امتحان رد کروانے کے لیے دو اسکول کی بس کو بم سے اڑانے کی دھمکی، طالب علم گرفتار

205

امرتسر: فتح گڑھ چوریا روڈ میں واقع اسپرنگ ڈیل سینئر اسکول کو بم سے اڑانے کی دھم کی دینے کے الزام میں پولیس نے امرتسر کے ایک اسکول سے ایک طالب علم کو گرفتار کیا۔ڈی سی پی (جانچ) مکھوندر سنگھ بھلر نے منگل کو بتایاکہ اسکول انتظامیہ نے 16ستمبر کو اسکول کو اڑانے کی دھمکی والے واٹس ایپ کو اسکرین شاٹ کے ساتھ شہر کی پولیس سے رابطہ کیا۔ انھوں نے کہا،”جانچ کے درمیان، ہم نے پایا کہ یہ پیغام دسویں جموعت کے طالب علم نے بھیجا تھا۔ طالب علم فرضی ڈر پھیلا کر اپنا امتحان رد کرانا چاہتا تھا۔

بھلر نے بتایا کہ پیر کو دیر شام انسٹا گرام میسیج میں امرتسر کے اسپرنگ ڈیل اسکول کو بم اڑانے سے دھمکی دی۔ دھمکی دینے والے نے خور کو عبدالروزہ بتایا اور 16ستمبر کو بم سے اڑانے کی دھمکی دی۔ اسکول کو پم سے اڑانے کا پیغام ملتے ہی اسکول میں تہلکہ برپا ہو گیا۔ اسکول انتظامیہ نے معاملے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کو مطلع کیا۔ انھوں نے کہا کہ اسکول کے باہر حفاظتی انتظامات بڑھا دی ہے۔پیغام انگریزی اور اردو میں لکھا تھا۔

اس میں لکھا ہے کہ 16ستمبر کو اسکول میں پلانٹیشن ڈرائیو ہے۔ اسی دن بم دھماکہ ہوگا۔ بچ سکو تو بچ لو۔ڈی سی پی نے بتایا کہ اسکول کو بم سے اڑانے کی دھمکی دینے والے طالب علم کی پہچان کر لی گئی ہے۔ اسکول کے ان دونوں طلبہ نے 16ستمبر کو حساب کا امتحان رد کروانے کے لیے یہ پورا ڈرامہ کیا تھا،جسے دیر شام پولیس نے بے نقاب کر دیا۔ انھوں نے بتایاکہ تھانہ صدر میں جرائم کا معاملہ درج کر کے ایک کو گرفتار کر لیاہے، جبکہ دوسرے کی گرفتاری کے لیے چھاپہ ماری کر رہی ہے۔

بھلور نے بچوں کے لواحقین سے اپیل کی ہے کہ اگر کوئی بچہ اس طرح کی شرارت کرتا ہے تو اس کی پوری ذمے داری اس کے گھروالوں کی ہوگی۔ بچوں کو اسمارٹ فون دینے سے پہلے یہ یقین کرنا چاہئے کہ ان کا بچہ اس طرح کا کوئی قدم نہ اٹھائے۔ ایسے بہت سے بچے ہیں جنھوں نے انسٹاگرام پر چار پانچ فرضی اکاؤنٹ بنا رکھے ہیں۔

انھوں نے شہر کے تمام اسکولوں سے کہا کہ اگر کسی اسکول کو سائبر اور ٹریفک کنٹرول سیل کی ضرورت ہوگی توپولیس اسکول میں سیمینار کروا سکتی ہے۔قابل ذکر ہے کہ کچھ دن پہلے امرتسر کے ڈی اے وی اسکول کو بھی بم سے اڑانے کا پیغام وائرل ہوا تھا۔ اس کی تفتیش میں پتہ چلا تھا کہ اسکول کے نویں جماعت کے طالب علم نے آٹھ ستمبر کو پرنسپل کو دھمکی بھرے پیغام بھیجے تھے۔ پیغام میں اسکول میں گولیاں مارنے اور بم سے اڑانے کی دھمکی کی دی گئی۔