• 425
    Shares

نئی دہلی: اقلیتوں کو کانگریس سے جوڑنے کے عزم کے ساتھ آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے شعبہ اقلیت کے سربراہ اور مشہور شاعر عمران پرتاپ گڑھی نے کہا کہ ناراضگی کی وجہ سے جو لوگ کانگریس سے دور ہوگئے ہیں ان سب کو کانگریس سے جوڑا جائے گا اور اقلیتوں کے ہمہ جہت مسائل کو حل کرنے کے لئے مختلف سیل قائم کئے جائیں گے۔ یہ بات انہوں نے آج یہاں اردو میڈیا کے ساتھ انٹریکشن کے دوران کہی۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں اقلیتوں کے ساتھ اندوہناک سانحات جیسے موب لنچنگ وغیرہ پیش آتے ہیں اور اس کے خلاف کمزور ایف آئی آر درج کی جاتی ہے جس سے خاطی بچ جاتے ہیں۔ اس لئے لیگل سیل کے لوگ نہ صرف قانونی مدد کے لئے حاضر ہوں گے بلکہ صحیح دفعات کے تحت ایف آئی آر بھی درج کرائیں گے۔ اسی کے ساتھ اقلیتوں کی مدد کے لئے مرکزی سطح کے ساتھ صوبائی سطح پر بھی ہیلپ لائن نمبر قائم کئے جائیں گے تاکہ اقلیتوں کے مسائل کو صحیح طریقے سے اٹھائے جاسکیں۔

 

عمران نے کہا کہ قلیتی شعبہ کو مضبوط بنانے کے لئے اہل لوگوں کو جگہ دی جائے گی اور اس لئے وہ خود تمام صوبوں کا دورہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کو تمام اقلیتوں سے مربوط کرنے کے لئے تمام اقلیتی طبقوں کے ساتھ وہ میٹنگ کریں گے اور تمام اقلیتوں کو مناسب نمائندگی دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ قلیتی شعبہ کے نیشنل باڈی کو مزید مضبوط بنایا جائے گا اور ان میں ان لوگوں کو جگہ دی جائے گی جو اپنے سماج اور علاقے میں اثر رکھتے ہوں۔

انہوں نے کہا کہ کانگریس سے اقلیتی طبقہ ناراض یا دور نہیں رہ سکتا عارضی دوری اور عارضی ناراضگی ہوسکتی ہے اور ہوسکتا ہے کہ کانگریس سے اقلیت کو شکایت بھی ہو اور ہونی بھی چاہئے کیوں کہ شکایت اسی سے ہوتی ہے جس سے تعلق اور توقع ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس ہی اقلیتوں اور کمزور طبقوں کی آواز کو اٹھا سکتی ہے یا انصاف کرسکتی ہے کیوں کہ علاقائی پارٹی علاقائی مفادات کے پیش نظر اقلیتوں کے مسائل نہ تو حل کرسکتی ہے اور نہ ان کے مفادات کی نگہبانی کرسکتی ہے اور اقلیتوں اور کمزور طبقوں کو ان کے مسائل کے ساتھ انہیں تنہا چھوڑ دیتی ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ گزشتہ سات برسوں میں کانگریس ہی وہ پارٹی ہے جو ہر محاذ پر حکومت کے خلاف لڑی ہے اور عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف سڑکوں پر اتری ہے خواہ وہ نوٹ بندی ہو، جی ایس ٹی، تین طلاق، دفعہ 370 ہو، یا سی اے اے یا این آر سی وغیرہ کے خلاف کانگریس ہی کھل کر میدان میں آئی ہے اور اس وقت کانگریس ہی تمام محاذوں میں حکومت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر رہی ہے۔ انہوں نے اقلیتوں سے ماضی کو فراموش کرکے مستقبل کی طرف بڑھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ آگے بڑھنے کے لئے بہت سی ناپسندید باتیں بھولنی پڑتی ہیں اور کانگریس کی کوشش ہوگی کہ اعتماد بحال کیا جائے اور اقلیتوں کی امنگوں پر کھرا اترا جائے۔

کانگریس کو جمہوریت کی بقا کے لئے لازمی قرار دیتے ہوئے عمران پرتاپ گڑھی نے کہا کہ کانگریسی دور حکومت میں سب کو بولنے، مخالفت کرنے اور حکومت کے خلاف اظہار رائے کی آزادی تھی لیکن موجودہ حکومت میں نہیں ہے۔ کانگریس مخالفین کی رائے کا احترام کرتی تھی جو جمہوریت کے لئے ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ حزب مخالف اگر کچھ بولتا ہے تو اسے کچل کر رکھ دیا جاتا ہے اور مخالفت کی آواز کو اس وقت میڈیا میں بھی جگہ نہیں ملتی ہے۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔