• 425
    Shares

واشنگٹن:امریکی سیکریٹری آف سٹیٹ انٹونی بلنکن نے تسلیم کیا ہے کہ جس افغان فوج کو انھوں نے گذشتہ بیس برس سے تربیت دی ے اور انھیں اسلحے سے لیس کیا، امریکہ ان کی طاقت اور صلاحیتوں کا درست اندازہ نہیں لگا سکا۔

ادھر افغان صدر اشرف غنی کا کہنا ہے کہ طالبان نے مجھے یہ شہر چھوڑنے پر مجبور کیا ہے کیونکہ وہ کابل اور اس کے باسیوں پر حملہ کرنے آئے تھے۔ کابل میں ایک طرف طالبان صدارتی محل پر قبضے کا دعویٰ کر رہے ہیں تو دوسری جانب کابل ایئرپورٹ سے تمام کمرشل پروازیں معطل کر دی گئی ہیں۔

امریکی صدر جو بائیڈن صرف گذشتہ ہفتے بھی تین لاکھ فوجیوں پر مبنی افغان فوج پر اعتماد کا اظہار کر چکے ہیں۔دوسری جانب طالبان جنگجوؤں کی تعداد کا اندازہ ہے کہ وہ پچاس ہزار سے ایک لاکھ کے درمیان ہیں۔

تاہم امریکی افواج کی جانب سے زمینی حمایت نہ ملنے پر حکومتی افواج نے فوراً ہتھیار ڈال دیے اور فوجی اہلاکاروں نے اپنی اپنی چوکیاں چھوڑ دیں اور کچھ واقعات میں تو فوجی بالکل بھاگ گئے۔

طالبان نے پہلا صوبائی دارالحکومت صوبہ نمروز کے شہر زرنج قابو کیا اور اگلے دس دن میں وہ پورے ملک پر حاوی ہو گئے اور اتوار کو کابل داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔