الہ آباد۔ الہ آباد یونیورسٹی وائس چانسلر سنگیتا سریواستو نے ضلع مجسٹریٹ کے نام کے ایک مکتوب تحریر کرتے ہوئے ”اذان“ کے لئے لاؤڈ اسپیکر پر امتناع کا استدلال کیاہے‘ اس ضمن میں ہائی کورٹ کے احکامات کا حوالہ دیا او رکہاکہ اس سے ان کی نیند میں خلل پڑرہا ہے اوران کا کام بھی متاثر ہورہا ہے۔

اپنے مکتوب میں سریواستو نے لکھا کہ قریب کی مسجد سے صبح کی نماز کے لئے5:30صبح کو دی جانے والی اذان سے ان کی نیند ہر صبح متاثرہورہی ہے‘ اور مزیدکہاکہ جس کی وجہہ سے ان کی نیند پوری نہیں ہورہی ہے اور انہیں سردرد کی شکایت رہتی ہے اور سارے دن اس کی وجہہ سے ان کا نام متاثر ہورہا ہے۔

ضلع مجسٹریٹ سے استدلال کرتے ہوئے مذکورہ وائس چانسلر نے کہاکہ سیول لائنس مسجدکو اذان کے لئے لاؤڈ اسپیکر کے استعمال سے روکیں اور ا س ضمن میں ہائی کورٹ کے فیصلوں کابھی حوالہ دیاہے۔

انہوں نے کہاکہ میں کسی مذہب یا عقیدہ کے خلاف نہیں ہوں۔ وہ بغیر مائیک کے بھی اذان دے سکتے ہیں جس سے کسی کو مشکل نہیں ہوگی۔ عید سے قبل بھی 4:00بجے صبح وہ سحری کا اعلان مائیک سے کرتے ہیں۔

دوسرے لوگوں کو اس سے بھی مشکل پیدا ہورہی ہے۔انہوں نے الہ آباد ہائی کورٹ کے احکامات کا حوالہ دیا او رکہاکہ آپ (ضلع مجسٹریٹ) کی فوری کاروائی قابل ستائش ہوگی اور لوگوں کو لاؤڈ اسپیکرس کی وجہہ سے درپیش پریشانی سے راحت ملے گی۔


اپنی رائے یہاں لکھیں