اللہ کاعذاب کب آتا ہے اور کیوں آتا ہے ؟

ابونصر فاروق/رابطہ:8298104514-62878800551

ٍٍ ” ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا۔ اس نے کہا ، اے برادران قوم!اللہ کی بندگی کرو اُس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے۔ میںتمہارے حق میں ایک ہولناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔“ (اعراف:۹۵)”آخر کاراُن لوگوں نے کہا کہ اے نوح! تم نے ہم سے جھگڑا کیا اور بہت کر لیا۔اب تو وہ عذاب لے آو¿ جس کی تم ہمیں دھمکی دیتے ہو اگر تم سچے ہو۔نوح نے جواب دیا وہ تو اللہ ہی لائے گا اگر چاہے گا اور تم اتنا بل بوتا نہیں رکھتے کہ اُسے روک دو۔“ (ہود: ۲۳ /۳۳ ) ”نوح پر وحی کی گئی کہ تمہاری قوم میں سے جو لوگ ایمان لا چکے ، بس وہ لاچکے، اب کوئی ماننے والا نہیں ہے۔ان کے کرتوتوں پر غم کھانا چھوڑ دو اور ہماری نگرانی میں ہماری وحی کے مطابق ایک کشتی بنانی شروع کر دو اور دیکھو جن لوگوں نے ظلم کیا ہے اُن کے حق میں مجھ سے کوئی سفارش نہ کرنا۔یہ سارے کے سارے اب ڈوبنے والے ہیں۔نوح کشتی بنارہا تھا اور اُس کی قوم کے سرداروں میں سے جو کوئی اُس کے پاس سے گزرتا وہ اُس کامذاق اڑاتاتھا۔اُس نے کہااگر تم ہم پر ہنستے ہو تو ہم بھی تم پر ہنس رہے ہیں، عنقریب تمہیں خود ہی معلوم ہو جائے گا کہ کس پر وہ عذاب آتا ہے جو اُسے رسوا کر دے گا اور کس پر وہ بلا ٹوٹ پڑتی ہے جو ٹالے نہ ٹلے گی۔یہاں تک کہ جب ہماراحکم آ گیااور وہ تنور ابل پڑا تو ہم نے کہا ہر قسم کے جانوروں کا ایک جوڑا کشتی میں رکھ لو ، اپنے گھر والوں کو بھی،سوائے اُن لوگوں کے جن کی نشاندہی پہلے کی جاچکی ہے،

♨️Join Our Whatsapp 🪀 Group For Latest News on WhatsApp 🪀 ➡️Click here to Join♨️

اس میں سوار کرا دو اور اُن لوگوں کو بھی بٹھا لو جو ایمان لا ئے ہیں۔اور تھوڑ ے ہی لوگ تھے جو نوح کے ساتھ ایمان لائے تھے۔ سوار ہو جاو¿ اس میں، اللہ ہی کے نام سے ہے اس کا چلنا بھی اور ٹھہرنا بھی، میرا رب بڑا غفور و رحیم ہے۔کشتی اُن لوگوں کو لئے چلی جارہی تھی اور ایک ایک موج پہاڑ کی طرح اٹھ رہی تھی۔ نوح کا بیٹا دور فاصلے پر کھڑا تھا۔نوح نے کہا بیٹا ہمارے ساتھ سوار ہو جا، کافروں کے ساتھ نہ رہ۔ اُس نے پلٹ کر جواب دیا،میں ابھی ایک پہاڑ پر چڑھا جاتا ہوں جو مجھے بچالے گا۔ نوح نے کہا آج کوئی چیز اللہ کے حکم سے بچانے والی نہیں ہے سوائے اس کے کہ اللہ ہی کسی پر رحم فرمائے۔اتنے میں ایک موج دونوں کے درمیان حائل ہو گئی اور وہ بھی ڈوبنے والوں میں شامل ہو گیا۔ حکم ہوا اے زمین، اپنا سارا پانی نگل جا،اور اے آسمان رک جا۔ چنانچہ پانی زمین میں بیٹھ گیا، فیصلہ چکا دیا گیا۔ کشتی جودی(پہاڑ) پرٹک گئی اور کہہ دیا گیا، دور ہوئی ظالموں کی قوم۔“(ہود:۶۳/۴۴)

ان آیتوں میں یہ بات کہی جارہی ہے کہ اللہ نے اپنے نبیوں ، اہل ایمان، نیک اور صالح بندوں کو زمین پر اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ ایمان و اسلام سے محروم آبادیوں کو اللہ کی بندگی، اطاعت اور تابع داری کی تعلیم دیں اور اُنہیں دنیا اور آخرت کی تباہی اور بربادی سے بچانے کی کوشش کریں۔یہ کام اہل ایمان کا فرض بھی ہے اور انسانی آبادی کے ساتھ اُس کی خیر خواہی بھی ہے۔نوح علیہ السلام یہ کام ایک ہزار سال تک کرتے رہے، لیکن قوم کے جو خوشحال اور اونچے لو گ تھے، اُنہوںنے اپنے نبی کی بات نہیں مانی۔صرف اتنا ہی نہیں کہ بات نہیں مانی بلکہ الٹا اُن سے لڑنے اور اُن کو دھمکیاں دینے لگے۔آخر کار اللہ نے اُن کے لیے سدھرنے کی جو مہلت طے رکھی تھی وہ ختم ہو گئی اور پھر اللہ کافیصلہ ہوگیا کہ اب اُن پر عذاب بھیج دیا جائے۔پانی کا عذاب آیا اور اُس وقت کی موجود پوری دنیا ختم ہو گئی۔پھر کشتی پر جو لوگ سوار تھے وہ جودی پہاڑ سے نیچے اترے اور مختلف سمتوں میں پھیل گئے۔ پھر اُن لوگوں سے جو نسل چلی وہی زمین پر آج تک آباد ہے۔
دوسرا سبق یہ ملتا ہے کہ اس وقت کی جوموجودہ دنیا ہے وہ رحمت عالم ﷺ کی امت ہے۔اس امت پر ایسا عذا ب نہیں آئے گا کہ پوری قوم ختم کر دی جائے۔اس کے نہایت نافرمان، ظالم اور بدکار حصے پر عذاب آئے گا۔اس وقت یہ جو وبائی بیماری آئی ہے وہ اللہ تعالیٰ کا عذاب ہے۔اس کی شروعات ایک ایسے ملک سے ہوئی جو نہ صرف بے دین ہے بلکہ خداپرستی کا ہی انکار کرنے والا ہے۔نہ خدا پر ایمان رکھتا ہے اور نہ خدائی نظام کو مانتا ہے۔اُس کی نافرمانی کی انتہا یہ ہے کہ جن جانداروں کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے اُن کو بے تکلف کھاتا ہے اور کچا بھی کھاجاتا ہے۔حرام غذا کھانے سے انسان کادل اور دماغ بھی سڑ جاتا ہے اور اُس کا جسم بھی بیماریوں کا خزانہ بن جاتا ہے۔پھر اس بے دین قوم کا ایک ظلم یہ بھی ہوا کہ اس نے اللہ کے اہل ایمان بندوں کا اپنے ملک میں جینا حرام کردیا۔تب اللہ تعالیٰ نے اس قوم پر ایسا وبائی مرض بھیجا جس کا کوئی علاج ہی نہیں ہے۔اس قوم پر یہ عذاب تین طرح سے آیا۔ایک تو یہ کہ پورا ملک موت کے خوف سے لرز گیا اور ڈر کی فضا میں سانس لینے لگا۔ دوسرے یہ کہ اس کی ایک بڑی آبادی بے کسی اور کس مپرسی کے عالم موت کا شکار ہو گئی۔تیسرے یہ کہ معاشی طور پر یہ ملک جودنیا کا سپر پاور بن گیا تھا،اُس پر اوس پڑ گئی اور یہ خارش زدہ کتے کی طرح اب دنیا کے سامنے موجود ہے۔
گنہگا صرف اس ملک کے ہی لوگ نہیں تھے۔مغربی ملکوں میں بھی اہل ایمان کے ساتھ ظلم اور زیادتیاں ہورہی تھیں، اس لیے اللہ کا یہ عذاب چین سے نکل کر مغربی ملکوں کی طرف بڑھااوروہاں بھی تباہی مچانے لگا۔ خوف کا ایسا ماحول پیدا ہو گیا کہ لوگ اپنے گھروں میں بند ہو گئے۔نافرمان اور بدکار انسانوںکی ایک بڑی تعداد کتے کی موت کر گئی۔اور معاشی اعتبار سے وہ بھی دیوالیہ پن میں مبتلا ہو گئے۔پھر وہاں سے یہ عذاب ایشیا کی طرف بڑھا اور ایشیا کے ملکوں میں اللہ کے اہل ایمان بندوں پر جو ظلم ڈھایا جارہا تھاوہ سب لوگ اس عذاب کا شکار بن گئے۔اس عذاب کا علاج دنیا کی کسی طاقت کے پاس نہیں ہے اور نہ ہوگا۔یہ عذاب اب اُس وقت ٹلے گا جب یہ نافرمان قومیں اپنے گناہوں سے توبہ کریں اور اللہ کی فرماں بردار بن کر رہنے کا عزم و ارادہ کریں۔دوسری صورت میں یہ عذاب جتنے لوگوں پر نازل ہونا طے ہے اپنی وہ تعداد پوری کرکے رخصت ہو جائے گا اور دل دہلا دینے والی یادیں چھوڑ جائے گا تاکہ لوگ اس سے عبرت حاصل کریں۔لیکن باقی رہنے والی انسانی آبادی نے اس سے سبق حاصل نہیں کیا تو تھوڑے دن کے بعد پھراسی طرح کا کوئی دوسرا عذاب آئے گااور پھر ایسی ہی صورت حال پیدا ہو جائے گی۔
تیسرا سبق یہ ملتا ہے کہ اہل ایمان صالح لوگوں سے رشتہ داری یا کسی اور طرح کا تعلق کسی بدکار، ظالم اور نافرمان کو اللہ کے ایسے عذاب سے نہیںبچا نہیں سکتا ہے۔نوح علیہ السلام کا اپنا بیٹا جو اپنے باپ کی دعوت پر ایمان لانے کو تیار نہیں تھا وہ بھی اس عذاب کا شکار ہو گیا۔ چنانچہ وہ نسلی اور نقلی مسلمان جن کو اللہ تعالیٰ نے مسلم گھرانوں میں پیدا کر کے اللہ کا نیک اور فرماں بردار بندہ بننے کی سہولت مہیا کر دی لیکن پھر ان بدنصیبوں نے اپنے نبی اور صالح لوگوں کی پیروی کرنے کی جگہ منکر اور مشرک قوموں کی نقل کر کے صرف دنیا کمانے اور عیش و عشرت کی زندگی گزارنے لگے اور اللہ ، نبی اور آخرت کو بھول گئے، اُن پر دو طرح سے عذاب نازل ہوا۔ایک یہ کہ اُن کے اہل وطن اُن کے جانی دشمن بن گئے اور جو مال و دولت و جائیداد ان نسلی اور نقلی مسلمانوں نے حرام اور ناجائز طریقے سے جمع کر رکھی تھی وہ اُن سے محروم کر دیے گئے اوراُن کی جان اور مال دونوں پر آفت آگئی۔اس کے علاوہ جو موجودہ عذاب آیا ہے اُس سے یہ بھی اُسی طرح ڈر اور خوف میں پڑ گئے جس طرح منکر و مشرک قومیں لرز رہی ہیں۔اس آفت کی گھڑی میں اللہ کے نیک اور صالح بندے سکون اور اطمینا ن سے زندگی کے دن گزار رہے ہیں، اس یقین کے ساتھ کہ اللہ کے حکم کے بغیر اُن پر کوئی آفت آہی نہیں سکتی ہے اور اُن کو کوئی نقصان پہنچ ہی نہیں سکتا ہے۔اگر اس بیماری میں اُن کی جان چلی بھی گئی تو اُن کو شہید ہونے کا ثواب ملے گا۔ شہید کی موت ایک ایسی موت ہے کہ مرنے والوں کے وارثوں کو لوگ اس موت پر مبارک باد دیتے ہیں۔شہادت کا درجہ اپنے آپ میں اللہ کا ایک بہت بڑا انعام ہے۔
مومن کی پہچان ہی یہی ہے کہ وہ موت سے نہیں اللہ سے ڈرتا ہے۔گھروں میں بند رہنے پر بھی اُس کے رزق میں کمی نہیں ہوگی چونکہ وہ اپنی کوششوں کے ساتھ ساتھ اللہ کے رزاق ہونے پربھی ایمان و یقین رکھتا ہے۔اللہ جل شانہ¾ اُس کو ویسے ہی روزی مہیا کرے گا جیسے نو مہینے تک ماں کے پیٹ میں پلنے والے بچے کو روزی دیتا رہتا ہے۔موجودہ وبائی مرض سے بچاو¿ کے لیے جو تدابیربتائی جا رہی ہیں اللہ کے نیک اور صالح بندے اُن کا اہتمام پہلے سے ہی کررہے ہیں۔وہ صرف صاف ستھرے ہی نہیں رہتے بلکہ پاک اور باوضو بھی رہتے ہیں۔نماز کے پابند ہوتے ہیں جو عبادت کے ساتھ ایک اعلیٰ درجہ کی ورزش بھی ہے۔وہ محتاج اور ضرورت مند لوگوں کی مدد اور خدمت کرتے رہتے ہیں اور اُن لوگوں کی دعائیں اُن کے لیے بلاو¿ ں اور آفتوں سے ڈھال بن کر اُن کی حفاظت کرتی ہیں۔یہ لوگ بلا ضرورت گھر سے باہر نہیں رہتے اور سیر سپاٹے اور آوارہ گردی میں اپنا وقت ضائع نہیں کرتے۔یہ کام سے بچا ہوا اپنا فاضل وقت اپنے گھر والوں کے ساتھ گزارتے ہیں اور اُن کی آصلاح وتربیت اور دینی تعلیم میں خر چ کرتے ہیں۔ اس لیے گھر کے اندر رہنا اُن کے لیے آفت نہیں اُن کی زندگی کا معمول ہے۔اللہ کے نیک اور صالح بندے ایسی نورانی اور روحانی طاقتوں کے مالک ہوتے ہیں کہ وہ اپنے قریب آنے والوں میں بیماریاں نہیں پھیلاتے بلکہ اپنی نورانی اور روحانی کرنوں اور حرارت سے اپنے قریب رہنے والوں کو ایسی نورانی برقی لہریں عطا کرتے ہیں جو اُن کی روح، جسم، د ل اور دماغ میں موجود برائی اور گناہ کے سارے جراثیم کو ہلاک کرکے اُن کو بھی نورانی اور روحانی ہستیاںبنا دیتی ہیں۔یہ طرز بیاں یوں تواثردار حسیں۔اللہ ہدایت کا اسے ذریعہ بنا دے۔(صارم)

یہ بھی پڑھیں:  اللّٰہ کے واسطے نکاح آسان کرو

٭٭٭٭٭٭

WARAQU-E-TAZA ONLINE

I am Editor of Urdu Daily Waraqu-E-Taza Nanded Maharashtra Having Experience of more than 20 years in journalism and news reporting. You can contact me via e-mail waraquetazadaily@yahoo.co.in or use facebook button to follow me