گزشتہ پانچ دنوں سے 6 سالہ کشمیری بچی ماہ رو خان کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہو رہی ہے جس میں وہ ’السلام علیکم مودی صاحب‘ کہتے ہوئے اپنا مسئلہ بیان کرتی ہے۔ اس معصوم بچی کا اندازِ تخاطب تو لوگوں کو پسند آ ہی رہا ہے، ساتھ ہی اس کا مسئلہ جان کر بھی لوگ پی ایم مودی سے گزارش کرتے دیکھے گئے کہ وہ اس کی باتوں پر غور کریں۔ اب خبر آ رہی ہے کہ بچی کی باتوں کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے اس کی پریشانی دور کر دی گئی ہے۔

 

 دراصل ویڈیو میں 6 سالہ بچی اپنی آن لائن کلاسز کے بارے میں وزیر اعظم نریندر مودی کو بتا رہی ہے اور کہہ رہی ہے کہ اسے کس طرح کے مسائل کا سامنا ہے۔ وہ طویل آن لائن کلاسز اور حد سے زیادہ ہوم ورک دیئے جانے سے بہت پریشان ہے اور ویڈیو میں بتاتی ہے کہ صبح اٹھنے کے بعد 10 بجے سے دوپہر کے 2 بجے تک اسے آن لائن کلاس کرنا ہوتا ہے۔ وہ یہ بھی بتاتی ہے کہ اس دوران انگلش، ریاضی، اردو، ای وی ایس اور کمپیوٹر کی کلاس ہوتی ہے۔ وہ کہتی ہے کہ ’’میڈم اور سر 6 سال کے بچوں کو اتنا سارا کام کیوں دیتے ہیں۔ اتنا کام تو بڑے بچوں کو دیا جاتا ہے۔‘‘ کشمیری بچی نے آن لائن کلاسز کی گائیڈ لائن بدلنے کی اپیل وزیر اعظم نریندر مودی سے کی، اور اس تعلق سے کشمیر انتظامیہ نے فوری طور پر احکام بھی جاری کر دیئے ہیں۔

 

بچی کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد یکم جون سے آن لائن کلاسز کی گائیڈ لائن میں تبدیلی کا اعلان کیا گیا۔ گویا کہ گزشتہ منگل سے چھوٹے بچوں پر آن لائن کلاسز کا بوجھ کم ہو گیا ہے۔ 6 سالہ بچی کی ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے جموں و کشمیر لیفٹیننٹ گورنر دفتر کے آفیشیل ٹوئٹر ہینڈل سے ایک پوسٹ بھی کی گئی جس میں لکھا گیا کہ ’’اسکولی بچوں پر ہوم ورک کا بوجھ کم کرنے کے لیے محکمہ اسکولی تعلیم کو 48 گھنٹے کے اندر پالیسی بنانے کا حکم دیا گیا ہے۔ بچپن کی معصومیت بھگوان کا تحفہ ہے اور ان کے دن یادگار اور لطف سے بھرے ہونا چاہیے۔‘‘

بہر حال، کشمیر انتظامیہ کے ذریعہ جاری نئی گائیڈ لائن کے مطابق درجہ ایک سے 8 کے لیے آن لائن کلاسز 90 منٹ سے زائد نہیں ہوں گے اور دو سیشن میں منعقد کی جائیں گی۔ سینئر گریڈ، درجہ 9 سے 12 کے لیے آن لائن کلاسز تین گھنٹے تک محدود رہیں گے۔

لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کلاسز کی مدت کم کرنے کے حکومت کے فیصلہ پر بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’’والدین کے ساتھ بات چیت کے لیے کسی دیئے گئے دن کو پری-پرائمری صرف 30 منٹ کا ہوگا۔ متعلقہ افسر سختی سے عمل درآمد یقینی بنائیں۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے کہا ہے کہ ’’درجہ 5 تک کے طلبا کو ہوم ورک دینے سے بچیں۔ متعلقہ اتھارٹیز اور اسکول پڑھانے کا ایسا طریقہ اختیار کریں جس میں والدین بھی شامل ہوں۔ ہمارے بچوں کو کھیلنے، والدین کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے مزید وقت چاہیے، جو بچوں کے لیے سب سے بڑا سیکھنے کا تجربہ ہو سکتا ہے۔‘‘