کابل ۔ افغان طالبان کے امیر مولوی ہیبت اللہ اخوندزادہ نے کہا ہے کہ دھمکی دی ہے کہ امریکہ نے بار بار انحراف کیا، منفی نتائج کا خود ذمے دار ہوگا۔ طالبان کی ویب سائٹ پر جاری کردہ بیان میں ان کا کہنا تھا کہ دوحہ معاہدے کے مطابق قیدیوں کی رہائی مذاکرات کے آغاز کے 3 ماہ بعد ہوجانا چاہیے تھی تاہم اب تک نہیں ہوئی، بلیک لسٹ سے امارت اسلامیہ کے ذمے داران کے نام اب تک نہیں نکالے گئے اور حال ہی میں معاہدے کی ایک اور خلاف ورزی یہ کی گئی کہ بیرونی افواج کے انخلا کا سلسلہ مئی سے ستمبر تک پھیلا دیا گیا حالاں کہ امارت اسلامیہ نے اپنی جانب سے معاہدے میں کیے گئے تمام وعدے شریعت کے مطابق پورے کیے۔ مولوی ہیبت اللہ نے کہا کہ ہم ایک بار پھر تاکید کرتے ہیں کہ تمام معاملات دوحہ معاہدے کے مطابق آگے بڑھائے جائیں، اب مزید اشتعال انگیز اقدامات اور انحرافات سے احتراز کیا جائے، معاہدے کی ہر شق پر عمل کیا جائے۔ طالبان سربراہ نے عیدالفطر کی مناسبت سے اپنے پیغام میں افغان قوم کو ایک جامع اسلامی نظام کی یقین دہانی کرائی ،افغان قوم سے کہا گیا کہ آزادی کے حصول کے بعد ہمارے ملک کو سب سے پہلے تعمیر نو اور معاشی و سیاسی طور پر مضبوط ہونے کی شدید ضرورت ہوگی، ہم سب اپنے ملک کی تعمیر نو اور ترقی میں پورے خلوص سے حصہ لیں تاکہ شرعی نظام کے سائے میں ایک ترقی یافتہ فلاحی ریاست قائم کرسکیں، اس کی تعمیر وترقی کے لیے اپنے ذاتی مفادات اور عہدوں کی لالچ سے بالاتر ہوجائیں۔


اپنی رائے یہاں لکھیں