ایران کے نومنتخب صدر ابراہیم رئیسی نے واضح کیا ہے کہ اگر امریکا ویانا مذاکرات میں تہران کے تمام مطالبات پورے بھی کردیتا ہے تو وہ اس صورت میں بھی صدر جوبائیڈن سے ملاقات نہیں کریں گے۔

ابراہیم رئیسی جمعہ کو ایران میں منعقدہ صدارتی انتخابات میں اپنی جیت کے بعد سوموار کو پہلی نیوزکانفرنس میں گفتگو کررہے تھے۔وہ اگست کےاوائل میں صدارتی منصب سنبھالیں گے۔

ان سے یہ سوال کیا گیا تھا کہ اگر امریکاپہلے ایران کے مطالبات کوپورا کردیتا ہے تو کیا وہ دونوں ملکوں کے درمیان تنازعات کے حل کے لیے جوبائیڈن سے ملنے کو تیارہوں گے؟اس کے جواب میں انھوں دوٹوک اندازمیں کہا: ’’نہیں۔‘‘

انھوں نے امریکا پر زوردیا کہ وہ جوہری سمجھوتے میں دوبارہ شامل ہوجائے اور ایران کے خلاف عاید کردہ تمام پابندیوں کو ختم کردے۔’’ایران کے خلاف عاید کردہ تمام پابندیاں ختم ہونی چاہییں اور تہران کواس کی تصدیق کرنی چاہیے‘‘۔ ان کا کہنا تھا۔

امریکا اور ایران 2015ء میں طے شدہ جوہری سمجھوتے کی بحالی کے لیے اپریل سے ویانا میں بالواسطہ بات چیت کررہے ہیں۔امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ 2018 میں یک طرفہ طورپر اس سمجھوتے سے دست بردار ہوگئے تھے اور انھوں نے ایران کے خلاف سخت پابندیاں عاید کردی تھیں۔