اقوام متحدہ نے جمعرات کو تصدیق کی کہ براعظم انٹارکٹیکا میں گزشتہ سال ریکارڈ 18.3 ڈگری سینٹی گریڈ گرمی پڑی۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اقوام متحدہ کی موسمیاتی ادارے ورلڈ مٹرولوجیکل آرگنائزیشن کے مطابق بلند ترین 18.3 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت جزیرہ نما انٹارکٹک میں موجود ارجنٹائن کے اسپرنزا ریسرچ سٹیشن پر چھ فروری 2020 کو ریکارڈ کیا گیا تھا۔

ڈبلیو ایم او کے سیکریٹری جنرل پیٹیری تالاس کا کہنا تھا کہ ’اس بلند ترین درجہ حرارت کی تصدیق بہت ہی اہم ہے کیونکہ اس سے ہمیں زمین کی آخری سرحدوں میں موسم اور آب و ہوا کی تصویر واضح کرنے میں مدد ملتی ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ جزیرہ نما انٹارکٹک دنیا کے سب سے تیزی سے گرم ہونے والے خطوں میں سے ہے جہاں گزشتہ 50 سالوں میں درجہ حرارت تین ڈگری سینٹی گریڈ بڑھا ہے۔

’اس لیے درجہ حرارت کا یہ نیا ریکارڈ جاری موسماتی تبدیلی کے پیٹرن کے مطابق ہے۔‘تاہم ڈبلیو ایم اور نے رواں سال 9 فروری کو قریبی سیمور جزیرے میں برازیل کے ایک مانیٹرنگ سٹیشن پر ریکارڈ کیے گئے 20.75ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت کو مسترد کر دیا ہے۔
انٹارکٹیکا میں اس سے قبل کا بلند ترین درجہ حرارت کا ریکارڈ 17.5 ڈگری سینٹی گریڈ تھا جو کہ اسپرنزا میں ہی 24 مارچ 2015 کو ریکارڈ کیا گیا تھا۔تاہم پورے انٹارکٹک خطے کا سب سے بلند ترین درجہ حرارت 19.8 ڈگری سینٹی گریڈ ہے جو کہ 30 جنوری 1982 کو سگنی جزیرے میں ریکارڈ کیا گیا تھا۔