امانت اللہ کی گرفتاری پر سسودیا برہم، لیڈروں کو توڑنے کے لیے آپریشن لوٹس جاری

206

نئی دہلی ؛دہلی کے نائب وزیر اعلی منیش سسودیا نے بی جے پی حکومت پر تنقید کی ہے۔ انہوں نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ اس سے قبل انہوں نے ستیندر جین کو گرفتار کیا تھا، لیکن عدالت میں ان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہیں۔

انہوں نے میرے گھر پر چھاپہ مارا، کچھ نہیں ملا۔ پھر کیلاش گہلوت کے خلاف فرضی تحقیقات شروع کی، اور اب امانت اللہ خان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے ایک ایک لیڈر کو توڑنے کے لیے آپریشن لوٹس جاری ہے۔

منیش سسودیا نے یہ بات امانت اللہ خان کے ایک ٹوئٹ کو ری ٹوئٹ کرتے ہوئے کہی۔ اس میں لکھا ہے، "امانت صاحب کے اے سی بی دفتر جانے کے بعد، پولیس افسران گھر پہنچے اور تلاشی لی۔

اس ویڈیو میں واضح طور پر سنا جا سکتا ہے کہ پولیس اہلکار کہہ رہے ہیں کہ تلاشی کے دوران کچھ نہیں ملا۔ لیکن میڈیا جسے جمہوریت کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے جھوٹی خبریں پھیلا کر گمراہ کر رہا ہے۔

امانت اللہ خان کو جمعہ کو کیا گیا تھا گرفتار
غور طلب ہے کہ جمعہ کو انسداد بدعنوانی بیورو (اے سی بی) کی ٹیم نے دہلی کے اوکھلا سے عام آدمی پارٹی کے ایم ایل اے امانت اللہ خان کے گھر پر چھاپہ مارا اور اس چھاپے میں ہوئی ریکوری کی بنیاد پر دیر شام انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ چھاپوں کے دوران ان کے ٹھکانوں سے بھاری نقدی سمیت متعدد شواہد کی برآمدگی کی بنیاد پر انہیں گرفتار کیا گیا ہے۔