اماراتی اسکولوں میں ہولوکاسٹ پڑھانے کااعلان

496

امریکا میں متحدہ عرب امارات کے سفارت خانے نے کہا ہے کہ ملک بھرکے پرائمری اور ثانوی اسکولوں میں تاریخ کی جماعتوں میں ہولوکاسٹ کے بارے میں تعلیم دی جائے گی۔سفارت خانہ نے پیرکے روز امارات میں پڑھائے جانے والے ہولوکاسٹ کے مجوزہ نصاب اور تعلیمی حکام کے بارے میں کوئی تفصیل فراہم نہیں کی جبکہ ادھر یواے ای میں کسی سرکاری عہدہ داریا محکمے کی جانب سے اس اعلان پرکوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا۔تاہم یہ اعلان متحدہ عرب امارات کی جانب سے 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی ثالثی میں اسرائیل سے طے شدہ معاہدہ ابراہیم کے تحت تعلقات کومعمول پرلانے کے اقدامات کے ضمن میں سامنے آیا ہے۔

سفارت خانہ نے ایک ٹویٹ میں اس معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ’’تاریخی ابراہیم معاہدہ کے تناظرمیں(متحدہ عرب امارات) اب پرائمری اور اسیکنڈری اسکولوں کے نصاب میں ہولوکاسٹ کو شامل کرے گا‘‘۔اس معاہدے کے تحت بحرین اور بالآخرمراکش نے بھی اسرائیل کوبہ طور ریاست تسلیم کیا تھا اور اس کے ساتھ معمول کے تعلقات استوار کیے تھے۔صہیونیت دشمنی پرنظر رکھنے اور اس سے نمٹنے کے لیے امریکا کی خصوصی ایلچی ڈیبورا ای لپسٹڈٹ نے اپنے ٹویٹ میں اس اعلان کی تعریف کی ہے۔

انھوں نے ہولوکاسٹ کے لیے عبرانی لفظ ’ شوآ‘ استعمال کرتے ہوئے لکھا کہ’’ہولوکاسٹ کی تعلیم انسانیت کے لیے لازمی ہے اور بہت سے ممالک طویل عرصے سے سیاسی وجوہ کی بنا پراس کو کم تر سمجھتے رہے ہیں۔میں متحدہ عرب امارات کے اس اقدام کی تعریف کرتی ہوں اور امید کرتی ہوں کہ دوسرے بھی جلد ہی اس کی پیروی کریں گے‘‘۔یہ اعلان پیرکے روز ابوظبی میں نیگیف فورم ورکنگ گروپس کے اجلاس کے موقع پرسامنے آیا ہے۔اس میں بحرین، مصر، اسرائیل، مراکش، متحدہ عرب امارات اورامریکا کے حکام شرکت کررہے ہیں۔یہ فورم معاہدہ ابراہیم کے بطن سے معرض وجود میں آیا تھا۔مصرنے چاردہائی سے زیادہ عرصہ قبل اسرائیل کو سفارتی سطح پرتسلیم کرلیا تھا اوروہ اس کے ساتھ معمول کے تعلقات استوار کرنے والاپہلا عرب ملک تھا۔ہولوکاسٹ میں نازی جرمنی نے دوسری جنگ عظیم کے دوران میں منظم طریقے سے مبیّنہ طورپر60 لاکھ یورپی یہودیوں کو ہلاک کردیا تھا۔ہولوکاسٹ کے بعد 1948 میں یہودیوں کی پناہ گاہ کے طورپر قائم ہونے والا اسرائیل یہودی نسل کے کسی بھی شخص کو خود کارطریقے سے شہریت دیتا ہے۔

دیگرعرب ممالک نے اسرائیل کو سفارتی طور پر تسلیم کرنے سے انکارکردیا ہے کیونکہ وہ اسرائیل کے زیرقبضہ فلسطینی سرزمین پر فلسطینیوں کے لیے ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام چاہتے ہیں۔متحدہ عرب امارات کے سفارت خانے کی جانب سے اس اعلان سے ایک ہفتہ قبل ہی اسرائیلی کابینہ کے ایک سخت گیرصہیونی قوم پرست وزیرنے مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) میں مسجد اقصیٰ کا دورہ کیا تھا۔یواے ای ،سعودی عرب اور دیگرعرب ممالک نے ان کے اس دورے کی مذمت کی تھی۔