• 425
    Shares

کابل : طالبان نے دارالحکومت کابل اور صدارتی محل کا کنٹرول حاصل کرلینے کے آج ایک روز بعد عالمی برادری کے لئے واضح کردیا ہے کہ وہ کسی بھی مقتدراعلیٰ حکومت پر اثرانداز ہونے کی کوشش نہیں کریں گے بلکہ تمام بین الاقوامی اُمور میں عالمی برادری کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں ۔ طالبان کے ترجمان محمد نعیم نے ایک انٹرویو میں کہاکہ طالبان کسی اور ملک کے معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے اور چاہتے ہیں کوئی دوسرا ملک بھی ہمارے معاملات میں مداخلت نہ کرے۔ طالبان سیاسی دفتر کے ترجمان نعیم نے خلیجی خبر رساں ادارہ الجزیرہ کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ افغانستان میں دو دہے سے جاری جنگ ختم ہوچکی، اب ملک میں نئے نظام حکومت کی شکل جلد واضح ہوجائے گی۔انہوں نے کہا کہ آج طالبان کو 20 سال کی جدوجہد اور قربانیوں کا پھل مل گیا، طالبان کسی کو نقصان پہنچانا نہیں چاہتے، تمام افغان قائدین سے بات چیت کے لیے تیار ہیں اور ہر قدم ذمہ داری سے اُٹھائیں گے، طالبان عالمی برادری کے تحفظات پر بات چیت کے لیے بھی تیار ہیں۔طالبان کے ترجمان نے کہاکہ کسی کو بھی افغانستان کی سر زمین کسی کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، طالبان کسی اور ملک کے معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے اس لیے چاہتے ہیں کہ کوئی دوسرا ملک بھی ہمارے معاملات میں مداخلت نہ کرے، امید ہے غیر ملکی طاقتیں افغانستان میں اپنے ناکام تجربے نہیں دہرائیں گے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ وہ اپنے ملک اور لوگوں کی آزادی کا مقصد حاصل کرچکے ہیں، تمام افغان رہنماؤں سے بات چیت کے لیے تیار ہیں اور ان کے تحفظ کی ضمانت دیتے ہیں۔ انھوں نے کہاکہ صدر اشرف غنی کے فرار ہونے کی اُمید نہ تھی۔عالمی برادری سے پُرامن تعلقات چاہتے ہیں، کسی سفارتی ادارے یا ہیڈکوارٹر کو نشانہ نہیں بنایاگیا، شہریوں اور سفارتی مشنز کو تحفظ فراہم کریں گے، تمام ممالک اور قوتوں سے کہتے ہیں کہ وہ کسی بھی مسئلے کو حل کرنے کے لیے ہمارے ساتھ بیٹھیں، طالبان پُر امن تعلقات کے خواہاں ہیں، خواتین اور اقلیتوں کے حقوق اور آزادی کا شریعت کے مطابق خیال رکھا جائے گا۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔ 


اپنی رائے یہاں لکھیں