اقلیتوں پر حملوں سے متعلق ڈیٹا مرکز کے پاس موجود نہیں! حکومت کا راجیہ سبھا میں جواب

191

نئی دہلی: راجیہ سبھا میں اقلیتوں میں کئے گئے حملوں کے تعلق سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں وزارت اقلیتی امور کی ذمہ داری سنبھال رہیں اسمرتی ایرانی نے کہا کہ مرکز کے پاس اقلیتوں پر حملوں کے تعلق سے ڈیٹا موجود نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کے پاس ڈیٹا اس لئے نہیں ہے کیونکہ کسی بھی ریاست کے نظم و نسق اور اس سے وابستہ امور کا ریکارڈ رکھنا ریاستی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ نیز مرکز کی جانب سے کسی خصوصی طبقہ کے لوگوں کا ڈیٹا ریکارڈ نہیں کیا جاتا۔

راجیہ سبھا میں یہ سوال بدھ کے روز آئی یو ایم ایل (انڈین یونین مسلم لیگ) کے رکن پارلیمنٹ عبد الوہاب نے پوچھا تھا، جس کا جواب مرکزی وزیر اسمرتی ایران دے رہی تھیں۔ عبد الوہاب نے سوال کیا تھا کہ آیا گزشتہ کچھ سالوں میں اقلیتی طبقہ کے لوگوں پر حملہ کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے؟ اگر ہوا ہے تو مرکزی حکومت کی جانب سے ان کی سلامتی کے لئے کیا کیا جا رہا ہے؟ انہوں نے یہ سوال بھی کیا تھا کہ آیا مرکز کے پاس ایسا کوئی ڈیٹا ہے جس سے اقلیتوں اور ان سے وابستہ اداروں پر ہوئے حملہ کے واقعات کا پتہ چل سکے؟ اگر ایسا ہے تو مرکز اسے پیش کرے۔

اس سوال کے تحریری جواب میں متعلقہ مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی نے کہا، ’’آئین ہند کے ساتویں شیڈول کے مطابق پبلک آرڈر اور پولیس ریاست کے مضامین ہیں۔ لہذا نظم و نسق کو برقرار رکھنے، اقلیتوں سمیت تمام شہریوں کے خلاف جرائم کے اندراز اور استغاثہ کی ذمہ داری متعلقہ ریاستی حکومتوں پر عائد ہوتی ہے۔ چنانچہ مرکزی سطح پر مختلف طبقات کے خلاف حملوں سے متعلق مخصوص اعداد و شمار ریکارڈ نہیں کئے جاتے۔‘‘

مرکزی وزیر نے کہا کہ حکومت ہند نے ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے رہنما ہدایات جاری کی ہیں۔ نیز حکومت اس بات کی نگرانی بھی کرتی ہے کہ امن برقرار رہے۔ انہوں نے کہا، ’’ریاستوں میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے ریاستی حکومت کی درخواست پر سنٹرل آرمڈ پولیس فورسز کو تعینات کیا گیا ہے، تاکہ وہ مقامی پولیس کی مدد کر سکے۔‘‘