امریکااورسعودی عرب میں شراکت داری کی کیا اہمیت ہے؟ شہزادی ریماکیاکہتی ہیں؟

89

واشنگٹن میں متعیّن سعودی سفیرشہزادی ریما بنت بندر نے کہا ہے کہ’’امریکا اورسعودی عرب کے درمیان دوطرفہ تعلقات دنیا کے لیے انتہائی ضروری ہیں‘‘۔انھوں نے ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم میں ایک پینل گفتگو میں کہا کہ ’’بعض اوقات ممالک کے درمیان اختلافات ہوتے ہیں لیکن ایک مضبوط شراکت داری بھی ہوتی ہے اور یہ شراکت داری ہی ایک زیادہ مستحکم دنیا پیدا کرتی ہے‘‘۔

ان کا کہنا تھا:’’اہم بات یہ تسلیم کرنا ہے کہ ہم تزویراتی شراکت دارہیں اور ہم 80 سال سے زیادہ عرصے سے دوست ہیں اور ہم ایک دوسرے کے ساتھ وقتِ ضرورت اورہراہم موقع پرشانہ بشانہ کھڑے رہے ہیں‘‘۔شہزادی ریما نے سعودی عرب کی افرادی قوت میں خواتین کی زیادہ تعداد کی اہمیت پرزوردیا اور بتایا کہ 2022ء میں سعودی عرب میں خواتین کی افرادی قوت میں شرکت 37 فی صد تک پہنچ گئی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’جب ہم عدم مساوات کی بات کرتے ہیں اورپائیداری کی بات کرتے ہیں تواگر آپ معاشرے کے 50 فی صد حصہ کو قومی دھارے میں شامل ہی نہیں کریں تو آپ ایک پائیدارمعیشت نہیں بن سکتے‘‘۔اسی پینل میں آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالیناجارجیفا نے بھی سعودی عرب کی افرادی قوت میں خواتین کی تعداد میں اضافے کے ساتھ ساتھ مستقبل میں معاشی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے حکومت کی جانب سے کی جانے والی اصلاحات اور سرمایہ کاری کوسراہا ہے۔

سعودی وزیرخزانہ محمدالجدعان نے اس پینل میں گفتگوکرتے ہوئے مملکت کی معیشت کے لیے چین اور دیگرممالک کے ساتھ خارجہ تعلقات کی اہمیت پر زور دیا۔انھوں نے کہا کہ چین سعودی عرب کے لیے بہت اہم ہے،امریکا اس کا بہت اہم تزویراتی شراکت دار ہے جبکہ چین سعودی عرب کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔