیے مدعو کیا جاتاہے۔ قرار داد میں نشاندہی کی گئی ہے کہ ہندوستان میں حکمراں ہندوبالادستی پر عمل پیرا بھارتیہ جنتاپارٹی (بی جے پی) کے ایک متنازعہ ترجمان سمپت پاترا نے 14اگست کو ہندوستانی یوم آزادی کی 75 ویں سال کے موقع پر 14اگست کو ایڈیسن اور ووڈ برج قصبات میں ایک پریڈ میں گرانڈ مارشل کے طور پر حصہ لیا۔

ایک بلڈوزر نیوجرسی پریڈ کا حصہ تھا جو ہندوستان میں اقلیتوں کے خلاف ایک ہتھیار رہاہے۔ پریڈ میں اتر پردیش کے چیف منسٹر یوگی ادتیہ ناتھ کی بڑی تصاویر بھی تھیں جن پر ڈیڈی بلڈوزر تحریر کیا گیاتھا۔ قرار داد میں یہ نشاندہی کی گئی کہ ہندوستانی انتہاپسند ایک ملین ای میلس‘بھیجے۔ان انتہاپسندوں نے ریٹگریس یونیورسٹی کے پروفیسر آڈرے ٹرسٹ چیکے اور ان کے خاندانوں کو اس وقت موت اور عصمت ریزی کی دھمکیاں دی جب 50 یونیورسٹیوں نے 2021 میں ہندو توا ختم کرنے کے زیر عنوان ایک کانفرنس کی تائید کی۔ قرار داد میں کہاگیا ہے کہ امریکی قانون ساز امریکی ایوان میں 1196 قرارداد منظور کرنے میں مدد کریں۔اس میں امریکی محکمہ سے خواہش کی گئی ہے کہ وہ ہندوستان کو ایک مخصوص تشویش کا موجب ملک قرار دے جیسا کہ بین الاقوامی مذہبی آزادی پر امریکی کمیشن کی جانب سے سفارش کی گئی ہے۔ٹی ڈی ایم سی کے رکن مارگوٹ فشر نے کہاکہ عوام ہندو قوم پرستی کے ساتھ گاندھی کی تعلیمات پر تذبذب میں مبتلا ہے۔واضح رہے کہ حالیہ ہفتوں میں انسانی حقوق کی کئی تنظیموں نے نیوجرسی میں اسلام فوبیا سے متاثرہ ہندو بالادستی کے خطرات کے بارے میں منتخبہ عہدیداروں نے شعور اجاگر کرنے کے لیے ایک مہم کی قیادت کی۔