الاحسا سے مکہ تک غلاف کعبہ کی تیاری کا سفر کیسے طے ہوا؟

159

حرمین شریفین کے انتظامی امور کا ذمہ دار ادارہ صدارت عامہ برائے امور حرمین شریفین حسبِ روایت غلاف کعبہ [کسوہ] کو166 تکنیکی ماہرین اور اسے تیار کرنے والوں کی موجودگی میں تبدیل کرے گا۔ پرانے غلاف کو ہٹا کر اس کی جگہ نیا غلاف بیت اللہ کی زینت بنایا جائے گا۔

 

غلاف کعبہ کی تبدیلی کی تیاریوں کے جلو میں کچھ ماہرین نے دنیا کے اس عظیم غلاف کی تیاری کی تاریخ پر روشنی ڈال کر اس کے تابندہ ماضی کو تازہ کیا ہے۔غلاف کعبہ شریف کی تیاری کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو پتا چلتا ہے کہ صدیوں پہلے مصر میں خانہ کعبہ کا غلاف تیار کیا جاتا تھا اور اسے طویل سفر طے کر کے حجاز مقدس لایا جاتا اور کعبہ شریف کی زینت بنایا جاتا۔

کچھ عرصہ پیشتر غلاف کعبہ کی تیاری مملکت سعودی عرب میں شروع ہوئی۔ سعودی عرب کے مشرقی شہر الاحسا میں 1221ھ میں خانہ کعبہ کا پہلا غلاف بنا گیا۔ ’کسوہ‘ کی مقامی سطح پر تیاری کے عمل میں انتہائی احتیاط برتنے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ اس کے اعلیٰ ترین معیار کو برقرار رکھا جا سکے۔ الاحسا میں کسوہ کعبہ کو مختلف ادوار میں 8 بار تیار کیا گیا۔ اس کے بعد الھفوف اور المبرز شہروں میں بھی غلاف کعبہ تیار کیا گیا۔ الاحسا میں مملکت آل سعود میں پہلی بار 1227ھ میں ’کسوہ‘ تیار کیا گیااور سنہ 1343ھ میں پہلی بارغلاف کعبہ کو مکہ معظمہ میں تیار کرنے کا عمل شروع ہوا۔

متعدد تاریخی تحقیقوں سے معلوم ہوتا ہے کہ امام سعود الکبیر 1219ھ میں حجاز میں داخل ہونے کے بعد کعبہ کا غلاف چڑھانے والے پہلے سعودی شہزادے تھے۔ ان کے ہاتھوں کعبہ پر چڑھائے گئے کسوہ کی تیاری کے دوران قیمتی سیاہ کپڑے پر سرخ رنگ سے اسے سجایا گیا تھا۔ غلاف کعبہ سنہ 622ھ سیاہ کپڑے ہی میں تیار کیا جاتا تھا۔ اس طرح مصر سے غلاف کعبہ کی آمد کا سلسلہ منقطع ہوگیا۔ امام سعود الکبیر نے غلاف کعبہ کی تیاری کے بارے میں مشورہ کیا تو ان کے مشیروں نے انہیں الاحسا میں اس کا مرکز بنانے کا کہا کیونکہ یہ علاقہ بنُائی کے کاری گروں سے مالا مال تھا۔

سنہ 1346ھ میں شاہ عبدالعزیز نے مکہ المکرمہ میں غلاف کعبہ کی تیاری کے لیے ایک خصوصی کمپلیکس بنانے کا حکم جاری کیا اور اسے "کنگ عبدالعزیز کمپلیکس برائے غلاف کعبہ” کا نام دیا گیا۔ اس میں ماہرین تیار کیے گئے جو غلاف کعبہ کے کپڑے کی تیاری سے لے کر اسے بنانے تک کے تمام مراحل میں اپنی جان لگا دیتے۔

آئندہ ہفتے ’کسوہ‘ کی تبدیلی
مسجد حرام کے امور کے انڈر سیکرٹری جنرل ڈاکٹر سعد المحمید نے کہا ہے کہ اگلے ہفتے خانہ کعبہ کے پرانے غلاف کو اتار کربیت اللہ کے چاروں اطراف میں نیا غلاف چڑھایا جائے گا۔ غلاف کے زیریں حصے میں تین اعشاریہ تین میٹر کے شاذروان کو سطح سے اوپر اٹھایا جائے گا۔
غلاف کعبہ کی تنصیب میں آخری ٹکڑا خانہ کعبہ کے باب کعبہ کا پردہ ہے جسے ’ستارہ الکعبہ‘ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ کسوہ کو تبدیل کرنے کے عمل کا سب سے مشکل مرحلہ ہے اس کے مکمل ہونے کے بعد کعبہ کے غلاف کو سفید کپڑے کے ٹھوس ٹکڑوں سے اُٹھایا جاتا ہے۔ اُنہیں شازروان (کعبہ کی سنگ مرمر کی بنیاد) سے تین میٹر بلند جسے احرام کعبہ کے عمل کے نام سے جانا جاتا ہے۔غلاف کعبہ کے لیے شاہ عبدالعزیز کمپلیکس ریشم کی تیاری، کڑھائی اور نقش ونگار کے سب سے بڑے کمپلیکس میں سے ایک ہے، جس کا آغاز ریشم کے دھاگوں کی تیاری اور بُنائی اور ریشم کے کپڑے پر علامتوں کی چھپائی سے ہوتا ہے۔

غلاف کعبہ کی تیاری میں شامل 200 کاری گر
ڈاکٹر المحمید نے بتایا کہ شاہ عبدالعزیز کمپلیکس میں تقریباً 200 مینوفیکچررز اور منتظمین غلاف کعبہ کی تیاری کے لیے کام کرتے ہیں۔ کمپلیکس کے شعبے میں لانڈری اور خودکار بنائی کا شعبہ، دستی بنائی کا شعبہ، طباعت، بیلٹ ڈیپارٹمنٹ اور سنار کا شعبہ، سلائی اور کلیڈنگ جس میں دُنیا کی سب سے بڑی سلائی مشین شامل ہے جس پر غلاف تیار کیا جاتا ہے۔ اس کی لمبائی 16 میٹر ہے اور ایک کمپیوٹر سسٹم ہے۔ کلیڈنگ تقریباً 670 کلو خام ریشم استعمال کرتی ہے جو کمپلیکس کے اندر رنگا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ 120 کلو سونے کی تار اور 100 کلو چاندی کی تار استعمال کی جاتی ہے۔
فیبرک پیٹرن
صدارت عامہ کے غلاف کعبہ کی تیاری کے عہدیدارنے وضاحت کی کہ کلیڈنگ کو باہر سے سیاہ ٹیکسٹائل دھاگوں سے بُنے ہوئے نمونوں کے ساتھ باندھا جاتا ہے جس پر "یا اللہ یا اللہ ” ، "لا إله إلا الله محمد رسول الله”،”سبحان الله وبحمده” ،”سبحان الله العظيم” اور”يا ديان يا منان” کے الفاظ لکھے جاتے ہیں۔